بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے لیے بطورِ ہدیہ یا قرض دی گئی رقم کا غیر شرعی رسوم میں استعمال اور دینے والے کا حکم

سوال

ہم کچھ لوگوں کو بچیوں کی شادی کے لیے نقد رقم دیتے ہیں، جس کو وہ لوگ ضروری چیزوں میں خرچ کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات مذکورہ لوگ اس رقم کو غیر شرعی رسموں (مثلاً مہندی، مایوں وغیرہ)  میں لگا دیتے ہیں، کیا اس صورت میں رقم دینے کی وجہ سے ہم گناہ گار  تو نہیں ہوں گے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا ضرورت مندوں کو ان بچیوں کی شادی کے لیے ضروریات پوری کرنے کے لیے رقم دینا نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، پھر اگر مذکورہ لوگ اس رقم کو غیر شرعی رسموں میں خرچ کرتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فعل ہے، اس کی وجہ سے سائلہ گناہ گار نہیں ہوگی۔وہ خود صحیح غلط کے جواب دہ ہوں گے۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"(والله في عون العبد) : الواو للاستئناف، وهو تذييل لكلام السابق (ما كان) أي: ما دام (العبد) : مشغولا (في عون أخيه): أي: المسلم كما في نسخة. أي: في قضاء حاجته، وفيه إشارة إلى فضيلة عون الأخ على أموره والمكافأة عليها بجنسها من العناية الإلهية، سواء كان بقلبه أو بدنه أو بهما لدفع المضار أو جلب المسار إذ الكل عون."

(كتاب العلم، ج: 1، ص: 286، رقم الحديث: 204، ط: دار الفكر بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومن استأجر حمالا يحمل له الخمر فله الأجر في قول أبي حنيفة وعند أبي يوسف، ومحمد لا أجر له كذا ذكر في الأصل، وذكر في الجامع الصغير أنه يطيب له الأجر في قول أبي حنيفة، وعندهما يكره لهما أن هذه إجارة على المعصية؛ لأن حمل الخمر معصية لكونه إعانة على المعصية، وقد قال الله عز وجل {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] ولهذا لعن الله تعالى عشرة: منهم حاملها والمحمول إليه ولأبي حنيفة إن نفس الحمل ليس بمعصية بدليل أن حملها للإراقة والتخليل مباح وكذا ليس بسبب للمعصية وهو الشرب؛ لأن ذلك يحصل بفعل فاعل مختار وليس الحمل من ضرورات الشرب فكانت سببا محضا فلا حكم له كعصر العنب وقطفه والحديث محمول على الحمل بنية الشرب وبه نقول: إن ذلك معصية، ويكره أكل أجرته."

(كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج: 4، ص: 190، ط: دار الكتب العلميه بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)، لا عصرها لقيام المعصية بعينه.

(قوله وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 392،391، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100211
تاریخ26-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں