بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آم کے باغ کو تہائی پھل کے عوض دیکھ بھال پر دینا

سوال

میرے آم کے باغ میں تیس درخت ہیں۔ میں خود دیکھ بھال نہیں کرسکتا، اس لیے ایک آدمی سے بات کی ہے کہ پورے سال پانی، دوا اور حفاظت اس کے ذمے ہوگی، اور جو آم اتریں گے ان میں سے ایک تہائی اس کا ہوگا۔ کیا یہ معاملہ کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ پھل دار درخت کسی شخص کو اس طور پر دینا کہ وہ ان کی آبیاری، حفاظت اور دیگر ضروری کام انجام دے اور پیدا ہونے والے پھل میں سے ایک متعین مشاع حصہ اس کا ہو، "مساقات" کہلاتا ہے، اور یہ معاملہ شرعاً جائز ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آم کے تیس درخت مذکورہ شخص کو ایک سال کے لیے اس شرط پر دینا کہ پانی دینا، دوا کا چھڑکاؤ اور باغ کی حفاظت اس کے ذمے ہو، اور اترنے والے کل آموں کا ایک تہائی اس کا اور دو تہائی آپ کا ہو، جائز ہے، بشرطیکہ یہ معاملہ ایسے وقت میں طے ہو جب درختوں پر پھل ابھی نہ آیا ہو یا آکر بڑھ رہا ہو۔ اگر معاملہ اس وقت کیا گیا جب پھل اپنی بڑھوتری مکمل کر چکا ہو تو یہ معاملہ فاسد ہوگا ۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره عن النبي صلى الله عليه وسلم: عامل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع."

(کتاب المزارعۃ، باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ، رقم: 2328، ج: 3، ص: 104، ط: السلطانیۃ)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عامل أهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع."

(کتاب المساقاۃ، باب المساقاۃ والمعاملۃ بجزء من الثمر والزرع، رقم: 1551، ج: 3، ص: 1186، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها فهي عبارة عن العقد على العمل ببعض الخارج مع سائر شرائط جوازها. وأما شرائطها (فمنها) أن يكون العاقدان عاقلين... (ومنها) أن يكون المدفوع من الشجر الذي فيه ثمر معاملة مما تزيد ثمرته بالعمل، فإن كان المدفوع نخلا فيه طلع أو بسر قد احمر أو اخضر إلا أنه لم يتناه عظمه جازت المعاملة، وإن كان قد تناهى عظمه إلا أنه لم يرطب فالمعاملة فاسدة، ويكون الخارج كله لصاحب النخيل. (ومنها) أن يكون الخارج لهما فلو شرطا أن يكون الخارج لأحدهما فسد. (ومنها) أن تكون حصة كل واحد منهما من بعض الخارج مشاعة معلومة القدر. (ومنها) التسليم إلى العامل وهو التخلية حتى لو شرط العمل عليهما فسد فأما بيان المدة فليس بشرط لجواز المعاملة استحسانا، ويقع على أول ثمرة تخرج في أول السنة لتعامل الناس في ذلك من غير بيان المدة... وأما حكم المعاملة الصحيحة فأنواع: (منها) أن كل ما كان من عمل المعاملة مما يحتاج إليه الشجر والكرم والرطاب وأصول الباذنجان من السقي وإصلاح النهر والحفظ وتلقيح النخيل فعلى العامل، وكل ما كان من باب النفقة على الشجر والكرم والأرض من السرقين وتقليب الأرض التي فيها الكرم والشجر والرطاب ونصب العريش ونحو ذلك على قدر حقهما، وكذلك الجذاذ والقطاف."

(کتاب المعاملۃ، الباب الأول في تفسير المعاملة وشرائطها وأحكامها، ج: 5، ص: 277، ط: دار الفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"المساقاة (وهي) المعاملة بلغة أهل المدينة فهي لغة وشرعا معاقدة (دفع الشجر) والكروم، (إلى من يصلحه بجزء) معلوم من ثمره... (قوله معاقدة دفع الشجر) أي كل نبات بالفعل أو بالقوة يبقى في الأرض سنة أو أكثر."

(کتاب المساقاۃ، ج: 6، ص: 285، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100263
تاریخ26-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں