بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول افاداتِ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری  رحمۃ اللہ علیہ  (پہلی قسط)


’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول

 

افاداتِ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری  رحمۃ اللہ علیہ 

(پہلی قسط)

 

’’صحیح بخاری‘‘ اور اُس کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ کی اہمیت

امیر المومنین فی الحدیث، امام محمد بن اسماعیل بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’صحیح بخاری‘‘ (۱) اپنے متنوع امتیازات کی بنا پر ذخیرۂ حدیث میں منفرد حیثیت کی حامل کتاب ہے اور اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت اس کے تراجمِ ابواب (احادیث پر لگائے گئے عنوانات اور سرخیاں ) ہیں۔ حافظ ابنِ عدی رحمۃ اللہ علیہ  نے مشائخ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ’’ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  نے یہ تراجم ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے روضۂ مطہرہ اور منبرِ نبوی کے درمیان بیٹھ کر لکھے ہیں، اور ہر ترجمہ (لکھتے وقت اس کی قبولیت) کے لیے دو رکعتیں ادا فرماتے تھے۔‘‘(۲) امام نووی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
 ’’لیس مقصود البخاري الاقتصار علی الأحادیث فقط، بل مرادہ الاستنباط منہا والاستدلال لأبواب أرادھا۔‘‘
یعنی ’’امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کا مقصد صرف احادیث یکجا کرنا نہیں ہے، بلکہ ان سے استنباط اور مطلوبہ ابواب پراستدلال بھی مقصود ہے۔‘‘ (۳)
ان تراجمِ ابواب میں امام موصوفؒ کی دقت رسی اور نکتہ آفرینی کا اظہار ہوتا ہے، بعض تراجم میں پنہا دقیق استنباط اور عمیق مناسبت تک رسائی میں شارحینِ صحیح بخاری بھی سرگرداں ہیں ،اسی بنا پر ’’فِقْہُ الْبُخَارِيِّ فِيْ تَرَاجِمِہٖ‘‘ (۴) کا جملہ علمی میدان میں معروف ہے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
’’بعض لوگوں نے اس جملے کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  خود مجتہد ہیں، مگر انہوں نے فقہی مسائل میں اپنی کوئی مستقل کتاب نہیں لکھی، بلکہ فقہی مسائل کو اپنی اس کتاب کے تراجمِ ابواب ہی میں رکھ دیا ہے۔ ان حضرات نے لفظِ ’’فقہ‘‘ کے اصطلاحی معنی مراد لیے ہیں، یعنی ’’علمِ فقہ ‘‘، حالانکہ اس جملے کے اصل معنی’’ تفقہ‘‘ کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی فہم وبصیرت‘ ان کے تراجمِ ابواب سے ظاہر ہے کہ عجب اشارات وکنایات اور باریک بینی سے احادیث سے استنباطِ مسائل کرتے ہیں، جہاں بڑے بڑے لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی۔ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  نے ان تراجم میں بہت سے علوم داخل کردئیے ہیں۔‘‘(۵) 
حضرت مولانامحمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :
’’واعلم أن المصنف - رحمہ اللّٰہ - سباق غایات وصاحب آیات في وضع التراجم، لم یسبقہ أحد من المتقدمین، ولم یستطع أن یحاکیہ أحد من المتاخرین، فکان ھو الفاتح لذٰلک الباب ، وصار ھو الخاتم۔‘‘ (۶)
’’بلاشبہ تراجمِ ابواب وضع کرنے کے پہلو سے مصنف  رحمۃ اللہ علیہ  سب سے فائق اورصاحبِ کمالات ہیں، نہ متقدمین میں سے کوئی اُن سے آگے بڑھ پایا اور نہ ہی متاخرین میں سے کوئی اُن کی نقل کرسکا، وہی اس دروازے کے کھولنے اور بند کرنے والے ہیں۔‘‘ 

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ کے متعلق لکھی گئی کتب

’’صحیح بخاری‘‘ کے تراجمِ ابواب کی اہمیت کی بنا پر ہی کتاب کے شارحین اس پہلو پر خاص توجہ دیتے ہیں، نیز سلف وخلف میںسے متعدد اہلِ علم نے اسے اپنی تحقیق کا مستقل موضوع بنایا ہے، یہاں اس سلسلے کی اہم کتابوں کا اجمالی ذکر کیا جارہا ہے:
۱۔ ’’المتواري علٰی تراجم البخاري‘‘ علامہ ناصر الدین احمد ابن المُنَیِّر  رحمۃ اللہ علیہ  (۶۸۳ھ) ، موصوف نے اس کتاب میں چار سو تراجمِ ابواب پر کلام کیا ہے۔ قاضی بدرالدین ابن جماعہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس کی تلخیص کرکے کچھ اضافات کیے ہیں۔ یہ کتاب شیخ صلاح الدین مقبول کی تحقیق کے ساتھ ’’مکتبۃ المعلا‘‘ کویت سے شائع ہوئی ہے۔ نیز شیخ علی بن حسن عبد الحمید کی تحقیق کے ساتھ ’’المکتب الإسلامي‘‘ سے بھی طبع ہوئی ہے۔ 
۲:- علامہ زین الدین علی ابن المُنَیِّر  رحمۃ اللہ علیہ  (۶۹۵ھ)، موصوف‘ علامہ ناصر الدین ابن المُنَیِّر رحمۃ اللہ علیہ   کے بھائی ہیں، حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’ھدي الساري‘‘ (۷) میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔
۳:- ’’فکّ الأغراض المبھمۃ في الجمع بین الحدیث والترجمۃ‘‘ علامہ محمد بن منصورا بن حمامہ مغراوی سِجِلْمَاسِیْ رحمۃ اللہ علیہ  (سن وفات چھٹی صدی کا کوئی سال)، حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  کے بقول اس کتاب میں مصنف کا کام زیادہ نہیں، محض سو تراجم پر کلام کیا ہے۔
۴:-’’إبراز المعاني الغامضۃ في تتابع البخاري بالمعارضۃ‘‘ یہ بھی علامہ محمد بن منصور ابن حمامہ مغراوی سِجِلْمَاسِیْ  رحمۃ اللہ علیہ  کی تالیف ہے، حافظ سخاوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’الجواھر والدرر في ترجمۃ شیخ الإسلام ابن حجرؒ‘‘ میں اس کا تذکرہ کیاہے ، نیز لکھا ہے کہ یہ کتاب‘ سابقہ تالیف کے علاوہ ہے۔(۸)
۵:-’’مناسبات علٰی تراجم البخاري‘‘ قاضی بدرالدین ابن جماعہ  رحمۃ اللہ علیہ  (۷۳۳ھ) ، ڈاکٹر علی بن عبد الرحیم الزبن نے اس کتاب کی تحقیق کرکے سنہ ۱۴۰۴ھ میں ’’جامعۃ الإمام‘‘ سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے، کتاب مطبوع ہے۔
۶:-’’ترجمان التراجم‘‘ علامہ ابو عبد اللہ ابن رُشَیْد سبتی  رحمۃ اللہ علیہ  (۷۲۱ھ)، حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: ’’یہ کتاب بھی اسی مقصد سے لکھی گئی ہے، موصوف ’’کتاب الصیام‘‘ تک ہی پہنچ پائے تھے، اگر کتاب مکمل ہوجاتی تو انتہائی مفید ثابت ہوتی، لیکن ناقص ہونے کے باوجود بھی بہت مفید ہے۔‘‘ دارالکتب العلمیۃ بیروت، لبنان سے ۲۰۰۸ء میں شائع ہوچکی ہے۔
۷:- ’’تراجم البخاري الموسوم مناسبات أبواب صحیح البخاري لبعضہا بعضًا‘‘  علامہ عمر بن رسلان بُلقینی  رحمۃ اللہ علیہ  (۸۰۵ھ)، ۲۲۶ صفحات پر مشتمل یہ کتاب شیخ احمدبن فارس سلوم کی تحقیق کے ساتھ سنہ ۱۴۳۱ھ میں ’’مکتبۃ المعارف‘‘ ریاض سے شائع ہوئی ہے۔
۸:-’’الدراري في ترتیب أبواب البخاريؒ‘‘ علامہ محمد بن یحییٰ قرافی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۰۰۸ھ) ڈاکٹر نجم خلف نے ’’الاستدراکات‘‘ (ص:۲۵۲) میں اس کتاب کا ذکر کیا اور اس کے نسخوں کی جانب اشارہ کیا ہے۔
۹:-’’شرح تراجم أبواب صحیح البخاري‘‘ علامہ احمد بن عبدالرحیم معروف بہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۱۷۶ھ)، یہ رسالہ پاک وہند کے متعدد مکتبوں سے شائع ہوا ہے۔۱۴۳۹ھ میں ڈاکٹر فائز مصطفی اصطبلہ کی تحقیق کے ساتھ ’’دارالتقویٰ‘‘ دمشق شام سے شائع ہوا ہے۔ 
۱۰:-’’شرحِ تراجمِ بخاری‘‘ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۳۳۹ھ) ، پاک وہند میں ’’صحیح بخاری‘‘ کے ساتھ اور مستقل طور پر متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
۱۱:- ’’لب اللُّباب في تراجم الأبواب‘‘ شیخ عبد الحق ہاشمی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۳۹۲ھ)، شیخ نور الدین طالب کی نگرانی میں محققین کی ایک جماعت کی تحقیق کے ساتھ پانچ جلدوں میں د ارالنوادر دمشق، بیروت سے سنہ ۱۴۳۲ھ/۲۰۱۱ء میں شائع ہوئی ہے۔
۱۲:-’’ شرح تراجمِ بخاری‘‘ مولانا محمد ادریس کاندہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۳۹۴ھ)۔
۱۳:-’’الأبواب والتراجم‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۴۰۶ھ)،اس کتاب کے متعدد طبعات شائع ہوچکے ہیں، کچھ عرصہ قبل مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی مدظلہٗ کی تحقیق کے ساتھ پانچ ضخیم جلدوں میں ’’دارالقلم‘‘ دمشق، بیروت سے چھپی ہے۔
۱۴:-’’عون الباري في مناسبات تراجم البخاري‘‘ (اردو) مولانا محمد حسین میمن حفظہ اللہ، یہ کتاب مکتبہ اسلامیہ لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ (۹)
مذکورہ کتب کے علاوہ بعض اہلِ علم نے انفرادی طور پر اور عالمِ اسلام کے مختلف علمی اداروں نے حدیث کے شعبوں میں ’’صحیح بخاری‘‘ کے مختلف پہلؤوں پر تحقیقی کام کیے ہیں، اس سلسلے میں ’’تراجمِ ابوابِ بخاری‘‘ کے ضمن میں امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’فقہ‘‘ کا موضوع بھی محققین کی جولان گاہ رہا ہے، چند اہم خدمات کا ذکر کرنا مناسب ہوگا:
۱:-’’الإمام البخاري وفقہ التراجم في جامعہ الصحیح‘‘ ڈاکٹر نور الدین عتر  رحمۃ اللہ علیہ  (دمشق، شام) ’’مجلۃ الشریعۃ والدراسات الإسلامیۃ‘‘ ، کویت، بابت شمارہ :۴، سنہ ۱۴۰۶ھ/۱۹۸۵ء۔
۲:-’’فقہ التراجم والأبواب عند البخاري-دراسۃ تحلیلیۃ‘‘ سعید مصطفی، جامعہ ازہر، کلیہ اصولِ دین، سنہ ۱۴۲۴ھ، ۲۴۳ صفحات۔
۳:-’’مذھب الإمام البخاري من خلال روائع استدلالہ‘‘  مولانا محمد اسماعیل سلفی  رحمۃ اللہ علیہ  (۱۳۸۶ھ)، مولانا صلاح الدین مقبول نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کرکے اس پر حواشی بھی قلم بند کیے ہیں، ۲۱۸ صفحات پر مشتمل یہ کتاب سنہ ۱۴۳۱ھ میں ’’دارالغرس‘‘شائع ہوئی ہے۔اصل اردو کتاب کا نام ’’امام بخاریؒ کامسلک‘‘ ہے۔
۴:-’’الاتجاہ الفقہي للإمام البخاري من خلال صحیحہ‘‘ محمد احمد حسن ابراہیم، ماسٹر، جامعہ قاہرہ، دارالعلوم، کلیہ شریعہ اسلامیہ، سنہ ۱۹۹۳ء۔
۵:- ’’جامعہ ام القریٰ‘‘ میں بھی اس موضوع پر کئی مقالہ جات ترتیب دئیے گئے ہیں۔ (۱۰)

مولانا محمد یونس جونپوری  رحمۃ اللہ علیہ  اور ’’صحیح بخاری‘‘

حضرت مولانا محمد یونس جونپوری  رحمۃ اللہ علیہ  ماضی قریب میں برصغیر کے ان چنیدہ اہلِ علم میں سے تھے، جنہیں لگ بھگ نصف صدی ’’صحیح بخاری‘‘ کی تدریس کا موقع ملا۔’’بخاری فہمی‘‘ میں آپ کا مقام عرب وعجم کے علمی حلقوں میں تسلیم کیا جاتا تھا، بحرین کے نامور محقق عالم و فقیہ، شیخ نظام محمد صالح یعقوبی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں:
’’قد تشرب الشیخ - رحمہ اللّٰہ - حبَّ البخاري وصحیحہ، حتی امتلأ إناء ہٗ بہٖ ریًا ونھلا، فما یسأل عن حدیث فیہ ، أو باب، أو إسناد، بل حتی کلمۃ، إلا ویُتحفک بإجابتہ علی البدیھۃ، ویُسعفک ببغیتک لا بالمجاز، بل بالحقیقۃ، کیف لا؟! وقد قرأہ ودرسہ وشرحہ عشرات المرات، وکراتٍ بعد کراتٍ، ولایکاد المحصي یحصي عدد مجالس ختمہ التي عقدھا في الہند وبریطانیا، وجنوب إفریقیا، وغیرھا من البلاد والمدن والمدارس، ولو قلت: إني لم أر في عصرنا ھذا أعلم ولا أخبر ولاأمھر في سلوک دروب البخاري وصحیحہ وعلومہ وکتابہ منہ، لما کنت واللّٰہ مبالغا، ولا علی جادۃ الحق حائدا أو جائرا۔‘‘ (۱۱)
 ’’امام بخاریؒ اور ان کی کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ کی محبت ،شیخ  رحمۃ اللہ علیہ  کی رگ وپے میں سرایت کر گئی تھی، حتیٰ کہ ان کا سینہ اس کتاب سے خوب سیراب ہوگیا تھا، چنانچہ ’’صحیح بخاری‘‘ کی کسی بھی حدیث، یا باب،یا سندہی نہیں، کسی لفظ کے بارے میں بھی ان سے دریافت کیا جاتا تو فی البدیہ اس کا جواب مرحمت فرماتے ، بلکہ محض مجازاً نہیں ، حقیقتاً مطلوب کے حصول میں تعاون فرماتے تھے، ایسا کیوں نہ ہوتا؟! جبکہ انہوں نے ’’صحیح بخاری‘‘ کو پڑھا، پڑھایا، یکے بعد دیگرے دسیوں بار پوری کتاب کی شرح کی، شاید شمار کنندہ‘ شمار نہیں کرسکتا کہ ہندوستان، برطانیہ، جنوبی افریقہ اور دیگر ملکوں، شہروں اور مدرسوں میں کتنی بار انہوں نے ’’ختمِ صحیح بخاری‘‘ کی مجلسیں منعقد کی ہوں گی! اگر میں کہوں کہ میں نے اس زمانے میں امام بخاریؒ کے گلی کوچوں ، ان کی کتاب ’’صحیح بخاری‘‘، ان کے علوم اور ان کی کتابوں کا شیخ سے بڑاعالم، ان سے زیادہ باخبر اور ماہر نہیں دیکھا تو بخدا یہ مبالغہ نہ ہوگااور نہ ہی میں راہِ حق سے انحراف اور حق تلفی کا سزاوار قرار پائوں گا۔‘‘  
’’صحیح بخاری‘‘ سے متعلق مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  کی املائی تقاریر اردو وعربی میں عام ہورہی ہیں، چنانچہ عربی تقریر ’’نبراس الساري في ریاض البخاري‘‘ کی پانچ جلدیں اور اردو تقریر ’’الفیض الجاري في دروس البخاري‘‘ کی چار جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ نامور محدث ،ڈاکٹرمحمد اکرم ندوی (آکسفورڈ) کے بقول:
’’۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی تقریروں اور تحریروں سے آپ کی ’’بخاری فہمی‘‘ کے جو گوشے سامنے آئے، وہ اس سے بہت کم ہیں جو چھپے رہ گئے اور جو آپ کے ساتھ قبر میں چلے گئے، حالانکہ وہ بہت وزنی اور گراں قیمت تھے، ہم نے آپ کو اس سے بھی کم جانا جتنا آپ نے کھولنا چاہا، اگر آپ قرونِ اولیٰ میں ہوتے تو آپ کا نام حفاظِ حدیث: ابن عبد البر، قاضی عیاض اور ابن حجر وغیرہ کے ساتھ لیا جاتا۔‘‘ ’’۔۔۔۔ تحقیق ونظر کی عادت نے ’’صحیح بخاری‘‘ کے اغراض ومقاصد اور خبایا وزوایا کو آپ پر روشن کردیا، اس کتاب پر آپ نے کسی خارجی عینک کے ذریعہ نگاہ نہیں ڈالی، بلکہ مصنفِ کتاب امام بخاریؒ کے نقطۂ نظر سے اُسے سمجھنے کی کوشش کی اور اس طریقہ کار نے بخاریؒ کی نظر اور مسلک کی گہرائی اور گیرائی آپ پر واضح کردی۔ وسعتِ مطالعہ، کتبِ حدیث وفقہ، اجزائے حدیثیہ ، شروحِ کتبِ حدیث اور متعلقاتِ کتبِ حدیث پر آپ کی نظر نے اس کتاب کے پیچیدہ مباحث کو حل کرنے میں بڑی مدد کی، فرماتے تھے: ’’حدیث شریف سے متعلق شاید کوئی مطبوعہ کتاب ایسی ہو جس کا میں نے مطالعہ نہ کیا ہو۔‘‘ اس وسیع  وعمیق نظر کے بعد آپ کے اس قول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ ’’صحیح بخاری‘‘ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے معجزات میں سے ہے۔‘‘ (۱۲)
حضرت مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  مختلف عوارض کی بناپر زندگی بھر مجرَّد رہے، رسمی طالب علمی کے دوران اور اس کی تکمیل کے بعد بھی ان کی حیاتِ مستعار کے صبح وشام علمی ماحول میں بسر ہوئے، کتابیں ان کا اوڑھنا بچھونا تھیں اور مطالعہ وتحقیق ان کی غذا۔ مولانا کو ہر لمحہ علمی مسائل کو ان کے اصل مآخذ سے سمجھنے کی جستجو رہتی، صحرائے علم کی اس ابلہ پائی میں وہ ان گنت لعل وجواہر اپنے دامن میں سمیٹ لائے، ایسے میں عام علمی روایت سے آراء کا جدا ہونا بھی مستبعد نہیں ہوا کرتا، چنانچہ بعض مسائل میں ان کے رجحانات ’’تفرداتِ مشائخ‘‘ کی قبیل سے تھے، جن کے متعلق علمی دنیا کی ریت جاری ہے کہ اس نوع کے رجحانات پر عمل کے بجائے عام اہلِ افتاء کی جانب رجوع کیا جانا چاہیے۔ مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  کے قریبی تلامذہ کے مطابق وہ اپنے دروسِ حدیث اور خاص مجلسوں میں بھرپور قوتِ دلائل کے ساتھ اپنی آراء کا اظہار فرماتے تھے، لیکن عموماً اپنے عمل میں احتیاط برتتے اور عوام کو بھی ہمیشہ اہلِ افتاء کی جانب متوجہ فرماتے تھے، تاہم اللہ تعالیٰ نے انہیں ’’صحیح بخاری‘‘ کی طویل ممارست اور اشتغال کی بنا پر اس کتاب کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ کو حل کرنے کی مہارت عطا فرمائی تھی، اس حوالے سے سلف وخلف کا ذخیرہ بھی آپ کی وسیع نگاہ میں تھا، چنانچہ مولانا موصوف نے اپنی طویل ممارست ، عمیق مطالعہ اور تحقیقی مزاج کی مدد سے اس پھیلے ذخیرے کی تنقیح وتوضیح کرتے ہوئے اسے چند صفحات میں سمیٹا ہے، ’’أصول عدیدۃ في وضع تراجم الأبواب والتراجم لصحیح البخاري‘‘ (الیواقیت الغالیہ، ج:۳، ص:۱۰۹-۱۲۰، زمزم) کے عنوان سے بارہ صفحوں پر مشتمل اس مختصر سی تحریر کو مولانا  رحمۃ اللہ علیہ  نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ کی انواع واقسام اور طریقہائے استدلال کے متعلق جامع اصول مع امثلہ، انتہائی اختصار کے ساتھ اور دلنشین اسلوب میںیکجا فرمادئیے ہیں۔ موضوع کی اہمیت کی بنا پر افادہ کا دائرہ وسیع کرنے کی غرض سے اس مفید تحریر کو مزید تخریج کے ساتھ اردوکے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جارہا ہے۔

’’صحیح بخاری‘‘کے تراجمِ ابواب کے چند اصول 

بلاشبہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  امامِ ربانی، حافظِ حدیث وآثار، علمِ تاریخ ورجال میں ماہر وآزمودہ کار، طریقہ ہائے اجتہاد کے عالم، فقہاء کے اقوال وآراء سے آگاہ، زہد وتقویٰ میں ہم عصروں سے فائق، علومِ قرآن وحدیث میں بے نظیر اور متکلمین واسلامی فرقوں کی آرا ء سے واقف تھے، چنانچہ جب انہوں نے اپنی کتاب ’’الجامع الصحیح‘‘ تصنیف فرمائی تو نام کی مانند اُسے تمام فنون کا جامع بنایا، اسی بنا پر ایمانیات، الٰہیات، اعمال، عبادات اور معاملات کے ساتھ تفسیر اور تاریخ کا علم بھی سمویا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان فرقوں کی تردید بھی کی جن کے مناہج، سنت واہلِ سنت کے منہج کے خلاف تھے۔ اجسام وقلوب کے علاج سے متعلق ادویہ، ادعیہ اور دلوں کو نرم کرنے والی احادیث ذکر کیں، جو دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی رغبت پیدا کرتی ہیں، چونکہ امام موصوف نے تصحیحِ حدیث کے سلسلے میں اپنی ذات کے لیے ایسی راہ شرط ٹھہرائی ہے، جس پر اکثر ائمہ گامزن نہیں ہوئے، اس لیے بعض اوقات ان کے لیے مراد پر واضح دلالت کرنے والے دلائل کی راہیں تنگ پڑجاتی ہیں، چنانچہ موصوف‘ احادیث سے دلالت کی انواع میں سے کسی نوع کے ذریعے ترجمہ اخذکرتے ہیں، اس بناپر ان کے تراجم اوران پر استدلال (کی نوعیتیں) گوناگوں ہیں۔

حواشی و حوالہ جات

 ۱:- ’’صحیح بخاری‘‘ عام طور پر اسی مختصر نام سے معروف ہے، لیکن اس کا پورا نام ’’الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وسننہ وأیامہ‘‘ ہے، ملاحظہ فرمائیے: شیخ عبد الفتاح ابوغدہ  رحمۃ اللہ علیہ  کا رسالہ :’’تحقیق اسمي الصحیحین وجامع الترمذي‘‘، مکتب المطبوعات الإسلامیۃ، ۱۴۱۴ھـ/ ۱۹۹۳ء۔
 ۲:-  ہدي الساري مقدمۃ فتح الباري،ج: ۱، ص: ۴۸۹، دارالمعرفۃ ، بیروت، ۱۳۷۹ھ۔
 ۳:- ایضاََ،ج:۱،ص: ۸۔                         ۴:- ایضاََ،ج:۱،ص: ۱۳۔
 ۵:- فضل الباريشرح اردو صحیح البخاری،ج: ۱،ص: ۱۱۸، ادارہ علومِ شرعیہ کراچی، ۱۳۹۳ھ/ ۱۹۷۳ء۔
 ۶:- مقدمۃ فیض الباري، ج:۱،ص ۰۴، مجلس علمی، ڈابھیل، سورت ،ہند، ۱۳۵۷ھـ/۱۹۳۸ء۔
 ۷:-ھدي الساري، ج:۱،ص:۱۴۔
 ۸:-الجواھر والدرر في ترجمۃ شیخ الإسلام ابن حجر،ج:۲،ص:۷۱۱، دار ابن حزم، بیروت، لبنان، ۱۴۱۹ھ/۱۹۹۹ء ۔
۹:- یہ معلومات سعودی عالم ،ڈاکٹر عبد العزیز شائع کی کتاب ’’الکتب الستۃ وأشھر شروحھا وحواشیھا، وأبرز دراساتھا المعاصرۃ علیہا‘‘ (دارالقرطبۃ، بیروت ، لبنان، ۱۴۳۹ھ/۲۰۱۸ء ) اور اس کے علاوہ متعدد ذرائع سے یکجاکی گئی ہیں، یہاں ’’تراجمِ ابوابِ بخاری‘‘سے متعلق تمام ذخیرے کا استیعاب کے ساتھ تذکرہ مقصود نہیں، بلکہ یہ اسماء کتب ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کا مصداق ہیں۔
 ۱۰:- ایضاََ، ص: ۱۸۵، ۱۸۶۔
 ۱۱:- قلائد المقالات والذکریات، جمع وترتیب: شیخ محمد بن ناصرعجمی، ص:۸۰، دار المقتبس، بیروت، لبنان، ۱۴۳۹ھ/۲۰۱۸ء۔
 ۱۲:- فکرِ یونس، ص: ۱۰۱ تا ۱۰۳، دارالبحوث والنشر، مظفرآباد، سہارنپور، یوپی، انڈیا، ۱۴۴۰ھ /۲۰۱۹ء۔

 (جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے