ایپ صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے جعلی اکاؤنٹس سے ایپ ڈاونلوڈ کرنااور اس پر اجرت لینا
سوال
میں ایک ایسی مارکیٹنگ ایجنسی میں کام کرتا ہوں جو مختلف کمپنیوں کے لیے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والوں کی تعداد بڑھانے کا کام کرتی ہے اور اس کے بدلے پیسے وصول کرتی ہے،اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ ہماری ایجنسی ایسے لوگوں کے نمبر حاصل کرتی ہے جو یا تو فوت ہو چکے ہوں یا ایسے نمبر ہوں جو کسی کے استعمال میں نہ ہوں۔ پھر یہ نمبر ہمیں دیے جاتے ہیں، اور ہم ان نمبروں پر اکاؤنٹ بنا کر متعلقہ کمپنی کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، جس سے اس کمپنی کے ایکٹو ممبرز کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔
جن نمبروں پر ہم اکاؤنٹ بنا کر ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، ان اکاؤنٹس کی ویریفکیشن کمپنی کے پاس جاتی ہے۔ کمپنی کے اے آئی سسٹم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عارضی (Temporary) نمبر ہیں، جس کی بنیاد پر اے آئی سسٹم ویریفکیشن کے لیے بھیجے جانے والے اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کر دیتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم اپنا کام مکمل کر چکے ہوتے ہیں، اس لیے ہمیں پیسے مل جاتے ہیں۔
ان اکاؤنٹس کے لاگ اِن کی معلومات صرف ہمارے پاس ہوتی ہیں، ہم انہیں کسی کو نہیں دے سکتے۔ جن اکاؤنٹس کے ذریعے ہم ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، کمپنی دو سے تین ماہ کے اندر انہیں ڈیلیٹ کر دیتی ہے۔
لہٰذا، اس کام میں نہ ہمارا نقصان ہوتا ہے اور نہ کسی اور کا، بلکہ صرف کمپنی کے ممبرز بڑھ جاتے ہیں۔
مثلاً، جب ہم بینک کی ایپ بناتے ہیں تو لاگ اِن کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے اکاؤنٹ ویریفکیشن کے مرحلے میں رکا رہتا ہے، اور ہم اسے استعمال نہیں کرتے۔ اسی طرح، جب اس کمپنی کے پاس اکاؤنٹ ویریفکیشن کے لیے جاتا ہے تو عارضی نمبرز ہونے کی وجہ سے کمپنی اس کی ویریفکیشن نہیں کرتی۔ لیکن چونکہ ایک بار ایپ ڈاؤن لوڈ ہو جاتی ہے، اس لیے ہمیں پیسے مل جاتے ہیں۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ اگر درست نہیں ہے تو اس کی وجہ ارشاد فرما دیں، اور ساتھ ہی اس کا شرعی حل بھی بیان فرما دیں۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں مصنوعی اکاؤنٹس بنا کر ایپ ڈاؤن لوڈز کرنا اور ممبرز کی تعداد بڑھانا، جبکہ وہ حقیقی صارفین نہ ہوں، دھوکا دہی ہے؛ کیوں کہ اس طریقہ سے اس ایپ کو دیکھنے والوں کو خلافِ حقیقت تاثردیا جاتاہے؛ لہٰذاایسا کام کرنے کی شرعا اجازت نہیں، اس پر اجرت لینا شرعاً جائز نہیں۔
اس کام کے بجائے حقیقی صارفین کے ذریعے جائز مارکیٹنگ کی جائے اور مارکیٹنگ میں صارفین کو کمپنی کے کام کی نوعیت اور نتائج سے درست طور پر آگاہ کیا جائے۔
مسلم شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني."
(کتاب الإیمان، باب قول النبي صلى الله عليه و سلم: من غشّنا فليس منّا، ج: 1، ص: 99، ط: دار إحياء التراث العربي)
مسند احمد میں ہے:
"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."
( ج: 36، صفحه: 504، رقم الحدیث: 22170، ط: مؤسسة الرسالة)
مبسوط میں ہے :
"الاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا."
(كتاب الإجارات،باب الإجارة الفاسدة، ج: 16، ص: 38، ط: دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے :
"وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم....وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أكلت من طعامه، ولم يكن عينه غصبا أو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من ذلك والإثم على الزوج."
(كتاب الحظر والإباحة،فصل في البيع، ج: 6، ص: 385-386، ط: سعید)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

