بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1448ھ 07 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منگل والے دن کپڑے کاٹنا کیسا ہے؟

سوال

منگل کے دن کپڑے کاٹنے کا شرعی حکم؟

جواب

منگل کے دن کپڑے کاٹنا جائز ہے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، اس دن کپڑے کاٹنے کو منحوس سمجھنا اور اس سے بد شگونی لینا درست نہیں ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:
"أن أبا هريرة قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (لا طيرة، وخيرها الفأل). قالوا: وما الفأل؟ قال: (الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم)."

(كتاب الطب، باب: الطيرة، ج:5، ص: 2171، ط: دار ابن كثير، دار اليمامة)

ترجمہ: ” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے۔ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! فال کیا ہے؟ (وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (فال) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہے۔“

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805101220
تاریخ07-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں