دومختلف قسم کے عطروں کا آپس کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ کرنے کاحکم
سوال
ایک شخص کے پاس ستر، اسی یا نوے گرام عطر تھی۔ اس نے وہ عطر دے کر اس کے بدلے (یعنی اسے بیچ کر اس کے عوض) دوسری عطر کی چھ یا بارہ گرام کی شیشی لی، جو مقدار میں کم ہے، اور دونوں عطروں کی خوشبو بھی الگ الگ ہے۔
اب سوال یہ ہےکہ:
دو مختلف قسم کی عطر ایک جنس شمار ہوتی ہے یا نہیں؟اگر ایک جنس شمار ہوتی ہے ،تو کیا ان کو ایک دوسرےکے بدلےکمی یا زیادتی کےساتھ بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
اگر ایک ہی قسم کی خوشبو (جیسے خالص مشک یا ایک ہی طرح کا عطر) کا آپس میں تبادلہ(یعنی بیع وشراءکا معاملہ) کیا جائے، تو اس میں برابری اور ہاتھ در ہاتھ دینا ضروری ہوگا، کمی بیشی یا ادھار جائز نہیں ہوگا۔
اوراگر خوشبو کی جنس اور اصل مختلف ہو (مثلاً مشک کو عنبر یا کسی اور بالکل مختلف عطر کے بدلے خریدا یا بدلا جائے)، تو ایسی صورت میں وزن یا مقدار میں کمی زیادتی تو جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں ہوگا، ورنہ یہ بھی سود بن جائے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب دونوں عطروں کی اصل اور خوشبو الگ الگ ہیں، تو وہ ایک جنس شمار نہیں ہوں گی، اس لیے ان کو ایک دوسرے کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے۔ البتہ نقد کے بدلے ادھار بیچنا جائز نہیں ہوگا۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
''ودهن البنفسج والحيرى جنسان والأدهان المختلفة أصولها أجناس كذا في فتح القدير والخل والزيت جنسان وكذا إذا اختلفت الأدهان بما يطيب به الدهن يجعل جنسين وإن كان أصلهما واحدا فقالوا يجوز بيع قفيز دهن سمسم مربى بقفيزي دهن سمسم غير مربى وجعلوا الرائحة التي فيه بإزاء الزيادة.''
(كتاب البيوع،الباب التاسع،الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه،ج :3، ص : 119، ط : دار الفكر بيروت)
وفیه أیضا:
"وإن وجد القدر والجنس حرم الفضل والنساء وإن وجد أحدهما وعدم الآخر حل الفضل وحرم النساء وإن عدما حل الفضل والنساء كذا في الكافي."
(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل السادس في تفسير الربا، ج:3، ص:117، ط:رشيدية)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
''ولا بأس بالبنفسج بالحنا والزئبق والورد رطلين برطل فإن الأدهان أجناس مختلفة عندنا وعند الشافعي ما اتحد أصله منها جنس واحد وفيما اختلف أصله له قولان لأن الاسم والهيئة واحد وإنما اختلف فيها الرائجة وباختلاف الرائجة لا يختلف الجنس كالمنتن من اللحم مع غير المنتن ولكنا نقول بما حل بكل واحد منهما من الصفة اختلف الأصل والمقصود ومنع عود كل واحد منهما إلى مثل حال صاحبه فيختلف الجنس كالثياب والوذاري مع الزنديجي جنسان مع اتحاد الأصل لاختلاف المقصود.''
(كتاب البيوع،أنواع الربا،ج : 12، ص: 186، ط :د ار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

