پوجا کے پنڈالوں پر سرکاری سیکیورٹی ڈیوٹی اور اس کے الاؤنس کا حکم
سوال
میں ایک سرکاری سیکیورٹی فورس میں ملازم ہوں۔ ہر سال پوجا کے دنوں میں ہماری ڈیوٹی پوجا کے پنڈالوں پر لگتی ہے۔ کئی دن تک صبح سے رات تک وہیں رہنا پڑتا ہے، جہاں ہمارا کام یہ ہوتا ہے کہ ہجوم کو قابو میں رکھیں، کوئی گڑبڑ یا چوری نہ ہو، اور مورتی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اس ڈیوٹی سے انکار کرنا ہمارے اختیار میں نہیں، اور اس کا الگ الاؤنس بھی ملتا ہے۔ کیا یہ ڈیوٹی کرنا ہمارے لیے جائز ہے، اور اس الاؤنس کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مسلمانوں کے ملک میں رہنے والے غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کے ذمہ ہے۔ ان کی وہ چیزیں بھی اسی حفاظت میں داخل ہیں جن پر انہیں ان کے دین کے مطابق برقرار رکھا گیا ہے۔ ان پر زیادتی کرنا یا ان کی ایسی چیزوں کو نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں پوجا کے دنوں میں پنڈالوں پر ہجوم کو قابو میں رکھنا، چوری اور فساد کو روکنا اور مورتی کو نقصان پہنچانے والوں کو باز رکھنا آپ کے لیے جائز ہے، اور اس ڈیوٹی کے عوض ملنے والا الاؤنس حلال ہے۔
البتہ پنڈال میں آپ کی موجودگی صرف ڈیوٹی کی حد تک رہے۔ پوجا کی کسی رسم میں شریک ہونا یا اس میں کسی طرح کا ہاتھ بٹانا جائز نہیں، مثلاً گھنٹی یا سنکھ بجانا، یا پوجا اور چڑھاوے کا سامان پہنچانا۔ اسی طرح مورتی کی تعظیم کا کوئی عمل کرنا، یا سیر و تماشے کی نیت سے پوجا دیکھنا بھی جائز نہیں۔ ڈیوٹی کے علاوہ اوقات میں وہاں ٹھہرنے سے بھی اجتناب لازم ہے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"عن عمر رضي الله عنه قال: «وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله صلى الله عليه وسلم، أن يوفى لهم بعهدهم، وأن يقاتل من ورائهم، ولا يكلفوا إلا طاقتهم.»"
(کتاب الجہاد والسیر، باب یقاتل عن أہل الذمۃ ولا یسترقون، رقم: 3052، ج: 4، ص: 69، ط: السلطانیۃ)
وفیہ ایضاً:
"عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة، وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاما.»"
(کتاب الجزیۃ، باب إثم من قتل معاہدا بغیر جرم، رقم: 3166، ج: 4، ص: 99، ط: السلطانیۃ)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) عصمة المال؛ لأنها تابعة لعصمة النفس وعن سيدنا علي رضي الله عنه أنه قال: إنما قبلوا عقد الذمة؛ لتكون أموالهم كأموالنا، ودماؤهم كدمائنا."
(کتاب السیر، فصل فی بیان ما یعترض من الأسباب المحرمۃ للقتال، ج: 7، ص: 111، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"ولو غصب مسلم من نصراني صليبا له فهلك في يده يضمن قيمته صليبا؛ لأنه مقر على ذلك."
(کتاب الغصب، فصل فی حکم الغصب، ج: 7، ص: 148، ط: سعید)
المحیط البرہانی میں ہے:
"وإذا استأجر الذمي من المسلم بيعة يصلي فيها فإن ذلك لا يجوز؛ لأنه استأجرها ليصلي فيها وصلاة الذمي معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك ما اعتبرنا كانت الإجارة باطلة... وإذا استأجر رجل من أهل الذمة مسلما يضرب لهم الناقوس فإنه لا يجوز لما ذكرنا."
(کتاب الإجارۃ، فصل فیما یجوز من الإجارۃ وما لا یجوز، ج: 7، ص: 482، ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفیہ ایضاً:
"ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز، ويطيب له الأجر."
(کتاب الإجارۃ، ج: 7، ص: 482، ط: دار الکتب العلمیۃ)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط."
(کتاب الإجارۃ، الباب السادس عشر، ج: 4، ص: 450، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"ففي البحر من كتاب الدعوى عند قول الكنز: ولا يحلفون في بيت عباداتهم. وفي التتارخانية يكره للمسلم الدخول في البيعة والكنيسة، وإنما يكره من حيث إنه مجمع الشياطين لا من حيث إنه ليس له حق الدخول اهـ قال في البحر: والظاهر أنها تحريمية؛ لأنها المرادة عند إطلاقهم، وقد أفتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود."
(کتاب الصلاۃ، ج: 1، ص: 380، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"بخلاف الصليب حيث تضمن قيمته صليبا لأنه مال متقوم في حقه وقد أمرنا بتركهم وما يدينون زيلعي."
(کتاب الأشربۃ، ج: 6، ص: 454، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

