دینی مجالس کے انعقاد کے لیے مسجد کی چھت پر ہال بنانا کیسا ہے؟
سوال
ایک مسجد زیرِ تعمیر ہے۔ مسجد کی چھت پر ایک ہال تعمیر کرنے کا ارادہ ہے، جسے مختلف اسلامی اجتماعات، دینی مجالس، سیمینارز اور دیگر دینی پروگراموں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مسجد کی چھت پر اس طرح کا ہال تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے؟ نیز اگر مسجد کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اس ہال کی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے تو کیا اس میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟راہِ کرم اس مسئلے کی شرعی حیثیت سے آگاہ فرمائیں۔
وضاحت: مسجد کا ایک فلور تعمیر ہو چکا ہے اور اس میں باقاعدہ باجماعت نمازیں بھی ادا کی جاتی ہیں۔ اب اس مسجد کو مزید وسعت دے کر پانچ فلور تک تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ایک مسجد کمپلیکس ہوگا، جس میں نماز، تلاوت، ذکر و اذکار کے ساتھ ساتھ دینی مجالس اور دیگر دینی سرگرمیاں بھی انجام دی جائیں گی، اتنی بات پہلےسے ہی سب کے پاس واضح تھی، البتہ ابتدائے تعمیر کے وقت واقف یا بانیِ مسجد کی طرف سے اس بات کو الگ سے متعین نہیں کیا گیا تھا کہ مسجد کی چھت پر دینی مجالس اور سیمینارز کے انعقاد کے لیے ہال تعمیر کیا جائے، کیونکہ ہمارے یہاں جیسے جیسے ایک ایک فلور تعمیر ہوتا ہے، اسی وقت یہ طے کیا جاتا ہے کہ اس میں کون سے دینی کام انجام دیے جائیں گے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسجد کی ایک منزل تعمیر ہو کر جب اس میں باقاعدہ باجماعت نماز کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، تو وہ شرعی مسجد بن چکی ہے۔ اب اس مسجد کی زمین کی گہرائی سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک کا پوری خلا ہمیشہ کے لیے شرعی مسجد ہی کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اب اس مسجد کی چھت پر جو بھی عمارت یا ہال تعمیر کیا جائے گا، وہ بھی مسجد ہی کا حصہ شمار ہوگا۔ اور اس میں مسجد کے آداب، احترام اور تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف اسلامی اجتماعات، دینی مجالس اور دیگر مذہبی پروگرام منعقد کرنا تو شرعاً جائز ہوگا، تاہم شور شرابہ، مرد و زن کے اجتماعات (جیسے عام ہالوں میں منعقد کیے جاتے ہیں) کی اجازت نہیں ہوگی۔
نیز حائضہ و جنبی شخص کو اس حصہ میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اسی طرح ناپاک لباس میں جانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية.
(قوله: أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه على قولهما ط وعبارة التتارخانية، وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس ثم جاء بعد ذلك يبني لا بترك اهـ وبه علم أن قوله في النهر."
(كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد، ج: 4، ص: 358، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
وفیہ ایضاً:
"(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا.
(قوله: وإذا جعل تحته سردابا) جمعه سراديب، بيت يتخذ تحت الأرض لغرض تبريد الماء وغيره كذا في الفتح وشرط في المصباح أن يكون ضيقا نهر (قوله أو جعل فوقه بيتا إلخ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجدا فيما إذا لم يكن وقفا على مصالح المسجد وبه صرح في الإسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا. اهـ. شرنبلالية. قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية."
(كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد، ج: 4، ص: 357-358، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
وفیہ ایضاً:
"(قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي."
(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، ص: 656، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:
(الجواب) مسجد کی ابتدائی ( پہلی) تعمیر کے وقت بانی مسجد نیت کرے کہ مسجد کے نیچے کے حصے میں مسجد کے مفاد کے لئے دکانیں اور اوپر کے حصہ میں امام و مؤذن کے لئے کمرے بنانے ہیں۔ یعنی مسجد کی ابتدائی تعمیر کے وقت اس کے نقشہ میں دکان، کمرے بھی شامل ہوں اور مسجد کی مفاد کے لئے وقف ہوں تو بنا سکتے ہیں۔ اور یہ شرعی مسجد سے خارج رہیں گے۔ اس جگہ پر حائضہ اور جنبی آدمی جا سکے گا۔ (شامی ص ۵۱۲ ج ) مگر جب ایک بار مسجد بن گئی اور ابتدائی تعمیر کے وقت نیچے دکان اور اوپر کے حصہ میں کمرے شامل نہ ہوں تو مسجد کے اوپر کا حصہ آسمان تک اور نیچے کا حصہ تحت الشری تک مسجد کے تابع اور اسی کے حکم میں ہو چکا ۔ اب اس کا کوئی حصہ (جزو ) مسجد سے خارج نہیں کہا جا سکتا اور اس جگہ مسجد کی آمدنی کے لئے دکان د کمرے نہیں بنائے جاسکتے ۔ اس جگہ احترام مسجد جیسا ہے۔ حائضہ عورت اور جنبی آدمی کا وہاں جانا درست نہیں۔"
(احكام المسجد والمدارس، مسجد کے اوپر نیچے دوکان ، کمرے بنانا کیسا ہے، ج: 9، ص: 93، ط: دار الاشاعت كراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

