ہسپتال میں ڈیوٹی کیے بغیر تنخواہ لینے کا حکم
سوال
ایک شخص ڈاکٹر بن گیا، ہسپتال میں تقرری بھی ہوگئی اور تنخواہ بھی جاری ہوگئی ہے، ابھی اگر یہ شخص اپنی تعلیم کو مزید آگے جاری رکھے اور ہسپتال میں ڈیوٹی بھی سرانجام نہ دے تو کیا ایسی صورت میں اس کے لیے تنخواہ لینا درست ہوگا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ ڈاکٹر ہسپتال میں تقرری کے بعد اپنی مزید تعلیم جاری رکھنے کی وجہ سے ہسپتال میں مقررہ اوقات کے دوران ڈیوٹی سرانجام نہیں دیتا، اور اس کے لیے ہسپتال کے ضابطے کے مطابق تنخواہ سمیت رخصت کی اجازت بھی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اس کے لیے ڈیوٹی کیے بغیر تنخواہ وصول کرنا شرعاً ناجائز ہے؛ کیوں کہ ملازم پر لازم ہے کہ وہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں ادارے کو اپنا وقت دے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے، لہٰذا جتنے عرصے کی ڈیوٹی انجام نہیں دی، اس عرصے کی تنخواہ کا وہ حق دار نہیں ہوگا، اور اگر تنخواہ وصول کرلی ہے تو اسے واپس کرنا لازم ہوگا۔
البتہ اگر متعلقہ ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں مزید تعلیم کے لیے تنخواہ سمیت رخصت کی اجازت ہو، اور مذکورہ ڈاکٹر نے باقاعدہ مجاز حکام سے ضابطے کے مطابق ایسی رخصت حاصل کرلی ہو، تو اس صورت میں رخصت کے دوران تنخواہ وصول کرنا جائز ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى بخلاف ما لو آجر المدة بأن استأجره للرعي شهرا حيث يكون مشتركا إلا إذا شرط أن لا يخدم غيره ولا يرعى لغيره فيكون خاصا."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، 6 /69، ط: سعيد)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"اگر ملازمت کے شرائط میں یہ ہے کہ بلا تحصیلِ رخصت غیر حاضری پر تنخواہ وضع ہوگی، تو صورتِ مسئولہ میں تنخواہ وضع کی جائے گی۔ اگر شرائط میں کچھ مدت با تحصیلِ رخصت چھٹی پر رہنے اور حاضر نہ ہونے کی بھی موجود ہے، تو اس مدت کی تنخواہ وضع نہ ہوگی۔ غرض! حسبِ شرائط عمل کیا جائے، جب کہ وہ موافقِ شرع ہوں۔"
(كتاب الوقف، باب ما يتعلق بالمدارس، الفصل الخامس في وظائف المدرسين، 15 /535، ط: فاروقیہ کراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

