حفظ کے بعد قرآنِ کریم بھول جانے کا حکم اور اس کا تدارک
سوال
بچپن میں میں نے قرآن مجید حفظ کیا تھا۔ اسکول اور پھر نوکری میں لگ کر دہرانا چھوٹ گیا، اور اب حال یہ ہے کہ آخری دو پاروں کے سوا دیکھے بغیر نہیں پڑھ سکتا۔ ابو کہتے ہیں کہ قرآن بھول جانا بہت بڑا گناہ ہے۔ کیا میں گناہ گار ہوں، اور اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟
جواب
واضح رہے کہ قرآنِ کریم حفظ کرنے کے بعد غفلت اور بے توجہی سے اسے بھلا دینا سخت گناہ اور اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت کی ناقدری ہے، اور حدیث شریف میں قرآن پڑھ کر بھلا دینے والے کے بارے میں یہ وعید آئی ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کوڑھی یا ہاتھ کٹے ہونے کی حالت میں ملے گا۔ اس حدیث میں بھلا دینے کی دو تفسیریں منقول ہیں: ایک یہ کہ قرآنِ کریم اس حد تک بھول جائے کہ دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے، فقہاءِ کرام نے نسیان کی یہی تفسیر کی ہے؛ دوسری یہ کہ قرآنِ کریم کو پسِ پشت ڈال کر اس کے احکام پر عمل چھوڑ دے، حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔ لہٰذا الفاظ یاد ہونے کے باوجود قرآنِ کریم کے احکام پر عمل چھوڑ دینا بھی اس وعید میں داخل ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل دیکھ کر قرآنِ کریم پڑھ سکتا ہے، لہٰذا وہ پہلی تفسیر کے مطابق حدیث کی مذکورہ خاص وعید کا مصداق نہیں، تاہم دَور ترک کرنے کے نتیجے میں حفظ کا بھول جانا گناہ ہے اور والد صاحب کی بات اس حد تک درست ہے۔ سائل پر لازم ہے کہ اپنی اس کوتاہی پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرے، اور ملازمت کی مصروفیت کے ساتھ روزانہ کا کچھ وقت مقرر کرکے، خواہ ایک رکوع یا ایک پاؤ ہی ہو، کسی قاری صاحب کی نگرانی میں یا خود دوبارہ یاد کرنا شروع کرے، جو حصہ یاد ہوتا جائے اسے سنن و نوافل میں پڑھتا رہے، آخری دو پاروں کا دَور بھی پابندی سے جاری رکھے، اور قرآنِ کریم کے احکام پر عمل اور گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کرے۔ جو شخص مسلسل محنت کے ساتھ یاد کرنے میں لگا رہے اور حافظے کی کمزوری کی وجہ سے پختگی حاصل نہ ہو سکے تو امید ہے کہ وہ اس وعید سے محفوظ رہے گا۔
قرآنِ کریم میں ہے:
"وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ"
(سورۃ ابراہیم: 7)
ترجمہ:
"اور وہ وقت یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے تم کو اطلاع فرمادی کہ اگر تم شکر کروگے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم نا شکری کرو گے تو (یہ سمجھ رکھو) میرا عذاب بڑا سخت ہے۔"
صحیح بخاری میں ہے:
"عن عبد الله قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «بئس ما لأحدهم أن يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل نسي، واستذكروا القرآن، فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم»."
(كتاب فضائل القرآن، باب استذكار القرآن وتعاهده، ج: 6، ص: 193، رقم: 5032، ط: السلطانیۃ)
وفیہ ایضاً:
"عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «تعاهدوا القرآن، فوالذي نفسي بيده، لهو أشد تفصيا من الإبل في عقلها»."
(كتاب فضائل القرآن، باب استذكار القرآن وتعاهده، ج: 6، ص: 193، رقم: 5033، ط: السلطانیۃ)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «بئسما لأحدهم يقول: نسيت آية كيت وكيت، بل هو نسي، استذكروا القرآن، فلهو أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم بعقلها»."
(كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الأمر بتعهد القرآن وكراهة قول نسيت آية كذا، ج: 1، ص: 544، رقم: 790، ط: دار إحياء التراث العربي)
سنن ابی داود میں ہے:
"عن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم»."
(باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، ج: 1، ص: 549، رقم: 1474، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)
عون المعبود میں ہے:
"(ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه) أي بالنظر أو بالغيب أو المعنى ثم يترك قراءته نسي أو ما نسي (إلا لقي الله يوم القيامة أجذم) أي ساقط الأسنان أو على هيئة المجذوم أو ليست له يدا أو لا يجد شيئا يتمسك به في عذر النسيان أو ينكسر رأسه بين يدي الله حياء وخجالة من نسيان كلامه الكريم وكتابه العظيم."
(باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه، ج: 4، ص: 242، ط: دار الكتب العلمية)
فیض القدیر میں ہے:
"(ما من امرئ يقرأ القرآن) يحتمل بحفظه عن ظهر قلب ويحتمل يتعود قراءته نظرا في المصحف أو تلقينا ويدل للأول بل يعنيه قوله (ثم ينساه إلا لقى الله يوم القيامة) وهو (أجذم) بذال معجمة أي مقطوع اليد كذا قال أبو عبيد."
(ج: 5، ص: 472، ط: المكتبة التجارية الكبرى)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"والنسيان عندنا أن لا يقدر أن يقرأ بالنظر، كذا في شرح شرعة الإسلام."
(كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاة، ج: 2، ص: 605، ط: دار الفكر)
التمہید میں ہے:
"وقال ابن عيينة في معنى حديث سعد بن عبادة هذا وما كان مثله: إن ذلك في ترك القرآن وترك العمل بما فيه، وإن النسيان أريد به ههنا الترك نحو قوله: اليوم ننساكم كما نسيتم لقاء يومكم هذا، قال: وليس من اشتهى حفظه وتفلت منه بناس له إذا كان يحل حلاله ويحرم حرامه."
(ج: 14، ص: 132، ط: وزارة عموم الأوقاف والشؤون الإسلامية - المغرب)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
"وليس في الآية دليل كما يتوهم على عد نسيان القرآن أو آية منه كبيرة كما ذهب إليه الإمام الرافعي ويشعر كلام الإمام النووي في الروضة باختياره، لأن المراد بنسيان الآيات بعد القول بشمولها آيات القرآن تركها وعدم الإيمان بها. ومن عد نسيان شيء من القرآن كبيرة أراد بالنسيان معناه الحقيقي، نعم تجوز أبو شامة شيخ النووي فحمل النسيان في الأحاديث الواردة في ذم نسيان شيء من القرآن على ترك العمل به. وتحقيق هذه المسألة وأن كون النسيان بالمعنى الأول كبيرة عند من قال به مشروط كما قال الجلال البلقيني والزركشي وغيرهما بما إذا كان عن تكاسل وتهاون يطلب من محله."
(سورة طه، الآيات: 111-135، ج: 8، ص: 586-587، ط: دار الكتب العلمية)
تفسیر روح البیان میں ہے:
"والنسيان ان لا يمكنه القراءة من المصحف كذا في القنية، وكان ابن عيينة يذهب الى ان النسيان الذي يستحق صاحبه اللوم ويضاف اليه الإثم ترك العمل به، والنسيان في لسان العرب الترك، قال تعالى: (فلما نسوا ما ذكروا به) اى تركوا، وقال تعالى: (نسوا الله) اى تركوا طاعته (فنسيهم) اى فترك رحمتهم."
(سورة العنكبوت، الآية: 49، ج: 6، ص: 482، ط: دار الفكر)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم، وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف."
(كتاب الكراهية، الباب الرابع في الصلاة والتسبيح، ج: 5، ص: 317، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

