بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شاہین شاہ نام رکھنے کا حکم

سوال

حدیث شریف میں آتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ انسان کسی انسان کو ”شہنشاہ“ نہ کہے، لیکن اگر کسی کا نام ”شاہین شاہ“ ہے، اس نام کی ادائیگی بھی ”شہنشاہ“ جیسی ہی ہوتی ہے۔ تو اس شخص کا نام لینا یا نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

”شہنشاہ“ اور ”شاہین شاہ“ دو الگ الگ نام ہیں۔ ”شہنشاہ“ کا معنی ہے ”بادشاہوں کا بادشاہ“، یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے، حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ جبکہ ”شاہین شاہ“ میں ”شاہین“ ایک پرندے کا نام ہے، اور ”شاہ“ کا معنی ہے ”بادشاہ“ ، اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم انبیاء کرام علیہم السلام یاصحابہ کرام اضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں میں کسی نام کا انتخاب بہتر ہے۔

نیز اگر کسی شخص کا نام ”شاہین شاہ“ رکھا گیا ہے، تو اب اس کو بدلنا ضروری نہیں۔

بخاری شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أخنى الأسماء يوم القيامة عند الله رجل تسمى ملك الأملاك)".

ترجمہ:  حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا جس کو "شہنشاہ" کا نام دیا جائے۔“

 (كتاب الأدب، باب: أبغض الأسماء إلى الله، ص:5، ص:2292، ط:دار ابن كثير)

لسان العرب میں ہے:

"شهن: الشاهین: من سباع الطير، ليس بعربي محض".

(ن،فصل الشين المعجمة، ج:13، ص:242، ط:دار صادر)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل."

(کتاب الحظر والإباحة،‌‌فصل في البيع، ج:6،ص: 417، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144805100021
تاریخ26-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں