محض بھائی ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کے دعویٰ کرنے کا حکم
سوال
ہم نے تقریبا سات یا آٹھ سال پہلے اپنے دو ماموں سے زمین لی۔ ایک کو اس کی زمین کے بدلے دوسری زمین دی، اور دوسرے کورقم دی۔ یہ زمین ہمارے کھیت سے متصل ہے اور آس پاس زیادہ تر زمین ہماری فیملی کی ہے۔ ہمارے تیسرے ماموں نے اپنا حصہ کسی اور کو بیچ دیا، مگر اس پر پھر حق شفعه کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
اب ہمارے چوتھے ماموں، جن کی اس زمین سے کوئی زمین نہیں ملتی، اور نہ ہی ان کا فروخت کی گئی زمین میں کوئی حصہ ہے ،بس محض بھائی ہونے کی وجہ سے وہ سات آٹھ سال بعد اس خریدی ہوئی زمین پر حق شفعہ کا دعویٰ کررہے ہیں، جبکہ انہوں نے تیسرے ماموں کی فروخت پر کوئی دعویٰ نہیں کیا۔
کیا شریعت کی رو سے اس صورت میں چوتھے ماموں کو حق شفعه حاصل ہے؟ اور کیا اتنے عرصے بعد دعویٰ کرنا درست ہے؟
اگر ان کا حق شفعه شرعاً ثابت نہ ہو اور وہ محض ہمیں پریشان کرنے کے لیے دعویٰ کر رہے ہوں، تو ہمارے لیے شریعت کی رو سے کیا کرنا درست ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ حقِ شفعہ کے مستحقین شرعاً متعین ہیں، چنانچہ سب سے پہلے شریک فی نفس المبیع (یعنی فروخت کی جانے والی زمین میں شریک)، پھر شریک فی حقوق المبیع (یعنی فروخت کی جانے والی زمین کے مشترکہ حقوق، مثلاً راستے یا پانی میں شریک) اور اس کے بعد جارِ ملاصق (یعنی جس کی زمین فروخت شدہ زمین کے بالکل متصل ہو) کو حقِ شفعہ حاصل ہوتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب مدعی کا مذکورہ زمین میں کوئی حصہ نہیں، نہ وہ اس کے حقوق میں شریک ہے اور نہ اس کی زمین مذکورہ زمین سے متصل ہے، تو محض بھائی ہونے کی وجہ سے اسے حقِ شفعہ حاصل نہیں ہے، لہٰذا اس کا مذکورہ زمین میں حقِ شفعہ کا دعویٰ درست نہیں۔
نیز شرعاً کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ بلاوجہ دوسرے کو پریشان کرے یا اس کے حقوق میں ناحق مداخلت کرے، لہٰذا مذکورہ شخص کا چونکہ حقِ شفعہ ثابت نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ اس دعوے سے باز رہے اور فریقین کو باہمی نزاع و پریشانی سے بچائے، ورنہ سخت گناہ گار ہوگا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"الشفعة عندنا على مراتب يقدم الشريك فيها في نفس المبيع ثم الشريك في حقوق المبيع بعده ثم الجار الملاصق بعدهما."
(کتاب الشفعة، ج: 14، ص: 94، ط: دار المعرفة، بیروت، لبنان)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

