جمعہ کی اذانِ اول کے بعد سعی، خطبہ و نماز کے لیے بیرونی اسپیکر، مسجد کے مختلف حصوں میں امام و مقتدی کا کھڑا ہونا اور دوسرے کے فعل پر قسم
سوال
جواب
1۔ واضح رہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد سعی الی الجمعہ واجب ہے، اور اس کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کسی دنیاوی کام یا نیند میں مشغول رہنا جائز نہیں۔ اگر ایک جگہ متعدد مساجد میں جمعہ ہوتا ہو تو جس مسجد کی پہلی اذان سب سے پہلے سنائی دے، اسی سے سعی واجب ہوجاتی ہے، خواہ وہ اپنے محلے کی مسجد کی اذان ہو یا کسی دوسری مسجد کی۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جن محلوں میں جمعہ تاخیر سے ہوتا ہے، وہاں کے رہنے والے اگر کسی دوسری مسجد کی پہلی اذان سن لینے کے بعد اپنے محلے کی اذان کے انتظار میں دنیاوی کاموں یا نیند میں مشغول رہیں تو گناہ گار ہوں گے۔ البتہ جو شخص جمعہ کی تیاری سے فارغ ہوکر گھر میں نماز، تلاوت یا کسی دینی کام میں مشغول رہے اور خطبہ سے اتنا پہلے مسجد پہنچ جائے کہ سنتیں ادا کرسکے، وہ گناہ گار نہیں۔ جن لوگوں پر جمعہ واجب نہیں، وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
2۔ جمعہ کے خطبہ اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی آواز اتنی رکھی جائے جسے مسجد میں موجود نمازی بآسانی سن سکیں۔ بلا ضرورت اذان والا بیرونی اسپیکر کھول کر خطبہ اور نماز کی آواز محلے کے گھروں تک پہنچانا درست نہیں، خصوصاً جب اس سے کسی بیمار، سونے والے یا نماز و تلاوت میں مشغول شخص کو تکلیف ہو۔ البتہ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے ان تک آواز پہنچانے کی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت اسپیکر استعمال کرنے میں حرج نہیں۔
3۔ مسجد کا کمرہ، برآمدہ اور صحن اقتدا کے حق میں ایک ہی جگہ کے حکم میں ہیں۔ اگر صحن مسجدِ شرعی میں داخل نہ ہو بلکہ مسجد سے متصل ہو، تب بھی اقتدا کے باب میں وہ مسجد ہی کے حکم میں ہے؛ چنانچہ سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں میں اقتدا درست ہے اور جماعت سے نماز ادا ہوجائے گی۔ البتہ امام جس جگہ تنہا کھڑا ہو، اگر وہ مقتدیوں کی جگہ سے ایک ذراع (تقریباً 18 انچ) یا اس سے زیادہ اونچی ہو تو بلا عذر امام کا وہاں اکیلا کھڑا ہونا مکروہ ہے، اور اگر کچھ مقتدی بھی امام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو کراہت نہیں رہتی۔ اس سے کم اونچائی ہو تو بلا کراہت نماز درست ہے۔
4۔ قسم کھانے والا ساتھی، ساتھی کے رقم ادا کرنے سے حانث ہوگیا، اور اس پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔
1:
قرآن کریم میں ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
(سورۃ الجمعۃ: 9)
ترجمہ: اے ایمان والو جب جمعہ کے روز نماز (جمعہ) کے لئے اذان کہی جایا کرے تو تم اللہ کی یاد (یعنی نماز وخطبہ) کی طرف (فوراً) چل پڑا کرو اور خریدو فروخت (اور اسی طرح دوسرے مشاغل جو چلنے سے مانع ہوں) چھوڑ دیا کرو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم کو کچھ سمجھ ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وأن يجيب بقدمه اتفاقا في الأذان الأول يوم الجمعة لوجوب السعي بالنص."
(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:399، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(ووجب سعي إليها وترك البيع) ولو مع السعي، في المسجد أعظم وزرا (بالأذان الأول) في الأصح... (قوله وترك البيع) أراد به كل عمل ينافي السعي وخصه اتباعا للآية نهر."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:161، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(وكره) تحريما مع الصحة (البيع عند الأذان الأول) (قوله عند الأذان الأول) وهو الذي يجب السعي عنده."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:101، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ويجب السعي وترك البيع بالأذان الأول... والأصح أن كل أذان يكون قبل الزوال فهو غير معتبر والمعتبر أول الأذان بعد الزوال سواء كان على المنبر أو على الزوراء، كذا في الكافي."
(كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:149، ط: دار الفكر)
امداد الفتاوی میں ہے:
"جو بیع مخل سعی ہو وقت اذانِ اول جمعہ کے مکروہ ہے اور اگر چند جا اذان کہی جاوے تو اظہر یہ ہے کہ اذانِ اول کے ساتھ کراہت ثابت ہو جائے، اگر چہ اس کی روایت صریحہ احقر نے نہیں دیکھی، لیکن تعددِ اذان میں اجابتِ اذانِ اول کو لکھا ہے، اس قیاس پر وجوبِ سعی و کراہتِ بیع بھی اذانِ اول پر چاہیے، خواہ وہ مسجد محلہ میں ہو یا غیر میں ... اور اس حکم میں سب اہل شہر یکساں ہیں، البتہ جن پر جمعہ واجب نہیں وہ مستثنی ہیں ان کو بیع جائز ہے۔"
(كتاب الصلوة، باب الاذان، ج:1، ص:108، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
2:
فتاوی شامی میں ہے:
"أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:660، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"وفي الفتح عن الخلاصة: رجل يكتب الفقه وبجنبه رجل يقرأ القرآن فلا يمكنه استماع القرآن فالإثم على القارئ وعلى هذا لو قرأ على السطح والناس نيام يأثم اهـ أي لأنه يكون سببا لإعراضهم عن استماعه، أو لأنه يؤذيهم بإيقاظهم."
(كتاب الصلاة، فصل في القراءة، ج:1، ص:546، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وإذا جهر الإمام فوق حاجة الناس فقد أساء؛ لأن الإمام إنما يجهر لإسماع القوم ليدبروا في قراءته ليحصل إحضار القلب."
(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الثاني في واجبات الصلاة، ج:1، ص:72، ط: رشيدية)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
"ضرورت کی بناء پر ہو تو کوئی کراہت نہیں، لیکن ضرورت کی چیز بقدرِ ضرورت ہی اختیار کی جاتی ہے، لہذا لاؤڈ اسپیکر کی آواز مسجد تک محدود رہنی چاہیے، تراویح میں اوپر کے اسپیکر کھول دینا، جس سے پورے محلے کا سکون غارت ہوجائے، جائز نہیں۔"
(کتاب الصلوۃ، تراویح، ج:2، ص:197، ط: مکتبہ لدھیانوی)
وفیہ ایضاً:
"لاؤڈاسپیکر کا استعمال ضرورت ہے، شوق کی چیز نہیں، لاؤڈ اسپیکر کی آواز اتنی ہونی چاہیے، جس سے بلاوجہ لوگوں کو ایذا نہ ہو۔"
(کتاب الصلاۃ، مسجد کے مسائل، ج:3، ص:263، ط: مکتبہ لدھیانوی)
3:
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"والمسجد وإن كبر لا يمنع الفاصل فيه. كذا في الوجيز للكردري. ولو اقتدى بالإمام في أقصى المسجد والإمام في المحراب فإنه يجوز. كذا في شرح الطحاوي."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم، ج:1، ص:88، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"ويكره أن يكون الإمام وحده على الدكان وكذا القلب في ظاهر الرواية. كذا في الهداية وإن كان بعض القوم معه فالأصح أنه لا يكره. كذا في محيط السرخسي ثم قدر الارتفاع قامة ولا بأس بما دونها ذكره الطحطاوي وقيل: إنه مقدر بما يقع به الامتياز، وقيل: بمقدار الذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد."
(كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج:1، ص:108، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"وذكر في البحر عن المجتبى أن فناء المسجد له حكم المسجد، ثم قال: وبه علم أن الاقتداء من صحن الخانقاه الشيخونية بالإمام في المحراب صحيح وإن لم تتصل الصفوف لأن الصحن فناء المسجد."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:585، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(وانفراد الإمام على الدكان) للنهي، وقدر الارتفاع بذراع، ولا بأس بما دونه، وقيل ما يقع به الامتياز وهو الأوجه ذكره الكمال وغيره (وكره عكسه) في الأصح وهذا كله (عند عدم العذر) كجمعة وعيد، فلو قاموا على الرفوف والإمام على الأرض أو في المحراب لضيق المكان لم يكره لو كان معه بعض القوم في الأصح."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:1، ص:646، ط: سعيد)
4:
فتاوی شامی میں ہے:
"قال لغيره: والله لتفعلن كذا فهو حالف، فإن لم يفعله المخاطب حنث ما لم ينو الاستحلاف."
(كتاب الأيمان، باب اليمين في الضرب والقتل وغير ذلك، ج:3، ص:848-849، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي."
(كتاب الأيمان، الباب الأول في تفسيرها شرعا وركنها وشرطها وحكمها، ج:2، ص:52، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"ولو قال: والله لتفعلن كذا وكذا ولم ينو شيئا فهو الحالف وإن أراد الاستحلاف فهو استحلاف ولا شيء على واحد منهما كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الأيمان، الباب الثاني فيما يكون يمينا وما لا يكون يمينا، الفصل الأول في تحليف الظلمة وفيما ينوي الحالف غير ما ينوي المستحلف، ج:2، ص:60، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

