دریا کے کٹاؤ سے کھلنے والی قبروں کی ہڈیوں اور باقی قبروں کی منتقلی کا حکم
سوال
ہمارے گاؤں کا قبرستان دریا کے کنارے ہے۔ پچھلی برسات میں دریا نے کنارہ کاٹا تو کئی قبریں کھل گئیں اور کچھ ہڈیاں باہر نظر آنے لگیں۔ اگلی برسات میں باقی قبرستان بھی دریا میں چلے جانے کا ڈر ہے۔ گاؤں والے چاہتے ہیں کہ کھلی ہوئی قبروں کی ہڈیاں، اور ساتھ ہی باقی قبریں بھی کھود کر نئی جگہ منتقل کردی جائیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ میت کو دفن کرنے اور قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد قبر کھود کر میت کو نکالنا حرام ہے۔ اس کی اجازت صرف اس صورت میں ہے جب قبر کی جگہ کے ساتھ کسی انسان کا حق متعلق ہو، مثلاً زمین غصب کی ہوئی ہو یا شفعہ میں لے لی گئی ہو۔ مسلمان میت کی ہڈیاں بھی زندہ انسان کی طرح قابلِ احترام ہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جن قبروں کو دریا نے کاٹ دیا ہے اور ان کی ہڈیاں باہر آگئی ہیں، ان ہڈیوں کو احترام سے جمع کرکے ایک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ دفن کردیا جائے۔ اگر کئی میتوں کی ہڈیاں ایک قبر میں رکھنی پڑیں تو ہر میت کی ہڈیوں کے درمیان مٹی کی آڑ بنادی جائے۔ ان پر دوبارہ غسل اور نمازِ جنازہ نہیں ہوگی۔
جو قبریں ابھی صحیح سالم ہیں، انہیں صرف اس اندیشے کی بنا پر کھود کر میتوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں کہ آئندہ برسات میں دریا انہیں بہا لے جائے گا۔ ان قبروں پر مٹی ڈال کر اور ان کے اطراف کو پتھر یا بلاک وغیرہ سے مضبوط کرکے حتی الامکان محفوظ رکھا جائے۔ اگر بعد میں کسی قبر کو دریا کاٹ دے اور اس کی ہڈیاں ظاہر ہوجائیں تو ان کا بھی وہی حکم ہوگا جو اوپر ذکر ہوا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كسر عظم الميت ككسره حيا». رواه مالك وأبو داود وابن ماجه."
(كتاب الجنائز، باب دفن الميت، ج: 1، ص: 537، ط: المكتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو وضع لغير القبلة، فإن كان قبل إهالة التراب عليه، وقد سرحوا اللبن أزالوا ذلك؛ لأنه ليس بنبش، وإن أهيل عليه التراب ترك ذلك؛ لأن النبش حرام."
(كتاب الصلاة، فصل في سنة الدفن، ج: 1، ص: 319، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی قاضی خان میں ہے:
"ولا يسع إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة وأخذت بالشفعة، وإن وقع في القبر متاع، فعلم بذلك بعد ما أهالوا عليه التراب ينبش."
(كتاب الصلاة، ج: 1، ص: 195، على هامش الهندية، ط: رشيدية)
تبیین الحقائق میں ہے:
"قال - رحمه الله -: (ولا يخرج من القبر) يعني لا يخرج الميت من القبر بعد ما أهيل عليه التراب للنهي الوارد عن نبشه. قال - رحمه الله -: (إلا أن تكون الأرض مغصوبة) فيخرج لحق صاحبها إن شاء، وإن شاء سواه مع الأرض وانتفع به زراعة أو غيرها."
(باب الجنائز، ج: 1، ص: 246، ط: دار الكتاب الإسلامي)
البحر الرائق میں ہے:
"والحادي عشر المنبوش الطري فيكفن كالذي لم يدفن، والثاني عشر المنبوش المتفسخ فيكفن في ثوب واحد."
(كتاب الجنائز، تكفين الميت، ج: 2، ص: 191، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة، والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح."
(كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت، ج: 1، ص: 163-164، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها، كذا في التتارخانية، وهو الأصح وعليه الفتوى."
(الفصل السادس في القبر والدفن والنقل من مكان إلى آخر، ج: 1، ص: 166، ط: رشيدية)
وفیہ ایضاً:
"ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا إذا كانت الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان."
(الفصل السادس في القبر والدفن والنقل من مكان إلى آخر، ج: 1، ص: 167، ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"قال في الفتح: ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم، إلا أن لا يوجد، فتضم عظام الأول، ويجعل بينهما حاجز من تراب."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، ج: 2، ص: 233، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(وجاز) ذلك حوله (بأرض رخوة) كالتابوت."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، ج: 2، ص: 236، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(ولا يخرج منه) بعد إهالة التراب (إلا) لحق آدمي كـ(أن تكون الأرض مغصوبة أو أخذت بشفعة). (قوله إلا لحق آدمي) احتراز عن حق الله تعالى كما إذا دفن بلا غسل أو صلاة أو وضع على غير يمينه أو إلى غير القبلة، فإنه لا ينبش عليه بعد إهالة التراب."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، ج: 2، ص: 238، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

