بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم والد کے ترکہ کی تقسیم کو والد ہ کی وفات تک مؤخر کرنا

سوال

 میرے والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے۔ اپنے والد کی اولاد میں ہم  چار بھائی ، چار بہنیں اور ایک والدہ صاحبہ ہیں ۔میں گزشتہ 25 سال سے الگ گھر میں رہتا ہوں ،جو میری بیوی کی ملکیت ہے ۔میرے تین بھائی اور ایک والدہ، والد صاحب کے وراثتی مکان  میں رہتے ہیں۔ میری تمام بہنیں شادی شدہ ہیں اپنے گھروں کی ہیں۔

میرے تینوں بھائی بھی شادی شدہ ہیں بال بچے دار ہیں ۔والد کے ذمے کوئی قرض نہیں ہے۔ جب والد صاحب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ایک پرچون کی چلتی   دکان اور دو مکان  چھوڑے۔ایک  مکان میں سب بھائی اور والدہ رہتی ہیں اور ایک بلڈنگ کرائے پہ دی گئی ہے جس کا ماہانہ کرایہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے آتا ہے۔ والدہ اور تینوں بھائی اور بہنیں اس وراثت سے نفع حاصل کر رہے ہیں اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں جب تک میں حیات ہوں یہ وراثت ایسے ہی رہےاور مجھے وراثت سے دور رکھا ہوا ہے کہ تم الگ رہتے ہو تمہارا کوئی حق نہیں ۔کیا والدہ محترمہ اور بہن بھائیوں کا  یہ فیصلہ درست ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکےمیں   تمام ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہےاور ہر ایک وارث کو ترکہ تقسیم کرنے اور اپنے حصے کے مطالبہ کرنے  کا حق حاصل ہوتا ہے اور وراثت کی تقسیم میں حتی المقدور جلدی کرنا چاہیے، بلا وجہ تاخیر  کرنے سے بہت سی پیچیدگیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض مرتبہ زیادہ تاخیر کرنے کی وجہ سے میراث کی تقسیم  میں سخت الجھنیں اور مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں اور  بسا اوقات حق تلفی تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں والدہ صاحبہ کا یہ کہنا کہ  جب تک میں حیات ہوں یہ وراثت ایسے ہی رہے،یہ    شرعی  اعتبار سے درست نہیں،بلکہ اگر ایک وارث بھی اپنے حصہ کا مطالبہ کرے تو ترکہ کو شرعی اعتبار سے تقسیم کرنا لازم ہوجاتا ہے۔نیزجو دکان والد کی تھی  وہ  ان کے ترکہ میں شامل ہے ، جس میں تمام ورثاء حصہ دار ہیں،اس کے علاوہ   جو بلڈنگ کرایہ پر دی گئی ہے اس کے کرایہ میں تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصص کے تناسب سے شریک ہوں گے۔

مرحوم والد کے  ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین، کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی سے نافذ  کرنے کے  بعد باقی  کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ  کو 96 حصوں میں تقسیم کرکے12حصے مرحوم کی بیوہ کو،14حصے ہر ایک بیٹے کواور 7حصے  ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت(مرحوم والد):96/8

بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7
12 14 14 14 14 7 7 7 7

یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5فیصد مرحوم کی  بیوہ کو،14.583فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7.291 فیصد   ہر ایک بیٹی  کو ملیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي."

(كتاب الشركة، ‌‌فصل في الشركة الفاسدة، ج:4، ص:325، ط:دار الفكر)

 شرح المجلہ میں ہے:

"الأموال المشترکة شرکة الملك تقسم حاصلاتھا بین اصحابھا علی قدر حصصھم." 

(المادة :1073، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ط:رشیدیة)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"مشترک ترکہ سے جاری دکان کے ساز و سامان کی تقسیم

سوال: عمر و وخالد ہر دو برادر نے دکان شرکت میں کی ، اور عمرو اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ دوسری جگہ سے کرتے تھے، اور خالد اپنے اہل و عیال کا خرچ دکان ہی میں سے کرتے تھے اور یہ دکان مشترک ترکہ سے جاری تھی ، اب سوال یہ ہے کہ ترکہ اثاثہ دکان کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟ آیا اس اثاثہ دکان کی تقسیم ہو گی جو مورث اعلی کے انتقال کے وقت موجود تھا یا کل اثاثہ اور اس وقت تک جو منافع ہوا وہ بھی تقسیم ہوگا ؟ خالد کا انتقال ہو گیا اس کے ورثہ موجود ہیں۔

الجواب : دکان کا تمام سامان جواب تک مع منافع موجود  ہے دونوں  بھائیوں عمر و و خالد پر برابر تقسیم ہو گا، خالد کا نصف حصہ اس کے وارثوں کو ملے گا، اور عمر و اپنے نصف کا خود مالک ہے ۔ "

(کتاب الشرکہ، ج:13، ص:92، ط:دار الاشاعت، کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100027
تاریخ20-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں