شوہر کے کہنے پر بیوی کا ’’اگر میں نے گھر میں جھوٹ بولا ہو یا بولوں تو مجھے تین طلاق‘‘ کہنا
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ یوں بولو: ’’اگر میں نے گھر میں جھوٹ بولا ہو یا جھوٹ بولوں تو مجھے تین طلاق۔‘‘ چنانچہ بیوی نے بھی یہی جملہ دہرایا کہ ’’اگر میں نے گھر میں جھوٹ بولا ہو یا جھوٹ بولوں تو مجھے تین طلاق۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی؟ نیز، جب عورت نے خود اپنے اوپر طلاق کے وقوع کی بات کی ہے، تو کیا اس جملے کو شوہر کی طرف منسوب کیا جائے گا یا عورت کی طرف؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے کہنے پر بیوی نے جو جملہ ادا کیا کہ" اگر میں نے گھر میں جھوٹ بولا ہو یا جھوٹ بولوں تو مجھے تین طلاق"، تو اس سے تین طلاقیں جھوٹ بولنے کے ساتھ معلق ہوگئیں؛ کیونکہ شوہر کے کہنے پر طلاق کے الفاظ کی نسبت اپنی طرف کرکے کہنا تفویضِ طلاق کے حکم میں ہوتا ہے۔ پس اگر بیوی نے جھوٹ بولا تو شرط پوری ہونے پر اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اور وہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوجائے گی، جس کے بعد شوہر کے لیے بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہوگا ۔ اور اگر اس نے اس سے پہلے گھر میں جھوٹ نہیں بولا تھا تو فی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی؛ البتہ آئندہ جب بھی وہ گھر میں جھوٹ بولے گی، اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن ابن عباس، قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل، فقال: يا رسول الله، إن سيدي زوجني أمته، وهو يريد أن يفرق بيني وبينها، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فقال: يا أيها الناس، ما بال أحدكم يزوج عبده أمته، ثم يريد أن يفرق بينهما، إنما الطلاق لمن أخذ بالساق."
(کتاب الطلاق، باب طلاق العبد، رقم: 2081، ج:1، ص:672، ط: دار إحياء الكتب العربية)
المحیط البرہانی میں ہے:
"والأصل في هذا: أن الزوج يملك إيقاع الطلاق بنفسه فيملك التفويض إلى غيره فيتوقف عمله على العلم؛ لأن تفويض طلاقها إليها يتضمن معنى التمليك، لأنها فيما فوض إليها من طلاقها عاملة لنفسها دون الزوج، والإنسان فيما يعمل لنفسه يكون مالكا."
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:240، ط: دار الکتب العلمیۃ)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"ولو قال لامرأته: قولي أنا طالق لم تطلق حتى تقول لأنه أمر بالإنشاء."
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:139، ط: مطبعة الحلبي)
البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:
"ولو قال لها: قولي أنا طالق تطلق إذا قالت، وإذا لم تقل لا."
(کتاب الطلاق، ج:5، ص:366، ط: دار الکتب العلمیۃ)
فتح القدیر میں ہے:
"ولو قال: قولي أنا طالق لا تطلق حتى تقولها."
(کتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، ج:4، ص:7، ط: مصطفى البابي الحلبي)
وفیہ ایضاً:
"(قوله وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز."
(کتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، فصل في المشيئة، ج:4، ص:105، ط: مصطفى البابي الحلبي)
البحر الرائق میں ہے:
"ولو قال قولي أنا طالق لا تطلق حتى تقولها."
(کتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج:3، ص:270، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج:1، ص:420، ط: رشیدیۃ)
وفیہ ایضاً:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها."
(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط: رشیدیۃ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

