بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

بینات

 
 

سورۂ احزاب کی آیت نمبر:۴۰ میں علمی فوائداور ختمِ نبوت


سورۂ احزاب کی آیت نمبر:۴۰ میں علمی فوائداور ختمِ نبوت


’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔‘‘ ( سورۃ الاحزاب :۴۰)
یہ پہلی مکمل آیت ہے، جس میں راقم الحروف نے ثلاثیات کی صورت میں فوائد کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ ان کے یاد کرنے اور جمع کرنے میں سہولت و آسانی ہو۔
اس آیتِ کریمہ سے ثلاثیات پر مشتمل فوائد یکجا کرنے میں ہماری رہنمائی حضورk کے نام گرامی ‘‘محمد‘‘ سے ہوئی جو تین حروف پر مشتمل ہے (میم، حاء اور دال) اور ان میں حرف میم سب سے زیادہ قابلِ عظمت ہے، چونکہ وہ اسی اسم گرامی میں تین دفعہ مکرر واقع ہوا ہے، یہی حرف میم‘‘خَاتَمُ‘‘ میں بھی ہے، بلکہ اس کے اختتام پر ہے، نیز لفظِ جلالہ میں حرفِ لام بھی مکرر آیا ہے اور یہ لام لفظِ ’’مُحَمَّد‘‘ میں مکرر حرفِ میم کی مانند ہے، اور دونوں حروف میں حروفِ ہجاء کی ترتیب (ل، م، ن) کلمۂ توحید: ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ کی ترتیب کے مطابق ہے، اور حروفِ مقطعات کی ترتیب بھی اسی کے موافق ہے:’’ الٓمٓ، الٓمٓصٓ، الٓمٓرٰ‘‘ ان میں حرفِ لام میم پر مقدم ہے۔
نیز اس آیت کا موضوع جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اطہر ہے، لہٰذا اس آیت کی ابتداء و انتہاء دونوں حرفِ میم پر ہوتے ہیں: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ ۔۔۔ اِلیٰ قوْلِہٖ ۔۔۔ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔‘‘
اگر ہم اس آیت کا مرکزی مضمون ایک جملہ میں ادا کریں تو وہ ’’ مُحَمَّدٌ ھُوَ الْخَاتَمُ‘‘ ہوگا، اب اس جملہ کی ابتداء و انتہاء دونوں حرفِ میم پر ہے۔
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ’’اِنَّہُ یَخْرُجُ فِی الْاُمّۃِ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ یَدَّعُوْنَ النُّبُوَّۃَ وَاِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘۔۔۔۔ ’’یعنی میری امت میں تیس جھوٹے مدعیّانِ نبوت کا خروج ہوگا، حالانکہ میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔‘‘ اسی مناسبت سے اس آیت میں ؟؟؟۳۰ فوائدِ ثلاثیہ تک رسائی حاصل ہوئی ہے، لہٰذا یہ تیس فوائد اُن تیس کذّابین کے حق میں شہابِ ثاقب کی مانند ہوں گے، جن سے ان کو مار بھگایا جائے گا، ان شاء اللہ!
اب آپ کی خدمت میں اُن فوائد کو پیش کیا جارہا ہے:
٭ تین حروف: حضور k کا نام گرامی تین حروف پر مشتمل ہے: حرفِ میم، حاء اور دال۔ اور میم ان میں سب سے بابرکت ہے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک میں تین دفعہ آیا ہے۔
٭ اس آیت مبارکہ میں اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ کا ذکر تین بار ہوا ہے، دو مرتبہ لفظ جلالہ کے ساتھ اور ایک بار وصف کے ساتھ: ۱:- وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ،۲:- وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ ،۳:- عَلِیْمًا۔
٭ اسی طرح رسول کا ذکر بھی تین بار ہوا ہے، ایک بار نامِ گرامی کے ساتھ ’’ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ‘‘، دو مرتبہ وصف کے ساتھ ’’وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔‘‘
٭ تین آیات: سیاقِ آیت میں ۳ ؍احکامات کا بیان ہے، ان معاملات سے متعلق جن کا تعلق حضور علیہ السلام کی ذاتِ اطہر سے ہے، وہ احکام تین سلبی جملوں کی صورت میں وارد ہوئے، البتہ سب کا اسلوب ایک ہے، یعنی ابتدا ’’مَا کَانَ‘‘ سے ہے۔۱:-پہلے کا تعلق نبی اور مؤمنین سے ہے : ’’وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوْلُہٗ أَمْرًا‘‘ ،۲:- دوسرے کا تعلق نبی اور اس کے رب سے ہے: ’’مَا کَانَ عَلَی النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللہُ لَہٗ۔‘‘ ، ۳:- تیسرے کا تعلق تینوں سے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ، نبی اور عام لوگ :’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔‘‘
٭ ذکر کردہ پہلی آیت میں حضرت زینب- رضی اللہ عنہا - کو قائل کرنے کا بیان ہے (چونکہ آپؓ نزولِ آیت سے قبل حضرت زید ؓ سے نکاح پر راضی نہ تھیں)، دوسری آیت میں حضور علیہ السلام کے قائل کرنے کا بیان ہے (چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانۂ جاہلیت کی رسمِ بد کا قلع قمع کرنے کے لیے مُتبنّٰی بیٹے کی زوجہ سے نکاح کا حکم دیا)، تیسری آیت میں عام مؤمنین کے قائل کرنے کا بیان ہے۔
٭ تین جملے: اس آیت میں رسول کے اوصاف سے متعلق تین جملے ہیں، جن میں سے ایک سلبی اور دو ایجابی ہیں: ۱:- مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ ،۲:- لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ، ۳:-وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۔
٭ تین تعلق: ۱ :- ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ‘‘ یہ آیت کا جزء رسول اور مرسل الیہم سے متعلق ہے، ’’۔ ۲:- لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِِ‘‘ یہ رسول و مرسِل(بکسر السین، یعنی اللہ) سے متعلق ہے، ۳:- ’’وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ یہ رسول و مرسل معہ (یعنی انبیاء کرام) سے متعلق ہے، لہٰذا آیت میں رسول کا مرسل الیہم، مرسِل اور مرسل معہ تینوں سے تعلق ہے۔
٭ تین دعوے: آیت میں تین دعووں کا ذکر ہے، جن میں سے ایک کی تائید اور دو کی تردید ہے: النبي،المتنبی،المتبنّٰی: ۱:- النبي: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو نبوت کا سچا مدعی ہے، اس کی اللہ تعالیٰ نے تصدیق فرمائی ہے: ’’لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ‘‘ ، ۲:-المتنبی: وہ غیر نبی جو نبوت کا دعویٰ کرے، اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمادی: ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ ، ۳:- المتبنّٰی: لے پالک کو حقیقی بیٹا تصور کرنا، اس کی بھی تردید فرمادی: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ‘‘
٭ منہ بولے بیٹے کے موضوع پر تین آیتیں سورت میں مذکور ہیں: ۱:- ’’وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَائَ کُمْ اَبْنَائَ کُمْ‘‘ ، ۲:-’’اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَائِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ‘‘، ۳:- اور تیسری آیت یہی آیت ہے۔
٭ ابتداء سورت میں آیت نمبر:۴ میں تین احکامات کا ذکر ہے، جن میں منہ بولے بیٹے سے متعلق حکم بھی موجود ہے: ’’مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ ج وَمَا جَعَلَ اَزْوَاجَکُمُ الّٰئِیْ تُظٰھِرُوْنَ مِنْھُنَّ اُمَّھٰتِکُمْ ج وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَائَ کُمْ اَبْنَائَ کُمْ‘‘
٭ کلمۂ کَانَ: یہ آیت میں تین بار مذکور ہے، دو مرتبہ لفظاً اور ایک مرتبہ تقدیراً: ۱:- مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ ، ۲:- وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ: رسول کے نصب کے ساتھ، چونکہ یہ ’’کَانَ‘‘ مقدرہ کا اسم ہے، ۳:- وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا ۔
٭ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ’’کَانَ‘‘ کی بھی تین قسمیں ہیں : ۱:-تامہ، ۲:-ناقصہ، ۳:-زائدہ۔
٭ تین وجوہات: ’’وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ فرمایا، یوں نہیں فرمایا : ’’لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ الرُّسُلِ‘‘، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا: ’’وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (سورۃ آل عمران:۷۴)، اس کی بظاہر تین وجوہات ہیں : ۱:-عام کی نفی کو خاص کی نفی مستلزم ہے، اس کا برعکس ضروری نہیں، چونکہ نبوت عام ہے، لہٰذا ختم نبوت کو ختم رسالت مستلزم ہے، برعکس ضروری نہیں۔ ۲:-حضور علیہ السلام کی نبوت کی صراحت فرمادی، جبکہ اس کی طرف اشارہ رسول اللہ سے ہوگیا تھا، کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے۔ ۳:- اس میں اشارہ ہوگیا ہے کہ رسولوں کی تعداد انبیاء سے کم ہے، البتہ وہ انبیاء سے رتبہ میں افضل ہیں، اسی لیے رسول کو مفرد اور نبی کو بصیغۂ جمع لائے ۔
٭ تین اقوال: ’’وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ‘‘ کلمۂ ’’لٰکِنْ‘‘ میں تین اقوال ہیں: ۱:- امام اخفشؒ اور فراءؒ کہتے ہیں کہ تقدیری عبارت یوں ہے: ’’ولکن کان رسول اللہ‘‘ (بنصبِ رسول)۔ ۲:-اور ان دونوں نے رفع کے ساتھ بھی جائز قرار دیا ہے۔ ۳:-ایک جماعت نے اسے لکنّ (تشدیدکے ساتھ) پڑھا ہے، پھر اس صورت میں ’’رسُوْل اللہِ‘‘ لکنّ کا اسم ہے اور خبر اس کی محذوف ہے۔ (تفسیر القرطبی ، ج:۴، ص:۱۹۶)
٭ تین اجزاء: قیاس کے تین اجزاء ہیں: صغریٰ، کبریٰ اور نتیجہ۔ زید مرد ہے، پیغمبر کسی مرد کا باپ نہیں، لہٰذا پیغمبر زید کا باپ نہیں۔ یہاں صرف ایک مقدمہ کا ذکرہوا: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ‘‘ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے باپ نہیں۔ 
٭ تین مناسبات: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ‘‘ اور ’’خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ دونوں جملوں کی آپس میں ۳ طرح کی مناسبتیں واضح ہیں: ۱:- اس میں اشارہ ہے کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کسی مرد کے والد نہیں، چونکہ وہ خاتم النبیین ہیں، اگر وہ کسی مرد کے والد ہوتے تو وہ کبھی والد کے حق کا مطالبہ کرتا، جن میں سے ایک منصبِ نبوت بھی ہے، سو یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر خاص تھی، اسی مضمون پر اس آیت کا اختتامی جزء دلالت کرتا ہے: ’’وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا‘‘ ، ۲:- وراثت عموماً دوچیزوں میں جاری ہوتی ہے، مال اور منصب میں، اس آیتِ کریمہ میں دونوں کی بالکلیہ نفی کردی۔ ۳:- دونوں دعوے(مُتبنّٰی، مُتنبِّیْ) بلادلیل ہیں، اسی لیے ان کو متصل ذکر فرمایا۔
٭ تین فرق: ’’رَسُوْلُ اللہِ‘‘ : رسول و نبی کے مابین فرق میں مشہور تین قول ہیں: ۱:-دونوں میں تساوی کی نسبت ہے۔ ۲:-رسول وہ ہے جو کفار کی طرف بھیجا گیا ہو اور نبی وہ ہے جو مسلمانوں کی طرف مبعوث ہو۔ ۳:-راجح قول کے مطابق دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے ۔
٭ رسول کی لغوی تعریف میں تین اقوال ہیں:
۱:- رسول ارسال سے مشتق ہے، جس کا مطلب متوجہ کرنا، بھیجنا ہے۔
۲:- رسول کا مطلب ذو رسول یعنی رسالت والا۔
۳:- جن احکامات کے ساتھ اللہ نے اس کو بھیجا ہے، اس پر عمل کرنے والا (متابع للأخبار)
٭ ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ‘‘: کلمۂ ’’رسُوْلُ اللہِ‘‘ اسی سورت میں تین مرتبہ لفظ جلالہ کے ساتھ متصل واقع ہوا ہے:’’ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ‘‘ (آیت نمبر:۲۱) ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ (آیت نمبر: ۴۰) ’’وَ مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللہِ‘‘ (آیت نمبر: ۵۳)
٭ کلمہ ’’رسول‘‘ اس سورت میں ۱۲ دفعہ آیا ہے، اور یہ تین کا حاصلِ ضرب ہے بایں طور کہ تین کو چار سے ضرب دیا جائے۔
٭ کلمۂ ’’رسول‘‘ اس سورت میں تین طرح سے آیا ہے: ۱:-اسم ظاہر کی طرف اضافت کے ساتھ: ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ‘‘ ۲:- اسم ضمیر کی طرف مضاف ہونے کے ساتھ: ’’وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہُ‘‘ ، ۳:-معرف باللام ’’یَالَیْتَنَا اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا‘‘
٭ کلمۂ ’’رسول‘‘ اطاعت اللہ اور اطاعتِ رسول کے حکم کے ساتھ تین مرتبہ سورت میں آیا ہے:
۱:- ’’ وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۔‘‘ (آیت:۳۳)
۲:- ’’ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا۔‘‘(آیت:۶۶)
۳:- ’’ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا۔‘‘(آیت:۷۱)
٭ کلمۂ ’’نبی‘‘ اس سورت میں ۱۵ دفعہ آیا ہے، اور تین کو پانچ میں ضرب دینے کا حاصلِ ضرب ۱۵ بنتا ہے۔
٭ تین حکمتیں: ’’مِنْ رِّجَالِکُمْ ‘‘ مِنْ ’’رِجَال‘‘ پر صراحت فرمائی، اس کی جگہ ’’مِنْکُمْ‘‘ نہیں فرمایا، بظاہر اس میں تین حکمتیں اور فوائد ہیں، واللہ اعلم-۱:-عموماً قرآن مجید میں مذکر کے صیغہ میں تبعًا و ضمنًا عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں، تو ’’مِنْکُمْ‘‘ سے بچیوں کے والد ہونے کی بھی نفی متصور ہورہی تھی، حالانکہ آنحضرت - صلی اللہ علیہ وسلم - بچیوں کے والد تھے۔ ۲:-اُبوّت کی نفی تمام افراد سے کی، تاکہ حضرت زید بن ثابت ؓ کی دلجوئی ہوجائے کہ اس میں اُبوّت کی نفی صرف ان سے نہیں، بلکہ ہر ہر فرد سے ہے (عموم سلب ہے) چونکہ قاعدہ ہے: ’’ إِنَّ الْبَلِیّۃَ إِذَا عَمَّتْ خَفّتْ‘‘ (جب مصیبت و آزمائش عام ہوجائے تو وہ ہلکی معلوم ہوتی ہے)۔ ۳:-اس میں حضور علیہ السلام کے مرتبہ و فضیلت کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے، رجال رجال میں فرق ہوتا ہے۔
٭ تین مستثنیات:’’مِنْ رِّجَالِکُمْ ‘‘ کے تین مستثنیات ہیں : ۱:- بنات النبی(حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں)، چونکہ وہ مرد نہیں، بلکہ عورتیں ہیں۔ ۲:-حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ صغار، چونکہ وہ حدِ بلوغ کو نہیں پہنچے تھے۔ ۳:- اولاد غیرحقیقی، چونکہ آنحضرت- صلی اللہ علیہ وسلم - پوری امت کے لیے روحانی والد ہیں۔
٭ تین قراءتیں: ’’وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ : کلمہ ’’خَاتَم‘‘ میں تین اقوال ہیں : ۱:-صرف امام عاصمؒ نے اس میں تاء کے فتح کی قراءت کو نقل کیا ہے، بایں معنٰی کہ آنحضرت - صلی اللہ علیہ وسلم - کے ذریعہ سلسلہ بعثتِ انبیاء پر مہر لگادی گئی ہے۔۲:-جمہور مفسرین نے اسے تاء کے کسرے کے ساتھ پڑھا ہے، سو معنی یہ ہوگا کہ آپ حضرات انبیاء کی ترتیبِ زمانی میں سب سے اخیر میں تشریف لائے۔ ۳:-اور بعض نے کہا کہ ’’خَاتَم‘‘ اور ’’خَاتِم‘‘ دونوں طرح کی لغتیں ہیں۔ (تفسیر القرطبی، ج:۱۴، ص: ۱۹۶۲)
٭ تین ذمہ داریاں: ’’ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ رسالت و نبوت کے وصف سے سرفراز ہستیوں کی تین ذمہ داریاں(مقاصدِ بعثت) ہیں: ۱:- یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ آیَاتِہٖ، ۲:-وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمِۃَ ، ۳:- وَیُزَکِّیْھِمْ، (قراء تِ آیات، تعلیمِ کتاب، تزکیۂ نفس)۔
٭ تین اعراب: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ‘‘ اس جزء آیت میں تینوں کلمات پر نحویین کی ترتیب کے مطابق تینوں اعراب واقع ہوئے ہیں: ۱:-پہلا کلمہ: مرفوع (مُحَمَّد)، ۲:- دوسرا کلمہ: منصوب ہے(أبَا: یہ اسماء ستہ میں سے ہے، حالتِ نصبی میں اس کا اعراب حرفِ الف کے ساتھ ہوتا ہے)، ۳:- تیسرا کلمہ: مجرور ہے (اَحَد)، نیز اعراب کے لحاظ سے آیت میں ایک اور ثلاثی بھی ہے، وہ یہ کہ لفظ ’’مُحَمَّدٌ‘‘ مرفوع ہے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہے، اور لفظِ ’’رَسُوْلَ‘‘ منصوب ہے، اور لفظِ ’’نَبِی‘‘ حالتِ جر میں واقع ہے ۔دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب ہیں۔
٭ تین شہادتیں: قرآن مجید میں حضور علیہ السلام کا نام گرامی بہت کم مواقع پر استعمال ہوا ہے، بیشتر مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کی رعایت کرتے ہوئے آپ کو لقب اور صفت سے مخاطب کیا گیا ہے، مثلا: نبی، رسول، مزمل، مدثر وغیرہ، سوائے تین مقامات کے چونکہ وہ شہادت کے اہم مقامات ہیں، لہٰذا وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام گرامی کی تصریح فرمادی: ۱:-اثباتِ رسالت سے متعلق شہادت: ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ۔۔۔الخ‘‘ (سورۃ الفتح: ۲۹)، ۲:-حقانیت قرآن سے متعلق گواہی: ’’وَالَّذِینَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ ہُوَ الحَقُّ مِن رَّبِّہِمْ۔۔۔الخ ‘‘ (سورۃ القتال: ۲)، ۳:-آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے تشریف لا نے، اور آپ پر اس سلسلۂ بعثت کے اختتام کی شہادت: ’’وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (آلِ عمران: ۱۴۴)، ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُم وَ لٰکِن رَّسُولَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔‘‘ (سورۃ الاحزاب :۴۰)
٭ تین عشرات: یعنی تین کے عدد کی تیس کے ساتھ لفظی و معنوی دونوں طرح کی مناسبتیں ہیں: چونکہ تیس کا عدد دس کے عدد کو تین بار جمع کرنے سے بنا ہے، نیز ان ثلاثیات سے حدیث میں وارد تیس مدعیانِ نبوت کی نفی ہوجائے گی، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ : ’’میری امت میں تیس ایسے جھوٹوں کا خروج ہوگا جن میں سے ہر ایک اپنے نبی ہونے کا مدعی ہوگا، حالانکہ میں انبیاء کے سلسلوں کو ختم کرنے والا ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔‘‘ (سنن ابی داؤد، ج:۴، ص: ۱۵۴)
٭ تین لوگ: اس سورت کا اختتام لوگوں کی تین اقسام کو بیان کرتے ہوئے ہوا ہے، ’’لِّیُعَذِّبَ اللہُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِکِیْنَ وَ الْمُشْرِکٰتِ وَ یَتُوْبَ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ‘‘ (سورۃ الاحزاب : ۷۳) ۱:-منافقین : جو حضور علیہ السلام کے خاتم النبیین ہونے کے منکر تھے۔ ۲:-مشرکین: جو حضور علیہ السلام پر سِرے سے ہی ایمان نہ لاتے تھے۔ ۳:- اہلِ ایمان : جو آنحضرت- صلی اللہ علیہ وسلم - کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم کرتے ہیں۔
٭ تین طریقے: ’’وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا‘‘ کلمۂ ’’عَلِیْم‘‘ نصب کے ساتھ مذکورہ سورت میں تین طریقہ سے آیا ہے: ۱:- صفتِ حکمت کے ساتھ مقرون ہوکر ، جیسے: ’’اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘‘ (آیت:۱) ۲:- صفتِ حلم کے ساتھ ملا ہوا، جیسے: ’’وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا‘‘(آیت:۵۱) ۳:-منفرد ذکر ہو الگ سے، جیسے: ’’وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا‘‘ (آیت:۴۰) مذکورہ آیت میں۔ 
٭ تین دلیلیں: حضور علیہ السلام کا خاتم النبیین ہونا تین ادلہ شرعیہ سے ثابت ہے، یعنی قرآن، سنت اور اجماعِ امت سے۔
٭ تین جہتیں: لفظ ’’خَاتَمْ ‘‘ سے ہم کلام کے اختتام کی طرف جارہے ہیں، اور اختتام حضور - علیہ السلام - کی ذاتِ عالی پر ’’صَلَاۃ‘‘ کے ساتھ ہوگا، جس کی تین جہتیں ہیں: ’’اِنَّ اللہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا صَلُّوا عَلَیہِ وَ سَلِّمُوا تَسلِیمًا۔‘‘ (سورۃ الاحزاب:۵۶) ۱:- اللہ کی طرف نسبت ہو تو رحمت، ۲:-فرشتوں کی طرف ہو تو استغفار ، ۳:-اور لوگوں کی طرف ہو تو درود و سلام مراد ہوتا ہے۔
٭ تین حدیثیں: اور آخر میں ختمِ نبوت سے متعلق دسیوں احادیث میں سے موضوع کی مناسبت سے صرف تین حدیثیں ملاحظہ فرمائیں :
۱:- ’’وعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ -رَضِیَ اللہُ عَنْہُ- عَنِ النَّبِیِّ -صلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ- قَالَ: مَثَلِیْ فِي النَّبِیِّیْنَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأحْسَنَھَا وَأکْمَلَھَا، وَتَرَکَ فِیْھَا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ لَمْ یَضَعْھَا ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِالْبُنْیَانِ وَیُعْجِبُوْنَ مِنْہُ ویَقُوْلُوْنَ: لَوْ تَمَّ مَوْضِعُ ھٰذِہِ اللَّبِنۃِ، فَاَنَا فِي النَّبِیِّیْنَ مَوْضِعُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔ ‘‘ (رواہ الترمذی عن بندار عن ابی عامر العقدي بہ، وقال حسن صحیح، تفسیر ابن کثیر، ج:۶، ص: ۳۸۱، ط: العلمیۃ)
ترجمہ: ’’حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: میری مثال انبیاء میں اس شخص کی طرح ہے جو ایک گھر بنائے اور خوبصورتی کے ساتھ اسے پایۂ تکمیل تک پہنچائے، اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدے جس میں اینٹ نہ رکھی ہو، لوگ اس عمارت کے گرد چکر لگائیں اور انہیں بَھلی معلوم ہو اور کہیں کہ: کاش اس اینٹ کی جگہ بھی پُر ہوجاتی، تو میں انبیاء میں اس اینٹ کی جگہ ہوں ۔‘‘
٢:- ’’عَنْ أبِی الطُّفیْلِ -رَضِیَ اللہُ عنْہُ- یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ -صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ- لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِیْ إِلَّا الْمُبشِّرَاتِ، قِیْلَ:وَمَا الْمُبشِّرَاتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: ’’الرُّؤیَا الْحَسَنَۃُ‘‘ اَوْ قَالَ: ’’الرُّؤیَا الصَّالِحَۃُ۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر، ج:۶، ص: ۳۸۲، ط: العلمیۃ )
ترجمہ: ’’حضرت ابو الطفیلؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: میرے بعد نبوت کا سلسلہ نہیں سوائے مبشّرات کے، تو عرض کیا گیاکہ: اے اللہ کے رسول! مبشّرات سے کیا مراد ہے؟ تو فرمایا: سچے خواب۔‘‘
٣:- ’’وعَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ: اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، واُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وجُعِلَتْ لِيَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَھُوْرًا، وَاُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘ 
 (رواہ الترمذی،وقال: حسن صحیح۔ تفسیر ابن کثیر، ج:۶، ص: ۳۸۳، ط: دارالکتب العلمیۃ)
ترجمہ: ’’حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی ہے: مجھے ’’جوامع الکلم‘‘(جن میں الفاظ کم اور معانی کی کثرت ہو)دئیے گئے ہیں، اور رُعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، میرے واسطے غنیمت کا مال حلال کردیا گیا ہے، اور میرے لیے زمین کو سجدہ گاہ اور پاک بنایا ہے(تیمم کے لیے) ، اور مجھے تمام مخلوقِ عالم کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اور میرے ذریعے سلسلۂ انبیاء کو ختم کیا گیا ہے۔‘‘
اس طرح ہم اللہ کے فضل وتوفیق سے اس سورت میں تیس سے زائد ثلاثیات تک پہنچ گئے ہیں، اختصاراً جنہیں یوں ذکر کیا جاسکتا ہے: تین فیصلے، تین حکم، تین جملے، تین اوصاف، تین تعلقات، تین دعوے، تین زمانے، تین اجزاء، تین مستثنیات، تین توجیہات، تین اقوال، تین مناسبات، تین تعریفات، تین فرق، تین مواضع، تین قراءتیں،تین ذمہ داریاں، تین معانی، تین حروف، تین اقسام، تین ادلہ، تین احادیثِ مبارکہ ہیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے