عقدِ شرکت میں ایک شریک کے لیے متعین رقم بطورِ نفع طے کرنا / ہوٹل کے گڈول (محض چلتا ہوا ہونے، شہرت ) کی قیمت لگانا
سوال
ایک شخص نے ہوٹل کرایہ پر لیا ہوا تھا، اور اس میں کام کررہا تھا، پھر اس شخص نے مالک سے کہا کہ میرے لیے اکیلے ہوٹل سنبھالنا تھوڑا مشکل ہے، تو اس میں مالک کے مشورے سے دوسرا پاٹنر شریک کر لیا ہے، انہوں نے اس چلتے ہوئے ہوٹل کی قیمت 8 لاکھ روپے لگائی، ہوٹل میں سامان تقریباً ایک لاکھ روپے کا تھا، لیکن ہوٹل چلتا ہوا ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت 8 لاکھ روپے لگائی، 4 لاکھ ایک پارٹنر کی طرف سے اور 4 لاکھ دوسرے پارٹنر کی طرف سے ہوں گے، اس کے علاوہ ایڈوانس رقم کی ادائیگی اور دیگر اخراجات بھی دونوں نے مشترکہ طور پر آدھے آدھے کیے، اس طور پر کہ ایک نے کل خرچہ کیا، اور دوسرے کے حصے کا خرچہ بطورِ قرض اپنی طرف سے کیا، جو بعد میں اس سے وصول کرے گا، ان میں سے ایک سلیپنگ پارٹنر ہوگا (یعنی وہ کام نہیں کرے گا)، اور اس کو کہا ہے کہ آپ اگرچہ کام نہ کرو، ہم آپ کو مہینے کا متعین 30 ہزار روپے آپ کے حصہ کا نفع دیں گے، اور سالانہ 10 فیصد اس نفع پر اضافہ کیا جائے گا ، معاہدہ کی شقیں درج ذیل ہیں:
1- ہوٹل کی کل قیمت آٹھ لاکھ روپے ہے، جس کا آدھا 4 لاکھ روپے محمد کلیم نے شفیق الرحمان کو دے دیا۔
2- موجودہ وقت میں ہوٹل پر کل خرچہ بمع ایڈوانس 5 لاکھ 30 ہزار روپے ہے، یہ سارا خرچہ محمد کلیم نے کیا ہے۔
3- توا، بریانی کاؤنٹر، کراکری وغیرہ یہ سب کلیم کا ہے۔
4- ہوٹل سیل ہونے کی صورت میں کرنٹ قیمت سے محمد کلیم اپنا آدھا خرچہ (2 لاکھ 65 ہزار روپے) محمد شفیق الرحمان سے وصول کرے گا، باقی منافع ہوٹل کی کل قیمت کا نصف نصف ہوگا۔
5- قدرتی آفت سے یا کسی بھی حادثہ کی صورت میں کاروبار ختم ہوجائے، تو کوئی فریق دوسرے سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
6- یہ معاہدہ دونوں کے مابین اور ان کے بعد اولاد پر بھی لاگو ہوگا۔
7- سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ اس شراکت داری کی شرعی حیثیت کیا ہے؟اور جو بات خلافِ شرع ہو، اس کی تلافی کی صورت بھی ارشاد فرمادیں۔
جواب
مذکورہ معاہدہ میں چند شقیں خلافِ شرع ہیں، جس کی وجہ سے یہ شراکت داری کا معاملہ فاسد اور ناجائز ہے:
1- واضح رہے کہ کسی غیر موجود چیز کہ جس کا خارج میں وجود نہ ہو، یا محض حق کی قیمت مقرر کرکے اس کی خرید وفروخت کرنا شرعاً درست نہیں ہے، کسی شیئ کا خرید وفروخت کے قابل ہونے کے لیے اس کا متقوم (قابلِ قمیت) ہونا ضروری ہے، گڈوِل کی مستقل حیثیت سے خرید و فروخت اور اس کے عوض الگ رقم لینا شرعاً جائز نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ہوٹل کی لوکیشن، شہرت یا اس کا چلتا ہوا ہونا محض ایک حقِ مجرد ہے، جس کی شرعاً کوئی قیمت نہیں ہے، اس کی مستقل قیمت مقرر کرنا اور اس میں آدھی قیمت کو شرکت کےلیے بطورِ سرمایہ مقرر کرنا درست نہیں ہے۔
اس کے بجائے ہوٹل میں موجود سامان کی قیمت 8 لاکھ لگائی جائے، اور سامان کے تابع کرکے گڈوِل کی قیمت لگائی جائے، اور اور پھر اس میں آدھی رقم دے کر شرکت کا معاملہ کیا جائے۔
2- شرکت کے معاملہ کے شرعاً درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی پارٹنر کے لیےبطورِ نفع متعین رقم طے نہ کی گئی ہو، بلکہ ہر شریک کے لیے واقعی نفع میں سے فیصد (مشاع حصہ) طے کرنا ضروری ہے۔لہٰذا مذکورہ صورت میں سلیپنگ پارٹنر کے لیے 30 ہزار روپے متعین نفع طے کرنا شرکت کے عقد کے منافی ہے۔
اس معاملہ کو درست کرنے کے لیے حقیقی نفع میں سے متعین فیصد طے کرلیا جائے، اور پھر اسی کے مطابق کچھ رقم عارضی طور پر سلیپنگ پارٹنر کے لیے طے کی جائے، اور سال کے آخر میں مکمل حساب کرکے طے شدہ فیصد کے مطابق جو کمی بیشی ہو، اس کو پورا کرلیا جائے۔
3- اسی طرح سلیپنگ پارٹنر کے لیے ہر صورت میں سالانہ 10 فیصد اضافہ کی شرط لگانا بھی مفسدِ عقد ہے۔
4- عقدِ شرکت ختم ہونے کی صورت میں، یا کسی قسم کا نقصان ہونے کی صورت میں ضمان ہمیشہ شرکاء کے لگائے گئے سرمایہ کے تناسب سے ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ معاہدہ میں یہ شرط لگانا کہ ہوٹل سیل ہونے کی صورت میں کرنٹ قیمت سے محمد کلیم اپنا آدھا خرچہ (2 لاکھ 65 ہزار روپے) پہلے وصول کرے گا، اس کے بعد باقی منافع ہوٹل کی کل قیمت کا نصف نصف ہوگا، درست نہیں ہے، بلکہ جو ہوٹل فروخت ہونے کی صورت میں جو قیمت ہوگی، وہ دونوں میں اس کے سرمایہ کے تناسب سے ہوگی، اور اسی کے مطابق پہلا شریک دوسرے سے قرض کی رقم وصول کرے گا، اور ہر شریک پر نقصان کا تاوان بھی اسی کے مطابق ہوگا۔
5- شرکت کا معاملہ شرکاء کی حیات تک باقی رہتا ہے، کسی ایک شریک کی وفات سے شرکت کا معاملہ خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔مذکورہ معاہدہ میں جو یہ شرط لگائی گئی ہے کہ شرکاء کے بعد ان کی اولاد پر بھی بغیر تجدیدِ عقد کے یہ معاہدہ لاگو ہوگا، درست نہیں ہے۔بلکہ کسی ایک شریک کی وفات سے یہ معاہدہ ختم ہوجائے گا، اور معاہدہ کی تجدید اولاد کی رضامندی پر موقوف ہوگی۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
" (سئل) في أحد شريكي عنان وضع منه عشر مال الشركة وتوافق مع شريكه على أن له ربع الربح لكونه أكثر عملا والباقي للآخر فهل تكون الشركة صحيحة والربح على ما شرطا؟(الجواب) : نعم قال في الملتقى ومع التفاضل في رأس المال والربح ومع التساوي فيهما أو في أحدهما دون الآخر عند عملهما معا ومع زيادة الربح للعامل عند عمل أحدهما فقط. اهـ (أقول) وأما الخسران فهو على قدر المال وإن شرطا غير ذلك كما في الملتقى أيضا فتنبه."
(كتاب الشركة، شركة العنان، ج:1، ص:96، ط:دار المعرفة)
النتف فی الفتاوی للسغدی میں ہے:
" واما شركة العنان فالعنان هو الاعتراض وذلك لانه اعترض لها نوع من التجارة وهو ان يسمى كل واحد منها شيئا من ماله فيتساويان في ماليهما فأن كان مال كل واحد منهما كمال صاحبه جاز أيضاويجوز تفضيل الربح فيه في قول الفقهاء لعل احدهما ان يكون اكيس في العلم وأعلم بالتجارة ولا يجوز تفضيل الوضيعة."
(كتاب الشركة، شركة العنان، ج:1، ص:533، ط:دار الفرقان)
فتح القدیر لابن الھمامؒ میں ہے:
" قوله (ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحد دراهم مسماة من الربح) قال ابن المنذر: لا خلاف في هذا لأحد من أهل العلم. ووجهه ما ذكره المصنف بقوله لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى فيكون اشتراط جميع الربح لأحدهما على ذلك التقدير، واشتراطه لأحدهما يخرج العقد عن الشركة إلى قرض أو بضاعة على ما تقدم. وقوله (ونظيره في المزارعة) يعني إذا شرطا لأحدهما قفزانا مسماة بطلت لأنه عسى أن لا تخرج الأرض غيرها."
(كتاب الشركة، ج:6، ص:183، ط:دار الفکر)
فتاوٰی شامی میں ہے :
" وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.قال ابن عابدين: مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل إلا إذا فوت حقا مؤكدا، فإنه يلحق بتفويت حقيقة الملك في حق الضمان كحق المرتهن."
(كتاب البيوع، مطلب:لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة، ج:4، ص:418، ط:سعید)
الاجماع لابن المنذرؒ میں ہے:
" 512 - وأجمعوا على أن الشركة الصحيحة أن يُخرج كل واحد من الشريكين مالاً مثل صاحبه دنانير أو دراهم، ثُمَّ يخلطان ذلك حتى يصير مالاً واحدًا لا يتميز، على أن يبيعَا ويشتريَا ما رأيا من التجارات، على أن ما كان فيه من [فضل فلهما] (1)، وما كان من نقص فعليهما، فإذا فعلا ذلك صحت الشركة.................514 - وأجمعوا أنه إذا مات أحد منهما انفسخت الشركة."
(كتاب الشركة، ص:110، الناشر:دار الآثار للنشر والتوزيع)
فتح باب العنایہ بشرح النقایہ میں ہے:
" (وشرطها) أي شركة العقد (أن لا يعين لأحدهما دراهم من الربح) لأن هذا التعيين قد يقطع الشركة: بأن لا يبقى بعد تلك الدراهم ربح يشتركان فيه. قال ابن المنذر: ولا خلاف فيه لأحد."
(کتاب الشرکة، ج:2، ص:526، ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم)
وفیہ ایضا:
" (وتبطل الشركة بالموت، والجنون، واللحاق بدار الحرب مرتدا) لأن الشركة تقتضي الوكالة، وهي تبطل بكل من هذه الأمور، وإذا بطلت الوكالة بطلت الشركة إذ لا بد لها منها، وسواء علم الشريك بموت صاحبه أو لا."
(أیضاً، ص:535)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

