بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1448ھ 08 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واجب چھوٹ جانے کی وجہ سے نماز کا اعادہ ہورہاہو تو مسبوق کے لئے کیا حکم ہے

سوال

اگر واجب کے چھوٹ جانے کی وجہ سے نماز کا اعادہ ہو رہا ہو تو وہ شخص جو اسی فرض نماز میں مسبوق تھا ،کیا وہ اپنی پہلے والی نماز پوری کر کے شریک ہوگا یا اپنی نماز توڑ کر شریک ہوگا؟ 

جواب

واضح رہے کہ واجب چھوٹ جانے کی  وجہ سے جو نماز   واجب الاعادہ ہوتی ہے، اس نماز کی حیثیت فرض کی ادائیگی میں ہونے والے نقصان کی تلافی ہے، یعنی فرض ایسے افراد  کے ذمہ سے پہلی نماز سے  ہی ساقط ہوجاتا ہے، البتہ اس کی ادائیگی میں نقص رہ جاتا ہے جس کی تلافی کےلئے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری ہوتاہے۔لہذا  پہلی نمازکے مسبوق  اپنی نماز مکمل کئے بغیر دوسری جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا،بلکہ اس پر لازم ہے وہ   پہلے اپنی نماز مکمل کرےتاکہ اس کا فرض ادا ہوجائے،نماز مکمل کرنے کے بعد وہ دوسری  اعادہ والی نماز کی  جماعت میں شامل ہوگا۔

اگر  اس مسبوق نے اپنی نماز مکمل کئے بغیر توڑدی  اور دوسری جماعت میں شامل ہوگیا تو اس کا فرض ادا نہیں ہوگا،فرض اس کے ذمہ باقی رہے گا،جس کے لئے اس کو دوبارہ اکیلے نماز پڑھنا ضروری ہوگا،یا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا ضروری ہوگاکہ جو فرض ادا کررہا  ہو۔

فتح القدير شرح الهداية میں ہے:

"ولا إشكال في وجوب الإعادة، إذ هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، يكون جابراً للأول؛ لأن الفرض لا يتكرر."

( كتاب الصلاة، ، باب صفة الصلوة، 1 / 301، ط: مصطفى البابي الحلبي بمصر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح میں ہے:

"قوله: "وإعادتها بتركه عمدا" أي ما دام الوقت باقيا وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره ويندب إعادتها لترك السنة."

( كتاب الصلاة، فصل في بيان واجب الصلاة، ص: 247، ط: دار الكتب العلمية)

کفایت المفتی میں ہے:

"کسی وجہ سے دوبارہ نماز پڑھی جائے تو مسبوق کے لئے کیا حکم ہے؟

(سوال) اگر نماز کا کسی واجب یا سنت کے ترک پر اعادہ کیا جائے تو مسبوق کا کیا حکم ہے ؟ آیادہ اپنی گنی ہوئی رکعت کو پورا کر کے جماعت میں ملے یا سلام پھیر کر فورا مل جائے؟

(جواب ٦٧٩) سنت یا واجب کے ترک پر اعادہ کیا جائے تو مسبوق اپنی نماز پوری کرے اور اعادہ والی نماز میں اپنی نماز پوری کر کے شریک ہو ۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ"

( کتاب الصلاة،3 / 635، ط: دار الاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"اعادہ والی نماز میں نئے آدمی کی شرکت

سوال (۲۸۲۷): امام صاحب سے کوئی واجب ترک ہو گیا جس کی وجہ سے دوبارہ نماز لوٹا ئی گئی جس کے اندر کوئی نیا نمازی آکر شامل ہو گیا تو اس شخص کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلياً:

ولها واجبات لا تفسد بتركها، وتعاد وجوباً في العمد والسهو إن لم يسجد، وإن لم يعد يكون فاسقاً آثماً، وكذا كل صلوة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها، والمختار أنه جابر للأول ؛ لأن الفرض لا يتكرر، اهـ در مختار قوله : والمختار أنه : أي الفصل الثاني جابر للأول منزلة الجبر بسجود  السهو، والأول يخرج عن العهدة، وإن كان على وجه الكراهيةعلى الأصح ، اهـ . شامي مكتبه نعمانیه دیوبند -

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہو گیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے اور طحطاوی شرح مراقی الفلاح میں تصریح ہے کہ یہ دوسری نماز نفل ہے ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ نئے آدمی کو اس میں شرکت کی اجازت نہ ہو، شیخ ابن ہمام نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔"

( کتاب الصلاة، باب الجماعہ، 6 / 445 - 446، ط: فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100303
تاریخ01-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں