بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 دفتر دیر سے آنے، دوپہر کے بعد چلے جانے اور حاضری رجسٹر میں پورا وقت لکھنے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ کا حکم

سوال

میں ایک سرکاری دفتر میں کلرک ہوں۔ ہمارے دفتر میں عام طور پر لوگ دیر سے آتے ہیں اور دوپہر کے بعد چلے جاتے ہیں، جب کہ حاضری رجسٹر میں پورا وقت لکھا جاتا ہے اور افسر بھی کچھ نہیں کہتے۔ میں بھی کئی سال سے یہی کرتا رہا ہوں۔ میری تنخواہ کا کیا حکم ہے، اور اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ سرکاری و غیر سرکاری ملازم کی شرعی حیثیت اجیرِ خاص کی ہوتی ہے۔ وہ ملازمت کے مقررہ اوقات میں حاضر رہنے پر تنخواہ کا مستحق ہوتا ہے۔ جتنا وقت وہ بلا اجازت حاضر نہ رہے، اتنے وقت کی تنخواہ کا وہ حق دار نہیں ہوتا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں دیر سے آنے اور دوپہر کے بعد چلے جانے سے ڈیوٹی کا جتنا وقت کم ہوا ہے، اتنے وقت کی تنخواہ  حلال نہیں ہوگی۔ حاضری رجسٹر میں پورا وقت درج کرنا جھوٹ اور خیانت  اور دھوکہ دہی ہے۔ دفتر کے عام ملازمین کا یہی معمول ہونا اور افسر کا خاموش رہنا اجازت شمار نہیں ہوگا۔

سائل پر لازم ہے کہ اس عمل سے سچی توبہ کرے، آئندہ ملازمت کا پورا مقررہ وقت دفتر میں حاضر رہے اور رجسٹر میں وہی وقت لکھے جو واقعۃً حاضری کا ہو۔ گزشتہ سالوں میں جتنا وقت کم دیا ہے، اس کا حساب لگا کر اس کے بقدر رقم متعلقہ محکمہ کو کسی بھی نام سے  واپس کردے یا اتنا مزید وقت کام کرے تاکہ تنخواہ حلال ہوجائے۔

صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، رقم: 33، ج:1، ص:16، ط: السلطانية)

سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: التائب من الذنب كمن لا ذنب له."

(كتاب الزهد، باب ذكر التوبة، رقم: 4250، ج:2، ص:1419، ط: دار إحياء الكتب العربية)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
"(قوله: والأجير الخاص هو الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استأجر رجلا شهرا للخدمة، أو لرعي الغنم) وإنما سمي خاصا؛ لأنه يختص بعمله دون غيره؛ لأنه لا يصح أن يعمل لغيره في المدة."

(كتاب الإجارة، الأجير المشترك والأجير الخاص، ج:1، ص:265، ط: المطبعة الخيرية)

الاشباہ والنظائر میں ہے:
"القاعدة الثانية عشرة: لا ينسب إلى ساكت قول، فلو رأى أجنبيا يبيع ماله فسكت ولم ينهه لم يكن وكيلا بسكوته."

(الفن الأول، النوع الثاني، ص: 129، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:
"(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) ... وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل.(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة... وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة."

(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة، ج:6، ص: 69-70، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100546
تاریخ27-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں