بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا

سوال

 کیا عورتیں صلاۃ التسبیح جماعت سے پڑھ سکتی ہیں بآواز بلند؟

جواب

 "صلاۃ التسبیح"  نفل نماز ہے اور نوافل جتنے بھی ہیں انہیں انفراداً  ہی پڑھنے کا حکم ہے،  لہٰذا "صلاۃ التسبیح"  بھی آہستہ آواز سے  اکیلے ہی پڑھنی چاہیے نہ کہ جماعت کے ساتھ۔  باقاعدہ جماعت (تداعی) کے ساتھ "صلاۃ التسبیح"  پڑھنا مردوں کے لیے بھی مکروہِ تحریمی ہے۔

نیز عورتوں کا عورت کی امامت میں باجماعت نماز پڑھنا، یا  گھروں سے باہر جاکر باجماعت نماز میں شریک ہونا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔

جو عورتیں نماز صلاۃ التسبیح کی پڑھنا نہ جانتی ہوں، انہیں چاہیے کہ وہ اس کا طریقہ سیکھ کر انفرادی طور پر پڑھیں، اورجب تک طریقہ معلوم نہ ہو عام نفل نماز کی طرح پڑھ کر توبہ و استغفار، دعا اور تسبیح و غیرہ کرلیا کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت".

قال الشامي:

"أفاد أن الصلاة صحیحة وأنها إذا توسطت لاتزول الکراهة وإنما أرشد و إلی التوسط؛ لأنه أقل کراهة التقدم". (شامي  ۲؍۳۰۵) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144109201588
تاریخ08-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں