بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہوائی جہاز میں سیٹ پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا حکم

سوال

دورانِ سفر ہوائی جہاز میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی اجازت ہوائی جہاز کا عملہ نہیں دیتا، نیز بزرگوں کی طرف سے بھی جہاز کے عملے کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایات ہوتی ہیں۔تو  کیا سیٹ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 نماز میں استقبال قبلہ اور قیام فرض ہیں۔ ان دو  میں سے کوئی ایک بھی عذر کے بغیر فوت ہو جائے تو فرض اور واجب نماز ادا نہیں ہوگی، البتہ سنن و نوافل قیام کے بغیر بھی ادا ہو جاتے ہیں۔لہذا صورتِ مسئولہ میں سیٹ پر بیٹھ کر فرض اور واجب نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم، اگر نماز کا وقت ہو جائے اور فرض یا واجب نماز کو قبلہ رُخ کھڑے ہو کر، زمین پر رکوع اور سجدے کے ساتھ ادا کرنا ممکن نہ ہو، یا عملےکی طرف  حفاظتی قوانین یا نظم و ضبط کی وجہ سے جہاز میں  کھڑے ہوکر  اجازت نہ ہو، تو فی الحال ’’ تشبہ بالمصلین‘‘ (نمازیوں کی مشابہت اختیار کرنا)  کر لے،  یعنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اشارے سے نماز پڑھ لے۔ پھر ایئرپورٹ پہنچنے پر جس نماز کا وقت باقی ہو، اس کا اعادہ کر لے اور باقی نمازوں کی قضا کر لے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الأسير في دار الحرب إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج، وكذا الرجل إذا قال لغيره: إن توضأت حبستك أو قتلتك فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد. كذا في فتاوى قاضي خان. 

المحبوس في السجن يصلي بالتيمم ويعيد بالوضوء؛ لأن العجز إنما تحقق بصنع العباد وصنع العباد لا يؤثر في إسقاط حق الله تعالى."

(كتاب الطهارة، الباب الرابع في التيمم وفيه ثلاثة فصول، الفصل الأول في أمور لا بد منها في التيمم، ج:1، ص:28، ط:دار الفكر بيروت)

البحرالرائق میں ہے:

"و في الخلاصة و فتاوى قاضي خان و غيرهما: الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء و الصلاة يتيمم و يصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج، و كذا لو قال لعبده: إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة، و في التجنيس: رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد، قيل: ينبغي أن يتيمم و يصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه اهـ. فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة و إن كان من قبل العبد وجبت الإعادة."

(کتاب الطهارة، باب التیمم، ج:1، ص:149، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100517
تاریخ27-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں