بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے... کا مفہوم ومطلب

سوال

اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب

”اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے“، اُردو کایہ زبان زد عام جملہ قرآن مجید سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۵۶  کے ابتدائی حصہ کا مفہوم ہے، مطلب اِس کا یہ ہے کہ”کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کافروغیرمسلم کو ڈرا دھمکا کر  یا طاقت کے زور پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کرے“ کیوں کہ اسلام کے لیے ایمان ، دلی اعتقاد اور تصدیقِ قلبی ضروری ہے، جبر کے ذریعہ زبان سے اقرار تو کروایا جاسکتا ہے، دل کی دنیا نہیں بدلی جاسکتی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے عقلی ونقلی دلائل سے ہدایت اور گمراہی کے راستوں کو واضح فرمادیا اورانسان فطری طور پر  حق و باطل کی تمیز دے کر کسی ایک راستے کے انتخاب کا اختیار دے دیا، چنانچہ حقیقت ظاہر جانے کے اور اختیار مل جانے کے بعد زور زبردستی کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ اور پھر ”دینِ اسلام“ کی خوبی اور خوبصورتی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اِس کے قبول کرنے میں کسی قسم کی زور زبردستی شاملِ حال نہ ہو،کیوں کہ زور زبردستی  کی ضرورت تواُس چیز میں پیش آتی ہے جو بذات خود ناپسندیدہ ہو یا اُس کی خوبی واضح نہ ہو،، جبکہ دینِ اسلام اور شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات کی خوبی، خوبصورتی اور فطری ضرورت و اہمیت  واضح بھی ہے اور ثابت بھی ہے۔

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہے کہ کہ مذکورہ آیت اور اُس سے مستفاد جملے(اسلام میں زور زبردستی نہیں) کا تعلق قبولیتِ اسلام سے ہے، اِس آیت کا یہ  مطلب یہ ہرگز نہیں کہ” مسلمان ہونے کے بعد انسان کو شریعت کے لازمی احکامات ماننے یا نہ ماننے کی آزادانہ چھوٹ مل جائے، اُس کے جِی میں جو آئے وہ کرگزرے، اور دُنیا آخرت میں اُس پر کسی قسم کی پوچھ گچھ  اور جزا و سزا کا سامنا نہ ہو“،چنانچہ جو شخص پہلے سے مسلمان ہو یا برضاء ورغبت اسلام قبول کرلے تو اُس پر اسلامی احکامات کی پابندی اور قوانینِ شریعت کا نفاذ لازم ہے، یہ پابندی اور نفاذ ”جبر و اکراہ“ کے تحت داخل نہیں ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ "(سورۃ البقرۃ/۲۵۶)

ترجمہ:”دین میں زبردستی (کا فی نفسہٖ کوئی موقع) نہیں (کیونکہ) ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ سو جو شخص شیطان سے بداعتقاد ہو اور اللہ تعالیٰ سے خوش اعتقاد ہو (یعنی اسلام قبول کرے) تو اس نے بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا۔ جس کوکسی طرح شکستگی نہیں (ہوسکتی) اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا (اور) خوب جاننے والا ہے۔“ (از بیان القرآن)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ مذکورہ آیت کے ذیل میں رقمطراز ہیں:

”مقصود  آیت کا اسلام کی خوبی کا واضح و ثابت بالدلیل ہونا ہے، جس کو اس عنوان خاص سے بیان فرمایا گیا، اسی لئے نفی اکراہ میں فی نفسہٖ کی قید  ظاہر کردی ہے، سو اگر مرتد پر کافر حربی پر بوجہ خفائے دلیل کے اکراہ کیا جاوے جیسا شریعت میں حکم ہے، تو یہ نفی اکراہ فی نفسہٖ کے معارض نہیں، اور یہ اکراہ بھی صورت دین پر ہوگا نہ کہ حقیقت دین پر، کیوں کہ قلب پر اطلاع کا کوئی یقینی طریق نہیں، اور جہاد میں صورت دین پر بھی اکراہ کا شبہ نہ کیا جاوے، کیوں کہ مشروعیت جزیہ صریح ہے کہ مقصود  جہاد سے اسلام کا غالب رہنا ہے، خواہ مخالف کے اسلام سے ہو یا صرف رعیت بننے سے ہو، اور اس نفی اکراہ سے نہی عن الاکراہ بھی لازم آگئی، اس لئے بعض نے نہی کے ساتھ اس کی تفسیر کی ہے یعنی دین میں اکراہ مت کرو  خوب سمجھ لو۔“

(تفسیر بیان القرآن،سورۂ بقرہ، ج:۱، ص:۱۸۳-۱۸۴، ط:مکتبہ رحمانیہ)

سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں:

” اس آیت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں زبردستی نہیں ہے، حالاں کہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم اس کے معارض ہے۔

اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ اسلام میں جہاد اور قتال کی تعلیم لوگوں کو قبولِ ایمان پر مجبور کرنے کے لئے نہیں ہے، ورنہ جزیہ لے کر کفار کو اپنی ذمہ داری میں رکھنے اور ان کی جان ومال و آبرو کی حفاظت کرنے کے اسلام احکام کیسے جاری ہوتے، بلکہ دفعِ فساد کےلئے ہے، کیوں کہ فساد اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے، جس کے در پے کافر رہتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:-

"وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا ۚ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ"(۵/۶۴) ”یہ لوگ زمین میں فساد کرتے پھرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کے ذریعے سے ان لوگوں کے فساد کو دور کرنے کا حکم دیا ہے، پس ان لوگوں کا قتل ایسا ہی ہے جیسا سانپ، بچھو، اور دیگر موذی جانوروں کا قتل۔

اسلام نے عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور اپاہج وغیرہ کے قتل کو عین میدانِ جہاد میں بھی سختی سے روکا ہے، کیوں کہ وہ فساد کرنے پر قادر نہیں ہوتے، ایسے ہی اُن لوگوں کے بھی قتل کرنے کو روکا ہے جو جزیہ اد اکرنے کا وعدہ کر کے قانون کے پابند ہوگئے ہوں۔

اسلام کے اس طرزِ عمل سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ جہاد اور قتال سے لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا، بلکہ اس سے وہ دنیا میں ظلم و ستم کو مٹاکر عدل و انصاف اور امن و امان قائم رکھنا چاہتا ہے، حضرت عمرؓ نے ایک نصرانی بُڑھیا کو اسلام کی دعوت دے تو اس کے جواب میں اس نے کہا "انا عجوز كبيرة والموت الىّ قريب" ”یعنی میں ایک قریب المرگ بُڑہیا ہوں، آخری وقت میں اپنا مذہب کیوں چھوڑوں..؟“حضرت عمرؓ نے یہ سُن کر اس کو ایمان پر مجبور نہیں کیا، بلکہ یہی آیت تلاوت فرمائی:”لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ“ یعنی دین میں زبردستی نہیں ہے۔“

درحقیقت ایمان کے قبول پر جبر واکراہ ممکن بھی نہیں ہے، اس لئے کہ ایمان کا تعلق ظاہری اعضاء سے نہیں ہے، بلکہ قلب کے ساتھ ہے، اور جبرواکراہ کا تعلق صرف ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے، اور جہاد وقتال سے صرف ظاہری اعضاء ہی متاثر ہوسکتے ہیں، لہذا اس کے ذریعہ سے ایمان کے قبول کرنے پر جبر ممکن ہی نہیں ہے، اس سے ثابت ہوا کہ آیاتِ جہاد و قتال آیت”لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ“ کے معارض نہیں ہیں۔(مظہری و قرطبی)۔“

(معارف القرآن،  سورۂ بقرہ ،ج:۱، ص:۶۱۶-۶۱۷، ط:مکتبۃ المعارف کراچی)

شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں:

” دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں۔ تحقیق ہدایت گمراہی سے بالکل جدا اور ممتاز ہوچکی ہے۔ حق کا حسن وجمال اور باطل کا قبح خوب ظاہر اور نمایاں ہوچکا ہے اور زبردستی اس امر پر ہوتی ہے جو ناپسندیدہ ہو اور کرنے والے کا دل اس سے خوش نہ ہو،ا ور اسلام کا حسن و جمال ایسا بے مثال ہے کہ عقل سلیم اُس پر عاشق اور فریفتہ ہے البتہ نفس پر اسلام کے احکام شاق اور گراں ہیں، نفس تو نجاست خور اور شہوت پرست ہے اس کی گرانی اور ناگواری کا اعتبار نہیں، کُتے کو قے اور گندا پانی ہی لذیذ معلوم ہوتا ہے مگر سلیم الطبع کو اس تصوّر سے بھی تکدر اور انقباض ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں اسلام میں اکراہ اور زبردستی ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اسلام کے لیے تصدیقِ قلبی اور دلی اذعان کا اعتبار ہے اور دل پر کسی کی زبردستی چل نہیں سکتی۔“

(معارف القرآن،سورۂ بقرۃ، ج:۱، ص:۴۹۴، ط:مکبتہ المعارف دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور )

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"يقول تعالى: {لا إكراه في الدين} أي: لا تكرهوا أحدا على الدخول في دين الإسلام فإنه بين واضح جلي دلائله وبراهينه لا يحتاج إلى أن يكره أحد على الدخول فيه، بل من هداه الله للإسلام وشرح صدره ونور بصيرته دخل فيه على بينة، ومن أعمى الله قلبه وختم على سمعه وبصره فإنه لا يفيده الدخول في الدين مكرها مقسورا. وقد ذكروا أن سبب نزول هذه الآية في قوم من الأنصار، وإن كان حكمها عاما."

(سورة البقرة، ج:1، ص:682،ط :دار طيبة للنشر والتوزيع)

تفسیر روح المعانی  میں ہے:

"لا يتصور الإكراه في الدين لأنه في الحقيقة إلزام الغير فعلا لا يرى فيه خيرا يحمله عليه والدين خير كله، والجملة على هذا خبر باعتبار الحقيقة ونفس الأمر وأما ما يظهر بخلافه فليس إكراها حقيقيا."

(سورة البقرة، ج:1، ص:14، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100163
تاریخ26-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں