زکاۃ کی رقم سے مدرسین کو تنخواہ دینا
سوال
کیامالِ زکوۃ سے مدرسین کو تنخواہ دے جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو جواز کی کیا صورت ہو گی؟
جواب
زکات اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر) ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے کسی مسلمان مستحقِ زکاۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے؛ اس لیے مدرسین کو زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہیں دینا جائز نہیں ہے، کیوں کہ تنخواہ کام کے عوض میں ہوتی ہے کہ جب کہ زکاۃ بغیر عوض کے مستحق کو مالک بناکر دینا ضروری ہوتا ہے۔
اگر ادارے میں مستحقِ زکوۃ طلبہ ہو ں تو ان کو زکوٰۃ کے فنڈ سے وظیفہ دے کر ان سے ان کے جملہ اخراجات کی فیس وصول کرکے اس سے مدرسین کی تنخواہوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

