بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کس صورت میں مریضہ خاتون کا حمل ساقط کرسکتی ہے؟

سوال

 میرا ایک عدد کلینک ہے، میں گائنی کی ڈاکٹر ہوں، میرے اکثر بچے ضائع کرنے کے حوالے سے مریض آتے ہیں، دھڑ کن والے بچے میں ضائع نہیں کرتی ہوں،  بغیر دھڑ کن کا 5 سے 6 ہفتے کا حمل مندرجہ ذیل بناء پر ضائع کر سکتی ہوں یا نہیں رہنمائی فرما دیں :

1۔شوہر سے علیحدگی کے سلسلے میں طلاق یا خلع کی وجہ سے ضائع کرنا ۔ 

2۔سابقہ بچہ چھ ماہ یا سال سے چھوٹا ہو۔

3۔ چار آپریشن پہلے ہو چکے ہوں اور پانچواں بچہ نہ کر سکتےہوں۔

5۔کسی بیماری کی صورت میں مثلاً پتے کی پتھری ، گردے کی پتھری. معدے کا مسئلہ یا کچھ اور۔

6۔ مالی حالات سے پریشان ہوں،  مثلاً کرائے کا گھر یا شوہر کی بے روزگاری۔

جواب

چار ماہ یا اس زائد  کا حمل  ضائع کرنا حرام اور ناجائز ہے، چار ماہ سے کم کا حمل ضائع کرنا بھی جائز نہیں، تاہم اگر مندرجہ ذیل وجوہات میں سے کوئی وجہ پائی جائے تو گنجائش ہے:

عورت کی جان کو خطرہ ہونا یا بیماری کے سبب عورت کا حمل کی طاقت نہ رکھنا یعنی ماہردین دار ڈاکٹر کے مطابق حمل برقرار رکھنے کی صورت میں عورت کی جان جانے کا یقینی یا غالب گمان ہو،یا ایسی بیماری کہ جس کے سبب عورت حمل کی تکلیف برداشت نہ کرسکتی ہو۔

سابقہ بچہ کی غذاء کا مسئلہ ہو یعنی عورت کا شیرخوار بچہ ہو اور  حمل کے سبب عورت کو دودھ نہ آئے اور شوہر بچہ کو دودھ پلانے والی عورت کی اجرت یا ڈبہ کے دودھ کا انتظام نہ کرسکتا ہو۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ ایسی مریضہ کا چار ماہ سے کم کا اسقاط حمل کرسکتی ہے کہ جس کے متعلق یقین یا غالب گمان ہو کہ حمل عورت کے لیے جانی نقصان کا باعث ہوگا یا کسی مریضہ کاشیر خوار بچہ ہو اور اس کاوالد دودھ پلانے والی عورت کی اجرت یا ڈبہ کے دودھ کا انتظام نہ کرسکتا ہو۔لہذا چار آپریشن کے بعد پانچواں آپریشن، پتے،گردےیا معدے کی پتھری یا کوئی اورایسا  مرض جوکہ عورت کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو اور عورت حمل کی طاقت نہ رکھتی ہو تو ایسی عورت کا حمل ساقط کرنا سائلہ کے لیے جائز ہے۔

اس کے علاوہ میاں بیوی میں طلاق یا خلع اور  مالی تنگی ہونے کے سبب اسقاط حمل جائز نہیں اور سائلہ کے لیے ایسی عورت کے حمل کا اسقاط کرنا بھی ناجائز اور گناہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.

(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح."

(کتاب النکاح ، باب نکاح الرقیق، ج: 3، ص: 176، ط: دارالفکر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين. وهكذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الکراهیة، الباب الثامن عشر فی التداوي و المعالجات، ج: 5، ص: 356، ط: رشيدية)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"مذهب الحنفية : يباح الإسقاط بعد الحمل، ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوماً؛ لأنه ليس بآدمي. وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق: نفخ الروح. وقيل عندهم: إن ذلك مكروه بغير عذر، فإذا أسقطت بغير عذر يلحقها إثم.ومن الأعذار: أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل، وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر، ويخاف هلاكه."

(الباب السابع؛الحظر والإباحة، ج: 4، ص: 2647، ط: دار الفكر)

امداد الفتاوی میں ہے :

" جب تک روح نہ آوے اسقاط حکم قتل نفس میں نہیں ،لیکن بلاضرورت مکروہ ہے اور بعذر جائز اور بعد نفخ روح  حرام و کبیرہ و قتل نفس زکیہ ۔ــ"

(احکام متعلقہ علاج و دو اوغیرہ ج:4، ص:204، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی )

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100178
تاریخ18-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں