بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیکٹری میں نمازوں کے لیے مختص جگہ پر جمعہ کا قیام جائز ہے

سوال

ایک فیکٹری ہے، جس میں باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ مختص ہے،مسجد نہیں ہے  اور یہ فیکٹری شہر کی حدود میں ہے کیا اس میں نماز جمعہ ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب

 جمعہ کی نماز  درست ہونے کے لیے  مسجد یا جامع مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے، شہر ، فنائے شہر   یا بڑی بستی میں جہاں کہیں مسجد کی طرح نماز پڑھنے کی عام اجازت ہو،  وہاں جمعہ کی نماز پڑھنا صحیح ہے،  لہذا صورت مسئولہ میں فیکٹری میں نماز کے لیے مختص کی گئی جگہ  پر جمعہ  کی شرائط  کی رعایت رکھتے ہوئے نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے،  تاہم اس صورت میں مسجد کی نماز کا ثواب نہیں ملے گا۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت."

(كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج: 1، ص: 259 ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل وكذلك في المكتوبات ولو كان الفقيه قارئا فالأفضل والأحسن يصلي بقراءة نفسه ولا يقتدي بغيره، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع، فصل فی التراویح، ج: 1، ص: 116، ط: رشيدية)

حلبی کبیرمیں  ہے:

"و المسجد الجامع لیس بشرط و لھذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر."

(کتاب الصلوۃ، فصل فی صلوۃ الجمعة، ص: 551، ط: مکتبة رشیدیة)

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100310
تاریخ19-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں