کمپنی کا اپنے تنخواہ دار ملازم کو بیٹی کی شادی کے لیے زکوٰۃ دینا
سوال
میری تنخواہ 50 ہزار روپے ہے۔ میں کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میری ملکیت میں استعمال کی چیزوں کے علاوہ کوئی ساز و سامان، مثلاً سونا، چاندی، نقدی، پراپرٹی وغیرہ، جس کی قیمت نصاب تک پہنچ سکے، موجود نہیں ہے۔ نیز میں غیر سید ہوں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ صورت میں اگر کمپنی والے مجھے بیٹی کی شادی کے لیے زکوٰۃ دینا چاہیں تو کیا میں وہ زکوٰۃ لے سکتا ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ جس مسلمان کی ملکیت میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد نہ نصاب کے بقدر سونا، چاندی یا نقدی ہو اور نہ ہی استعمال سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچے، اور وہ سید یا ہاشمی نہ ہو، وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے، اگرچہ وہ تندرست ہو اور ملازمت کے ذریعے ماہانہ تنخواہ کماتا ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً سائل کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اس قدر مال موجود نہیں، تو سائل کے لیے کمپنی کی طرف سے دی جانے والی زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ سائل اس رقم کا مالک بن کر اسے اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات میں صرف کر سکتا ہے۔
البتہ کمپنی پر لازم ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سائل کو مالک بنا کر حوالے کرے۔ سائل کو مالک بنائے بغیر کمپنی اگر خود شادی کے انتظامات (ہال، کھانا وغیرہ) کی ادائیگی زکوٰۃ کی نیت سے کرے، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ اسی طرح یہ رقم تنخواہ، بونس یا کسی خدمت کے عوض کے طور پر دینا درست نہیں۔ مقررہ تنخواہ پوری ادا کرکے زکوٰۃ اس سے الگ دی جائے، ورنہ زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
ایک ہی مرتبہ اتنی رقم دینا کہ لینے والا صاحبِ نصاب بن جائے مکروہ ہے، تاہم دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ عیال دار کو اتنی مقدار دینے کی گنجائش ہے کہ اگر وہ اسے اپنے عیال پر تقسیم کرے تو ہر ایک کے حصے میں نصاب سے کم آئے۔ جب سائل نصاب کا مالک بن جائے، تو اس رقم کے ضرورت میں خرچ ہونے سے پہلے مزید زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
قرآنِ کریم میں ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
(التوبة: 60)
ترجمہ:
صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات پر متعین ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا (منظور) ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں اور قرضداروں کے قرضہ (ادا کرنے) میں اور جہاد میں اور مسافروں میں، یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه."
(كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضاً:
"وأما الذي يرجع إلى المؤدى إليه فأنواع: منها أن يكون فقيرا فلا يجوز صرف الزكاة إلى الغني إلا أن يكون عاملا عليها."
(كتاب الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ج:2، ص:43، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى."
(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط: رشيدية)
وفیہ ایضاً:
"والدفع إلى الواحد أفضل إذا لم يكن المدفوع نصابا كذا في الزاهدي، ويكره أن يدفع إلى رجل مائتي درهم فصاعدا، وإن دفعه جاز كذا في الهداية. هذا إذا لم يكن الفقير مديونا فإن كان مديونا فدفع إليه مقدار ما لو قضى به دينه لا يبقى له شيء أو يبقى دون المائتين لا بأس به، وكذا لو كان معيلا جاز أن يعطى له مقدار ما لو وزع على عياله يصيب كل واحد منهم دون المائتين."
(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط: رشيدية)
وفیہ ایضاً:
"لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه... ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا، كذا في الزاهدي... ولا يدفع إلى بني هاشم."
(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو دفعها المعلم لخليفته إن كان بحيث يعمل له لو لم يعطه صح، وإلا لا... (قوله: وإلا لا) أي؛ لأن المدفوع يكون بمنزلة العوض."
(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2، ص:356، ط: سعيد)
کفایت المفتی میں ہے:
"اگر وہ فی الحال مالک نصاب نہ ہو تو اس کی شادی کے لئے اس کو تملیکاً زکوٰۃ کا روپیہ دینا جائز ہے... لیکن ایک شخص کو مقدار نصاب یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔"
(کتاب الزکاۃ، باب مصارف الزکاۃ، زکوٰۃ سے کسی مستحق کی شادی کرانا، ج:6، ص:240-241، ط: ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

