بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خواتین کے لیے سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں سے بنی انگوٹھی پہننے کو ممنوع قرار دینے کی علت و حکمت

سوال

بہشتی زیور میں کہا گیا ہے کہ ”خواتین سونے چاندی کے علاوہ باقی زیوارت استعمال کر سکتی ہیں، لیکن انگوٹھی سونے اور چاندی کے علاوہ درست نہیں ۔“

اس حوالے سے یہ ایک فتویٰ بھی ہے جو کہ پہلے موصول ہوا، اُس کا نمبر یہ ہے (144001200297) ۔

لیکن میرا سوال یہ ہے کہ بعض خواتین اس بارے میں بہت زیادہ بحث کرتی ہیں کہ آخر کیوں سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا گیا ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ باقی زیورات سے منع نہیں کیا گیا، حدیث میں صرف انگوٹھی کو ہی مخصوص کیا گیا،توآخر کسی نہ کسی وجہ سے ہی منع کیا گیا ہو گا، تو وہ وجہ کیا ہے؟ تفصیلاً راہ نمائی کردیں۔

جواب

 شریعت مطہرہ نے انگوٹھی کے معاملے میں سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کو ناپسند اور ممنوع قرار دیا ہے، رسول اللہ ﷺ   نے  پیتل یا تانبے کی انگوٹھی پہننے پر شدید نکیر اور تنبیہ فرمائی ہے،چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جو پیتل کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ، فرمایا:کہ کیا بات ہے مجھے تمہارے پاس سے بتوں کی بو آرہی ہے ؟(کیونکہ بت عام طور سے پیتل سے بھی بنائے جاتے ہیں)اس فرمان پراس شخص نے وہ انگوٹھی (اتارکر) پھینک دی ، پھر وہ دوبارہ آیا تو (اب ) وہ لوہے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ کیابات ہے کہ میں تمہیں جہنّمیوں کازیورپہنے دیکھ رہاہوں؟ (کیوں کہ دوزخیوں کی ہتھکڑیاں، طوق وغیرہ لوہے کے ہوں گے،مقصود یہ تھا کہ مسلمان دوزخیوں کی مشابہت میں اِس قسم کی انگوٹھی نہ پہنیں ) اس شخص نے وہ انگوٹھی (بھی اتار کر ) پھینک دی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول!میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاندی کی (انگوٹھی پہن سکتے ہو ) لیکن مثقال پورا نہ ہو (یعنی ساڑھے چار ماشے سے کم ہی رہے )اُسے پہن لو۔

مذکورہ بالا حدیث میں لوہے اور پیتل کی انگوٹھی کے حرام ہونے کی جو علت بتائی گئی وہ مردوں کے ساتھ خاص نہیں ،بلکہ عورتوں کو بھی اس قسم کی انگوٹھیوں سے اجتناب کا حکم ہے۔غرض فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جب لوہے اور تانبے کی انگوٹھی سے منع کر دیا گیا ہے تو ہم مسلمانوں کو یہ یقین کرنا چاہیے کہ یہ دونوں دھاتیں بطور انگوٹھی پہننے کی نہ مرد کو اجازت ہے، اورنہ عورت کو ہے ،بلکہ اِس قسم کی انگوٹھی پہننا تو کافراور غیرمسلموں کا رواج وشعار ہے۔نیز روایت میں صحابیاتؓ و امہات المؤمنینؓ سے سونے چاندی کی انگوٹھی استعمال کرنا تو مروی ہے کہ جیسا کہ ”صحیح بخاری میں  ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کئی سونے کی انگوٹھیاں تھیں“، تاہم  چاندی و سونے کے علاوہ دیگر دھاتوں کی بنی ہوئی  انگوٹھی  کے استعمال کی مثالیں صحابیات و امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن  سے ہمیں نہیں ملتیں۔

غرض اِن احادیث و روایات کی بنیاد پر ہی فقہائے کرامؒ فرماتے ہیں کہ  خواتین انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی پہن سکتی ہیں،سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور دھات (جیسے لوہا، تانبا، پیتل یا اسٹیل وغیرہ) کی انگوٹھی استعمال کرنا  شرعاً ممنوع ہے، چوں کہ انگوٹھی کے علاوہ باقی زیورات کے بارے میں ایسی خاص ممانعت احادیث میں منقول نہیں ہے، اِس لیے عورتوں کے لیے وہ ممنوع بھی نہیں ہیں۔

ملحوظ رہے کہ مسلمان کی شان ایسی ہونی چاہیے کہ جو شریعت کے احکامات قرآن وحدیث میں آئے ہیں وہ ان کو مِن وعَن مان کر عمل پیرا ہوجائے، بلاوجہ شرعی احکامات کی لاجک  ، عقلی توجیہات اور حکمتوں کی تلاش میں  نہ پڑے،یہ کمزور ایمان کی نشانی ہے، شریعت نے ہمیں نہ اِس کا مُکلف بنایا ہے اور نہ ہی اِس پر دنیا آخرت کی کامیابی کا دار ومدار ہے۔

سنن أبي داؤد میں ہے:

"عن عبد الله بن بريدة ، عن أبيه رضي اللہ عنه: «أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وعليه خاتم من شبه فقال له: ‌ما ‌لي ‌أجد ‌منك ريح الأصنام فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: ما لي أرى عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا»"

(کتاب الخاتم، ‌‌باب ما جاء في خاتم الحديد، ج: ۴، ص:۱۴۴، ط: المطبعة الأنصاریة)

بخاری شریف میں ہے:

"وكان على عائشة ‌خواتيم ‌ذهب."

(صحيح البخاري، كتاب اللباس، باب: الخاتم للنساء،۵/ ۲۲۰۶،  الناشر: دار ابن كثير)

معالم السنن میں ہے:

"قال الشيخ: إنما قال في خاتم الشبه أجد منك ريح الأصنام لأن الأصنام كانت تتخذ من الشبه، وأما الحديد فقد قيل إنما كره ذلك من سهوكته وريحه ويقال معنى حلية أهل النار أنه زي بعض الكفار وهم أهل النار والله أعلم."

(‌‌‌‌كتاب الترجل، ومن باب خاتم الحديد، ۴/ ۲۱۴، ط:المطبعة العلمية - حلب)

الجوهرة النيرة میں ہے:

"وفي الجامع الصغير لا يتختم إلا بالفضة وهذا نص على أن التختم بالصفر والحجر حرام وقد روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «رأى على رجل خاتما من صفر فقال ما لي أجد منك رائحة الأصنام ورأى على آخر خاتما من حديد فقال ما لي أرى عليك حلية أهل النار» وفي الخجندي التختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء؛ لأنه زي أهل النار."

(الجوهرة النيرة: كتاب الحظر والإباحة، ۶/ ۳۵۰، ط: شركة دراسات للبحوث، دوحة، قطر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا ‌يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها).

(قوله فيحرم بغيرها إلخ) لما روى الطحاوي بإسناده إلى عمران بن حصين وأبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم عن خاتم الذهب، وروى صاحب السنن بإسناده إلى عبد الله بن بريدة عن أبيه: أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وعليه خاتم من شبه فقال له: مالي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال: مالي أجد عليك حلية أهل النار فطرحه فقال: يا رسول الله من أي شيء أتخذه؟ قال: اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا فعلم أن ‌التختم بالذهب والحديد والصفر حرام."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، ٦/ ٣٥٩، ط: سعيد)

بہشتی زیور(مُکمّل) میں ہے:

”مسئلہ(۵):...چاندی سونے کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جیسے پیتل، گلٹ، رانگا وغیرہ، مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں۔“

(حصہ سوم، لباس اور پردے کا بیان، صفحہ:۱۵۳، ناشر:توصیف پبلی کیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100044
تاریخ26-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں