بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان کی اچھی قیمت لگنے تک وراثت کی تقسیم مؤخر کرنا

سوال

ہماری والدہ کا انتقال ہوا ہے، ان کے ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، ہمارے والد اور نانا ، نانی کا والدہ کی حیات میں انتقال ہو چکا ہے، اور والدہ کے ترکہ میں ایک پراپرٹی ہے۔

اس سے متعلق سوالات یہ ہیں :

1۔  اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی سے پراپرٹی کی قیمت بڑھنے  کے لیے کچھ وقت ترکہ تقسیم نہ کریں، تو اس سے ورثاء گناہ گار تو نہ ہوں گے؟ کیوں کہ ہمارے ہاں عموماً پراپرٹی کی قیمت زیادہ ہے لیکن مہنگائی وغیرہ کی وجہ سے اب صحیح قیمت نہیں لگ رہی جتنی لگنی چاہیے، اس لیے ہم قیمت بڑھنے تک مؤخر کرنا چاہتے ہیں۔

2۔اگر کوئی وارث اپنا حصہ طلب کرے تو  پھر شرعی  حکم  کیا ہو گا؟

3۔والدہ مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کس تناسب سے ہو گی؟ جب کہ والدہ نے اپنے مکان کی مرمت کے لیے کچھ قرضہ لیا تھا، اور اس کے بارے میں کہا تھا کہ دوسرا فلور جو کرائے پر دیا ہوا ہے، اس کرائے سے یہ قرضہ ادا کروں گی، تو والدہ کے اس قرض کو ہم ترکہ کی تقسیم سے پہلے اسی کرائے سے ادا کرنا چاہتے ہیں، تو کیا یہ درست ہو گا؟

نوٹ: والدہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جا چکے ہیں، اور انہوں نے کوئی  وصیت بھی نہیں کی ہے۔

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی سے پراپرٹی کی قیمت بڑھنے تک ترکہ تقسیم نہیں کرتے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، ورثاء گناہ گار نہیں ہوں گے۔

2۔ کوئی وارث اگر اپنے حصہ کا مطالبہ کر تا ہے، تو اس کو حصہ دینا لازم ہو گا، اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ پراپرٹی کی  مارکیٹ ویلیو کے مطابق موجودہ قیمت جو بھی ہو  لگے، اس کی بنیاد پر  اس وارث کو اس کا وراثتی حصہ دیگر ورثاء میں سے کوئی ایک یا سب ادا کردیں، اس کے بعد اس وارث کاوالدہ کی متروکہ پراپرٹی میں کوئی حصہ نہیں رہے گا، یعنی مستقبل میں جب وراثت  کی جائے گی، اس وقت  حصہ  وصول کرنے والے وارث کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

3۔ والدہ نے جو اپنے گھر کی مرمت کے لیے قرض لیا تھا، اور فلور کے آنے والے کرائے سے ادا کرنے کا کہا تھا، اور ان کی زندگی میں اسی کرائے سے وہ قرض ادا ہوتا رہا تو اب ورثاء اگر اس فلور کو قرض کی مکمل ادائیگی تک کرایہ پر اٹھائے رکھتے ہیں، اور کرایہ سے مرحومہ  کا قرضہ ادا کرتے رہتے ہیں، تو شرعا اس کی اجازت ہوگی۔

والدہ مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے  کل ترکہ میں سے والدہ کا قرض ادا کرنے کے بعد باقی ماندہ کل ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کر کے 2،2 حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 1،1حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8

بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
2 2 1 1 1 1

فیصد کے اعتبار سے  والدہ مرحومہ کے کل ترکہ میں سے  25 فیصد اس کے ہر ایک بیٹے کو اور 12.50 فیصد اس کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلب ‌أحد ‌الشريكين ‌القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما."

(‌‌كتاب القسمة، ج: 5، ص: 231، ط: دار الفکر)

وفيه أيضا:

"إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا".

 (كتاب الفرائض، الباب الخامس، ج: 4، ص: 268، ط: دار الفكر بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌يبدأ ‌من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين۔۔۔(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)."

(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 761، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102172
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں