بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سولر ٹیوب ویل سے سیراب زمین اور اجرت پر سولر سے سیراب زمین پر عشر کا حکم

سوال

ہمارے علاقے میں لوگ سولر (شمسی) کی بور کرتے ہیں (یہ  بور شمسی توانائی سے چلتے ہیں) اور ابتدأاس پر 15 / 20 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے، بعد میں اس پر کوئی خرچہ نہیں آتا، اب مالک بور اس سے زمین سیراب کرتے ہیں، تو اس پیداوار پر عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟

دوسرے لوگ جو اس بور سے زمین سیراب کرتے ہیں، تو بور کا مالک ان سے فی گھنٹہ  کے حساب سے رقم  لیتا ہے (یعنی ہزار یا پانچ سو )، تو ان کی پیداوار پر عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟

جواب

صورت مسئولہ میں  شمسی توانائی سے چلنے والے بور  جس   کی تنصیب میں پندرہ سے بيس لاکھ روپے کا سرمایہ صرف ہوتا ہے،اس سے  زمین کوسیراب کر نے کی صورت میں زمین کی پیداوار  پرنصف عشر ہے ”یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ “ ہوگا ۔

نیز جو لوگ اس بور (شمسی توانائی سے چلنے والے ) کے مالک کو  فی گھنٹہ ہزار یا پانچ  سو روپے ادا کرکے اپنی زمین کو سیراب کرتے ہیں،  ان کی زمینی  پیداروار میں بھی نصف عشر کی ادائیگی واجب ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌قوله ‌يجب ‌العشر)... أي يفترض... فإن عامة المفسرين على أنه العشر أو نصفه وهو مجمل بينه قوله صلى الله عليه وسلم  ما سقت السماء ففيه العشر وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر".

(‌‌كتاب الزكاة‌‌، باب العشر،ج: 2، ص: 325، ط: سعید)

وفیه ایضا:

"(و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة۔ قال ابن عابدین: لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت".

(‌‌كتاب الزكاة‌‌، باب العشر،ج: 2، ص: 328، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: ونصفه في ‌مسقى ‌غرب ودالية) أي ويجب نصف العشر فيما سقي بآلة للحديث والغرب دلو عظيم والدالية دولاب عظيم تديره البقر،... لأن النبي صلى الله عليه وسلم حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها أطلقه فشمل ما فيه العشر وما فيه نصفه فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا إلا أن ما تكلفه يأخذه بلا عشر أو نصفه".

(كتاب الزكاة، باب العشر،ج: 2، ص: 256، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102197
تاریخ02-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں