بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پروبیوٹک سپلیمنٹ ( Probiotics Supplement) کے استعمال کے متعلق شرعی حکم

سوال

گزارش یہ ہے کہ آج کل طبّی دنیا میں ایک اصطلاح پروبائیوٹکس (Probiotics) بہت زیادہ رائج ہے۔ اس سے مراد وہ مفید بیکٹیریا یا جراثیم ہیں جو انسانی نظامِ ہضم کو بہتر بنانے، آنتوں کی صحت قائم رکھنے اور بعض بیماریوں کے علاج میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا مختلف طریقوں سے حاصل کیے جاتے ہیں اور مختلف شکلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر:
بعض پروبائیوٹکس قدرتی طور پر دودھ یا دہی جیسی غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔
بعض کو لیبارٹری میں تیار کیا جاتا ہے، جو کبھی جانوروں سے اخذ کیے جاتے ہیں، کبھی انسانی جسم سے، اور کبھی پودوں یا معدنیات سے۔
ان کو دوائی یا سپلیمنٹ (Supplement) کی شکل میں بھی فروخت کیا جاتا ہے، اور کبھی محض صحت و طاقت بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ فقہ  حنفی کی روشنی میں ان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی ؟ نیز اگر مذاہب اربعہ کی آراء بھی سامنے آجائیں تو شکر گزار رہوں گا ۔
 براہ کرم درج ذیل پہلوؤں پر تفصیلی وضاحت فرمائیں:
1. وہ پروبائیوٹکس جو کسی قدرتی غذا (جیسے دہی یا اچار) میں پائے جاتے ہیں، ان کا شرعی حکم کیا ہے؟
2. علاج و معالجے کے لئے اگر پروبائیوٹکس استعمال کیے جائیں تو کیا یہ جائز ہوگا؟
3. اگر یہ بیکٹیریا کسی جانور سے حاصل کیے جائیں تو ان کا حکم کیا ہوگا؟ بالخصوص اگر وہ جانور غیر مذبوحہ یا غیر حلال ہو؟
4. اگر یہ بیکٹیریا پودوں سے اخذ کیے جائیں تو اس کا حکم کیا ہوگا؟
5. اگر یہ معدنی ذرائع سے حاصل ہوں تو ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
6. پروبائیوٹکس کو بطور سپلیمنٹ یا طاقت بڑھانے کے لئے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
چونکہ یہ مسئلہ جدید دور میں عام ہو چکا ہے اور لوگوں کو پریشانی لاحق ہے، اس لیے امید ہے کہ دارالافتاء اس پر تفصیلی شرعی راہنمائی عطا فرمائے گا تاکہ عام مسلمان اعتماد کے ساتھ اس بارے میں عمل کرسکیں۔

جواب

انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی رب تعالی شانہ نے اس کی تمام تر ضروریات کا بھی ایسا منظم بندوبست فرمادیا کہ ہر ایک اپنے حصے کا رزق پاکر ہی رہتا ہے۔قرآن پاک میں رب تعالی شانہ کا فرمان ہے:

"وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔"

اس کی تفسیر میں علامہ جریر طبری رحمہ اللہ تفسیر جامع البیان میں تحریر فرماتے ہیں:

"{إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا}. يقولُ: إلا ومِن اللَّهِ رزقُها الذي يَصِلُ إليها، هو به متكفِّلٌ، وذلك قُوتُها وغذاؤُها، وما به عَيْشُها."

یعنی اللہ کے ذمے ان کا رزق ہے جس کی ذمہ داری اس نے اپنے اوپر لی ہے، اور وہ رزق غذاء اور روزمرہ کی ضروری اشیاء ہیں، جس کے اوپر اس کی زندگی کا انحصار ہے۔

تفسیر انوار التنزیل کے مصنف اس آیت میں لفظ رزق کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:

"إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها غذاؤها ومعاشها لتكفله إياه تفضلاً ورحمة۔"

یعنی اللہ پاک کے ذمے اس کا رزق اور معاش ہے، اور یہ بوجہ فضیلت اور اس کی رحمت کے ہے۔

غذاء انسانی جسم کے لیے طاقت اور قوت کے ساتھ ساتھ نشونما میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔البتہ غذاء میں سے رب تعالی شانہ نے طیب کو حلال قرار دیا ہے اور جو خبیث ہے اسے حرام قرار دیا ہے، رب تعالی شانہ کا قرآن پاک میں ارشاد گرامی میں ہے:

"وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ"

لہذا اس آیت کے لفظ "طیب "کی تفسیرکے متعلق علامہ ابن کثیر اپنی کتاب تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں کہ:

"طيبًا، أي: مستطابًا في نفسه غير ضار للأبدان ولا للعقول۔"

یعنی جو اپنی ذات میں لذیذ و مرغوب ہو اور بدن و عقل کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔

صاحب مفردات القرآن طیب کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"وأصل الطيب: ما تستلذه الحواس، وما تستلذه النفس۔"

طیب اسے کہتے ہیں کہ جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں:

"لغت میں طیبات صاف ستھری اور مرغوب چیزوں کو کہا جاتا ہے اور خبائث اس کے بالمقابل گندی اور قابل نفرت چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے۔اس لئے آیت کے اس جملہ نے یہ بتلا دیا کہ جتنی چیزیں صاف ستھری، مفید اور پاکیزہ ہیں وہ انسانوں کے لیے حلال کی گئیں اور جو گندی قابل نفرت اور مصر ہیں وہ حرام کی گئی ہیں۔"

(سورۃ المائدۃ، ج: 3، ص: 43، ط: ادارۃ المعارف)

لہذا غذاء اور خوراک انسان کے لیے زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت اور اس کا اہم ترین حصہ ہے جس کے ذریعے جسمانی زندگی قائم رہتی ہےلیکن اسلام دین بندگی اور دین فطرت ہے، لہذا کونسی غذاء استعمال کی جاسکتی ہے، کتنی استعمال کی جاسکتی ہے، کب استعمال کی جاسکتی ہےیہ سب شریعت مطہرہ میں بیان کیا گیا ہے۔

ا گر غذاکے ماخذ کو دیکھیں تو وہ  چار چیزوں میں منحصر ہیں:

جمادات، نباتات، حیوانات، مرکبات۔

1۔ جمادات :

 ایسی غیر جاندار اشیاء جو زمین، معدنیات یا دیگر غیر جاندار ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں، مثلاً نمک، پانی اور مختلف معدنی اجزاء۔

2۔ نباتات :

زمین سے اگنے والی تمام سبزیاں، ترکاریاں، پھل اور غلہ جات، ان میں سے اکثر حلال اور پاک ہیں اس شرط کے ساتھ کہ وہ صحت کےلیےنقصان دہ نہ ہوں  اور نشہ آور نہ ہوں۔

3۔ حیوانات:

جانور اور پرندے، جنہیں بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

الف۔ بحری حیوانات،ان  حیوانات میں سے فقط مچھلی حلال ہے باقی سب حرام ہیں۔

ب۔ بری حیوانات،ان  حیوانات میں سے شکاری یا نجاست والے حرام ہیں، اور جو چرنے چگنے والے پاک جانور اور پرندے ہیں وہ حلال ہیں۔

4۔ مرکبات :

ایسی غذائی مصنوعات جو مختلف اجزاء کو ملانے، خلط کرنے یا کیمیائی ترکیب کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ان کا حکم ان کے اصل اجزاء کے تابع ہے، اگر اجزاء حلال و پاک ہیں تو وہ مرکب بھی حلال ہے ورنہ نہیں۔

اس کے ساتھ ملحوظ رہے کہ شریعت میں کسی چیز کا استعمال ممنوع ہونے کی وجوہات پانچ ہیں:

1۔کرامت،جیسے: انسان

اللہ پاک نے نفس انسان کو عزت و شرافت سے نوازا ہے، خواہ وہ انسان مسلمان ہو یا کافر، عرب ہو یا عجم، مرد ہو یا عورت۔

2۔نقصان دہ اور ضرر رساں ہونا، جیسے:زہر ، مٹی وغیرہ

تمام اشاء اپنے اندر منفعت اور ضرر دونوں پہلو رکھتی ہیں، لہذا جب شیء میں ضرر کا پہلو غالب آجائے تو اس کا استمال جائز نہ ہوگا۔

3۔استخباث  جیسے: کیڑے مکوڑے وغیرہ

خبائث یعنی ایسی اشیاء کے جن سے طبیعت انسانی گھن کھائے اور جو سلیم الفطرت انسانوں کو ناپسند ہوں۔

4۔نشہ آور ہونا جیسے: آفیون وغیرہ

نشہ آور شیء انسانی عقل کو مغلوب کردیتی ہے، جوکہ محرمات میں مبتلا ہونے کا باعث بن سکتا ہے، لہذا نشہ آور اشیاء بھی ناجائز ہیں۔

5۔ نجاست، جیسے پیشاب، شراب وغیرہ

جو اشیاء اپنی ذات میں پلید و گندی ہوں۔

لہذا مذکورہ اشیاء میں سے جب دو اجزاء کا آپس میں اختلاط ہو تو شرعی حکم درج ذیل ہوگا:

اگر مضر اور غیر مضر اشیاء میں اختلاط ہو اور مضر کا ضرر برقرار رہے تو اس کا استعمال جائز نہ ہوگا، البتہ اگر مضرر کا ضرر ختم ہوجائے تو اس کا استعمال جائز ہوگا۔

مسکر اور غیر مسکر میں اختلاط ہو تو سکر کے ختم ہوجانے سے وہ شیء حلال ہوگی الا یہ کہ وہ نجس العین نہ ہو۔

اگر خبیث و غیر خبیث میں اختلاط ہو اور غیر خبیث خبث کو ختم کردے تو اس شیء کا استعمال جائز ہوگا۔

مرکب میں نجس العین ہو تو انقلاب ماہیت ہوجائے۔

اس تمام تفصیل کے بعد ملحوظ رہے کہ پروبیوٹک یا پری بیوٹک(پروبائیوٹکس (Probiotics): زندہ مفید بیکٹیریا یا بعض خمیر (Yeast)، جو مناسب مقدار میں استعمال کرنے سے صحت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں،پری بائیوٹکس (Prebiotics): ایسے غذائی اجزاء، خصوصاً فائبر، ہیں جو آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کی غذا بنتے ہیں)سپلیمنٹ   کا ماخذ  اگرنباتات، جمادات سے حاصل کیے جانے والے اجزاء ہوں تو اگر وہ نشہ آور اور نقصان دہ نہ ہوں تو اس کا استعمال جائز ہے، باقی جن سپلیمنٹ ادویات میں ماخذ کسی حیوان کا جزء ہو تو اس میں شرط یہ ہے کہ وہ حیوان ایسا جاندار ہو کہ جس کاکھانے پینے میں استعمال حلال ہے، لہذا اگر کسی حرام جانور کے اجزاء سے کوئی سپلیمنٹ تیار کی جائے تو اس کا استعمال کرنا جائز نہ ہوگا۔اسی طرح انسانی جسم سے اخذ کیے جانے کی صورت میں بھی اس کا استعمال جائزنہ ہوگا۔

لہذا کسی بھی پروبیوٹک(Probiotics) یا پری بیوٹک(Prebiotics)سپلیمنٹ ادویات کے استعمال سے پہلے اس کے اجزاء ترکیبی لازماً دیکھ لئے جائیں،لہذا؛

1۔ قدرتی غذاء سے حاصل ہونے والا پروبائیوٹکس کا استعمال غذاء کے حلال ہونے کی صورت میں جائز ہوگا۔
2۔جائز ہوگا۔
3۔جانور اگر حلال نہ ہو یا حلال تو ہو لیکن اسے ذبح نہ کیا گیا ہو تو اس کے اجزاء سے بنائی گئ سپلیمنٹ کا استعمال جائز نہ ہوگا۔
4۔جو اجزاء پودوں سے کشید کیے جائیں تو نشہ آور نہ ہونے کی صورت میں اس سے تیار کردہ سپلیمنٹ کا استعمال جائز ہوگا، یہی حکم معدنی اجزاء سے بنائی جانے والی سپلیمنٹ کا بھی ہے۔
5۔صحت کی بہتری اور طاقت کے لیے حلال اجزاء پر مشتمل ہونے کی صورت میں استعمال جائز ہے۔

تفسیر طبری میں ہے:

"{إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا}. يقولُ: إلا ومِن اللَّهِ رزقُها الذي يَصِلُ إليها، هو به متكفِّلٌ، وذلك قُوتُها وغذاؤُها، وما به عَيْشُها."

(سورة الهود، ج: 12، ص: 324، ط: دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان مصر)

انوار التنزیل(تفسیر بیضاوی)میں ہے:

"إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُها غذاؤها ومعاشها لتكفله إياه تفضلاً ورحمة۔"

(سورة الهود، ج: 3، ص: 128، ط:  دار إحياء التراث العربي)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"طيبًا، أي: مستطابًا في نفسه غير ضار للأبدان ولا للعقول۔"

(سورة البقرة، ج: 1، ص: 478، ط:  دار طيبة للنشر والتوزيع، الرياض)

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"فسر الأول بالأشياء التي يستطيبها الطبع كالشحوم، والثاني بالأشياء التي يستخبثها كالدم، فتكون الآية دالة على أن الأصل في كل ما تستطيبه النفس ويستلذه الطبع الحل وفي كل ما تستخبثه النفس ويكرهه الطبع الحرمة إلا لدليل منفصل، وفسر بعضهم الطيب بما طاب في حكم الشرع والخبيث بما خبث فيه كالربا والرشوة."

(سورةالاعراف، ج: 5، ص: 77، ط: دار الكتب العلمية)

مفردات القرآن للراغب اصفہانی میں ہے:

"وأصل الطيب: ما تستلذه الحواس، وما تستلذه النفس۔"

(طيب، ص: 527، ط: دار القلم)

فتح القدیر للشوکانی میں ہے:

وذلك أن الأولى بالإنسان صلاح نفسه وعونه لها على طاعة ربها، ولا شيء أضر للجسم من المطاعم الردية، لأنها مفسدة لعقله ومضعفة لأدواته التي جعلها الله سببا إلى طاعته

(سورة المائدة، ج: 2، ص: 80، ط:  دار ابن كثير)

العقود الدریۃ میں ہے:

"ضبط أهل الفقه حرمة التناول إما بالإسكار كالبنج وإما بالإضرار بالبدن كالتراب، والترياق أو بالاستقذار كالمخاط، والبزاق وهذا كله فيما كان طاهرا۔"

(مسائل شتی من الحظر والاباحة، ج: 2، ص: 363، ط: دارالمعرفة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب الآدمي مكرم شرعا ولو كافرا (قوله ذكره المصنف) حيث قال: والآدمي مكرم شرعا وإن كان كافرا فإيراد العقد عليه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له. اهـ أي وهو غير جائز وبعضه في حكمه وصرح في فتح القدير ببطلانه۔"

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج: 5، ص: 58، ط: سعيد)

 بہشتی زیور میں ہے:

"جو چیزیں علاج میں کام آتی ہیں وہ چار قسم کی ہیں، جمادات، نباتات، حیوانات اور ان سے مرکب چیزیں۔ "

(حصہ نہم طبی جوہر، ص: 653، ط: دار الاشاعت)

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100379
تاریخ27-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں