بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1448ھ 07 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی والوں کی طرف سے زیادہ حق کا مطالبہ ہو تو شرعی حکم

سوال

لڑکی والے زیادہ حق مہر کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ اور اس کا فیصلہ کون کرسکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مہر کا تعین لڑکے ولڑکی دونوں  کی رضامندی پر موقوف ہے،چنانچہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو لڑکے کو چاہیے کہ جتنا مہر ادا کر سکتا ہے، اس کی وضاحت کردے تاکہ بعد میں کسی قسم کا اختلاف نہ ہو۔

مہر کے تقرر میں سب سے بہتر یہ ہے کہ     لڑکا لڑکی ازخود فیصلہ کریں، اور اِس میں فریقین(لڑکا لڑکی) ایک دوسرے کی رعایت رکھیں، یعنی لڑکی کے مہرِمثل (لڑکی کے والد کے خاندان کی دیگر ہم عصر شادی شدہ لڑکیوں کے مہر کی مقدار) اور  لڑکے کی مالی حیثیت اور ادائیگی کی استطاعت کو مدنظر رکھ کر ایک معتدل حق مہر مقرر کرلیا جائے۔خاندان و برادری کو اِس معاملے میں لڑکے لڑکی کے مرضی کے خلاف زور زبردستی یا دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔

مزید تفصیل  کے لیے منسلکہ فتویٰ ملاحظہ ہو:

مصنف عبد الرزاق  میں ہے:

"أخبرنا ابن جريج قال: حدثني ابن أبي الحسين: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " تياسروا في الصداق، إن الرجل يعطي المرأة حتى يبقى ذلك في نفسه عليها حسيكة، وحتى يقول: ما جئتك حتى سقت إليك علق القربة ."

 (باب غلاء الصداق، 6 / 174، ط: المجلس العلمي)

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: ألا لا تغالوا ‌صدقة ‌النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه وسلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه وسلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية. رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي."

(كتاب النكاح، باب الصداق، 6 / 958، ط:دارالكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع  میں ہے :

"فإن كان الاختلاف في أصل التسمية يجب مهر المثل؛ لأن الواجب الأصلي في باب النكاح هو مهر المثل؛ لأنه قيمة البضع، وقيمة الشيء مثله من كل وجه، فكان هو العدل، وإنما التسمية تقدير لمهر المثل. فإذا لم تثبت التسمية لوقوع الاختلاف فيها، وجب المصير إلى الموجب الأصلي."

(کتاب النكاح، فصل في المهر، 2 / 305، ط: سعيد)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

” ایک کوتاہی لڑکی کےو الدین اور اس کے عزیز و اقارب کی جانب سے ہوتی ہے کہ مہر مقرر کرتے وقت لڑکے کی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھتے، بلکہ زیادہ سے زیادہ مقدار مقرر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بسااوقات اس میں تنازع اور جھگڑے کی شکل بھی پیدا ہوجاتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر بعض موقعوں پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسی جھگڑے میں شادی رُک جاتی ہے۔ لوگ زیادہ مہر مقرر کرنے کو فخر کی چیز سمجھتے ہیں، لیکن یہ جاہلیت کا فخر ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔“

(کتاب النکاح، حق  مہر، ج:۶، ص:۲۸۳، ط: مکتبہ لدھیانوی)

وفیہ ایضاً:

”شرعی مہر تو وہی ہے جو نکاح کے وقت مقرر کیا جاتا ہے، اور وہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔“

(کتاب النکاح، حق  مہر، ج:۶، ص:۲۸۸، ط: مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805101051
تاریخ07-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں