معلق طلاق میں شرط نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوگی
سوال
ایک لڑکے کا چھوٹی عمر میں نکاح ہوا تھا لیکن اس کی ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی کچھ لوگوں نے پروپیگنڈا کر کے اس لڑکی کی تصویرکسی اور لڑکے کے ساتھ ایڈیٹ کر کے اس لڑکے کو بھیج دی وہ لڑکا غیر ملک تھا اور ان پڑھ تھا اور اصل حقائق کو پہچان نہ سکا تو لوگوں نے چال چل کے اس لڑکے سے طلاق کروائی اس لڑکے نے طلاق اس شرط پر دی کہ اگر یہ تصویریں اصل ہیں تو پھر طلاق ہے اگر تصویریں اصل نہیں ہیں تو پھر میری طلاق نہیں ہے تو اب تحقیق ہو گئی ہے کہ تصویریں اصل نہیں ہیں تو اب اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکے کا یہ کہنا کہ "اگر یہ تصویریں اصل ہیں تو پھر طلاق ہے اگر تصویریں اصل نہیں ہیں تو پھر میری طرف سے طلاق نہیں ہے" سے طلاق معلق ہوگئی ہے، اس کے بعد جب تحقیق سے معلوم ہوگیا ہے کہ تصویریں اصل نہیں ہیں بلکہ ایڈٹ شدہ تصویریں ہیں تو طلاق واقع ہونے کی شرط نہیں پائی گئی، لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:
"وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح، مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق.
م: (وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح، مثل أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق) ش: وبه قال عمر بن الخطاب وعبد الله بن مسعود وعبد الله بن عمر وأبو بكر بن عمرو بن حزم وأبو بكر بن عبد الرحمن وشريح والزهري وسعيد بن المسيب والنخعي والشعبي ومكحول وسالم بن عبد الله وعطاء وحماد بن أبي سليمان في آخرين، وهو قول مالك وربيعة والأوزاعي والقاسم وعمر بن عبد العزيز وابن أبي ليلى، لكن قالوا: هذا إذا لم يعين بل عين امرأة أو قال: كل امرأة أتزوجها من بني تميم أو بني أسد."
(کتاب الطلاق، باب الایمان فی الطلاق، ج:5، ص:410، ط:دار الکتب العلمية)
البنایۃ فی شرح الہدایۃ میں ہے:
"قال: وزوال الملك بعد اليمين لا يبطلها؛ لأنه لم يوجد الشرط، فبقي والجزاء باق لبقاء محله، فبقي اليمين. ثم إن وجد الشرط في ملكه انحلت اليمين ووقع الطلاق؛ لأنه وجد الشرط، والمحل قابل للجزاء، فينزل الجزاء ولا تبقى اليمين لما قلنا. وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين لوجود الشرط، ولم يقع شيء لانعدام المحلية.
م: (قال) ش: أي القدوري - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -: م: (وزوال الملك بعد اليمين) ش: أي زوال ملك الرجل عن عصمة امرأته بأن طلقها بائنة بعد اليمين م: (لا يبطلها) ش: أي لا يبطل اليمين صورته: قال لها إن دخلت الدار فأنت طالق ثم أبانها تبقى اليمين م: (لأنه لم يوجد الشرط، فبقي) ش: أي اليمين م: (والجزاء باق لبقاء محله) ش: لأن الثلاث لم توجد م: (فبقي اليمين) ش: كما كان في ذمة الحالف.
م: (ثم إن وجد الشرط) ش: وهو دخول الدار م: (في ملكه) ش: يعني بعد أن تزوجها ثانياً. م: (انحلت اليمين) ش: لأن اللفظ لا يدل على التكرار، فبوجود الشرط مرة انتهت اليمين، بخلاف كلمة كلما م: (ووقع الطلاق؛ لأنه وجد الشرط، والمحل قابل للجزاء) ش: المحل هي المرأة والملك فيها موجود والجزاء ووقوع الطلاق م: (فينزل الجزاء ولا يبقى اليمين) ش: لأنها انتهت لعدم دلالة اللفظ على التكرار م: (لما قلنا) ش: إشارة إلى قوله فبوجود الفعل مرة يتم الشرط م: (وإن وجد) ش: أي الشرط، وهو دخول الدار م: (في غير الملك) ش: يعني بعد زوال الملك قبل التزوج ثانياً م: (انحلت اليمين لوجود الشرط ولم يقع شيء) ش: من الطلاق م: (لانعدام المحلية) ش: أي محل الطلاق لعدم الملك."
(كتاب الطلاق، باب الايمان في الطلاق، ج:5، ص:419، 420، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

