شادی ہونے کے کچھ سالوں بعد ایک عورت کا میاں اور بیوی کے درمیان رضاعت کا دعوٰی کرنا
سوال
خالد اور عائشہ کے درمیان نکاح ہوئے تیرہ چودہ سال ہوچکے ہیں، اور رخصتی کے تین سال ہوچکے ہیں، اب ایک خاتون (خالدہ) جو عائشہ کی پھوپھی اور خالد کی رضاعی بہن ہے، دعوٰی کرتی ہے کہ میں نے عائشہ کو بیس سال پہلے دودھ پلایا تھا، اس وقت خالدہ کا اپنا بیٹا تقریباً دو سال کا تھا، اور عائشہ بلال سے چھوٹی ہے، اتنی بات خالدہ کو یاد ہے کہ کتنی بار پلایا تھا، البتہ یہ بات یاد نہیں کہ دودھ بچی کے پیٹ میں گیا تھا یا نہیں۔خالدہ اس ووقت ایک بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں کئی ہفتے تک داخل تھی، اس کا دودھ سوکھ چکا تھا، دوائی کے بعد شاید پھر سے آگیا، ہسپتال سے پھر بھائی کے گھر آگئی، اور کئیں مہینوں تک بھائی کے گھر رہتی رہی۔
عائشہ کی عمر تقریباً بیس سال ہے اور حاملہ ہے، لڑکا اورلڑکی دونوں کے والدین اور رشتہ دار اس رضاعت سے ناواقف تھے، اب بیس سال بعد خالدہ کا یہ دعوٰی سامنے آیا ہے، اور خالدہ کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، بس اتنا کہتی ہے کہ مجھے کنفرم معلوم ہے کہ دودھ پلایا تھا، باقی کتنی بار اور اور دیگر تفصیلات کا علم نہیں۔اور ابھی تک خالدہ کا اتنا عرصہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے گھر میں آنا جانا جاری رہا لیکن کوئی رضاعت کا اظہار نہیں کیا، تینوں خاندانوں کا آپس میں کوئی اختلاف ناراضگی وغیرہ بھی کچھ نہیں کہ جس سے شک ہوکہ خالدہ نے یہ رضاعت کا یہ دعوٰی گھر توڑنے کے لیے کیا ہے، خالدہ کا دعوٰی میں تاخیر کرنے کی کوئی وجہ خود خالدہ کو بھی معلوم نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ خالد اور عائشہ کا نکاح فاسد ہوگیا ہے یا باقی ہے؟ تفریق کرنا لازم ہے یا نکاح کو باقی رکھنا لازم ہے؟ اور گناہ گار کون ہوگا یا کوئی نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے دو عادل مرد یاایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے، صرف ایک مرد ، یادوعورتوں یا محض کسی ایک عورت کے کہنے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے، اور نہ محرمیت قائم ہوتی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں خالد اور عائشہ کے نکاح اور رخصتی کو تین سال ہوچکے، اور اب ایک خاتون خالدہ جوکہ خالد کی رضاعی بہن ہے، اس بات کا دعوٰی کرتی ہے کہ اس نے عائشہ کو دودھ پلایا تھا، لہٰذا عائشہ خالد کی رضاعی بھانجی ہے، اس لیے دونوں میں محرمیت ہونے کی وجہ سے نکاح ختم ہونا چاہیئے، اور خالدہ کے پاس اپنے اس دعوٰی پر کوئی بھی گواہ موجود نہیں ہے، اور خالدہ کو اس بات میں بھی شک ہے کہ دودھ بچی کے پیٹ میں گیا تھا یا نہیں، اور خاندان اور رشتہ داروں میں بھی یہ بات معروف نہیں ہے کہ عائشہ نے خالدہ کا دودھ پیا تھا، تو اس صورت میں محض خالدہ کے اس دعوٰی کرنے سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی، اور یہ نکاح ختم نہیں ہوا بدستور برقرار ہے، تفریق کرنا لازم نہیں ہے، محض ایک خاتون کے دعوٰی اور شک کی بنیاد پر حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔
المحیط البرھانی میں ہے:
" نوع منه ولا تقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو شهادة رجل وامرأتين عدول هكذا روي عن علي وابن عباس رضي الله عنهما. والمعنى: أن ثبوت الحرمة لا تقبل الفصل عن زوال الملك في باب النكاح، وإبطال الملك عن المحل لا يثبت إلا بشهادة شاهدين وهذا بخلاف ما إذا اشترى لحماً فأخبره مسلم أنه ذبحه مجوسي، فإنه لا يحل تناوله؛ لأن حرمة التناول تقبل الفصل عن زوال الملك، فكان هذا من باب الدين، فقبل قول الواحد فيه، وإن كان المخبر واحداً ووقع في قلبه أنه صادق فالأولى أن يتنرّه ويأخذ بالثقة، وحط الإخبار قبل العقد أو بعده، ولا يجب عليه ذلك."
(کتاب النکاح، الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج:3، ص:75، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول كذا في المحيط..........................ولو تزوج امرأة فقالت امرأة أرضعتكما فهو على أربعة أوجه إن صدقاها فسد النكاح ولا مهر لها إن لم يدخل بها وإن كذباها فالنكاح بحاله لكن إذا كانت عدلا فالتنزه أن يفارقها كذا في التهذيب........وإن لم يطلقها فهو في سعة من المقام معها كذا في البدائع."
(کتاب الرضاع، ج:1، ص:347، ط:رشیدیہ)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
" (سئل) في شهادة النساء وحدهن على الرضاع هل تقبل؟(الجواب) : حجة الرضاع حجة المال وهو شهادة عدلين أو عدل وعدلتين ولا يثبت بشهادة النساء وحدهن لكن إن وقع في قلبه صدق المخبر ترك قبل العقد أو بعده كما في البزازية."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:1، ص:35، ط:دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

