مسجد کی انتظامی کمیٹی ضروریات مسجد میں سے ہے
سوال
ہماری مسجد کی انتظامی کمیٹی کے سابق صدر کے انتقال کے بعد، نئی انتظامیہ تشکیل دی گئی، جس کی رجسٹریشن کے مرحلے میں تقریبا سات لاکھ روپے کے اخراجات آرہے ہیں، ممبران نے اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالا، اس کے باوجود کچھ رقم تاحال کم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا مسجد کے فنڈ سے رقم لے کر اسے اس رجسٹریشن کے عمل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
جواب
مسجد کا فنڈ مسجد کی ضروریات و مصالح کے لیے مختص ہوتا ہے، مسجد کی انتظامیہ جو کہ مسجد کے جملہ معاملات کی دیکھ بھال کرے، مسجد کی ضرورت میں داخل ہے، انتظامیہ کے بغیر مسجد کے انتظامی امور خلل کا شکار ہوجاتے ہیں،جوکہ فتنہ و فساد کا باعث بھی ہوتا ہے، لہذا انتظامیہ کی رجسٹریشن اگر قانونا ضروری ہے، تو مسجد کے فنڈ سے نئی انتظامیہ کی رجسٹریشن کے لیے رقم لی جاسکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر...........(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة،وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح".
(كتاب الوقف، مطلب في وقف المنقول قصدا، ج : 4، ص: 367، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"والأصح ما قال الإمام ظهير الدين: إن الوقف على عمارة المسجد وعلى مصالح المسجد سواء، كذا في فتح القدير۔"
( کتاب الوقف ،الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره في مال الوقف عليه ، ج: 2، ص: 249،ط: رشیدیة)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

