ایک ساتھ تین طلا ق دینے کاحکم
سوال
میری اپنی بیوی سے فون پر کچھ بحث ہوئی، تو میں نے ان کو غصے میں وائس میسج کرکے یہ الفاظ کہے کہ: ’’جا، اپنی ماں کے گھر میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔‘‘
شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
اور کیا ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو الفاظ یکے بعد دیگرے کہے ہیں کہ :"جا، اپنی ماں کے گھر میں تجھے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"، ان الفاظ کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ لہٰذا سائل کی بیوی مطلقہ مغلظہ ہوچکی ہے اور حرمتِ مغلظہ کے ساتھ سائل پر حرام ہوگئی ہے۔ اب سائل کے لیے نہ رجوع کرنا جائز ہے اور نہ ہی تجدید نکاح کی اجازت ہے۔
نیز دورانِ عدت اگر عورت سائل کے گھر میں عدت گزار رہی ہو تو پردے کا مناسب اہتمام ضروری ہے۔ عورت اپنی مکمل عدت (تین ماہواریاں اگر ماہواری آتی ہو حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک کاعرصہ )گزار کر کہیں اور شادی کرنے میں آزاد ہوگی۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"(قال) ولا تحل له المرأة بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها والطلاق محصور بعدد الثلاث."
(کتاب الطلاق، ج: 6، ص: 8، ط :دار المعرفة)
المحيط البرهاني میں ہے:
"وإذا طلقها ثلاثا أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجابا حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة."
(کتاب الطلاق،الفصل السادس والعشرون في مسائل العدة بالحيض،ج:3،ص:467،ط:دار الكتب العلمية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وكذلك إذا كان مقرونا بعدد الثلاث نصا بأن قال لها: أنت طالق ثلاثا لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}."
(کتاب الطلاق،فصل في بيان صفة الواقع بكل واحد من نوعي الطلاق،ج:3،ص:109،ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

