بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رقم منتقل کرنے پر اجرت لینے کا حکم

سوال

زید قطر میں ملازمت کرتا ہے،اس کے ساتھ کام کرنے والے مزدور جب صرافہ (منی ایکسچینج) کے ذریعے اپنے وطن رقم بھیجتے ہیں تو صرافہ والے ان سے فی ٹرانزیکشن 20 ریال وصول کرتے ہیں۔ اب زید ان مزدوروں سے یہ کہتا ہے کہ میں آپ کی رقم بھیجنے کا انتظام کر دوں گا اور اس کے عوض آپ سے 10 ریال وصول کروں گا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

1۔ کیا زید کے لیے مذکورہ طریقے کے مطابق مزدوروں سے فی ٹرانزیکشن 10 ریال وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟

2۔  اگر یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے تو رقم بھیجنے کی سہولت فراہم کرنے اور اس کے عوض اجرت وصول کرنے کی کون سی صورت شرعاً جائز ہوگی؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کے لیے مزدوروں سے رقم بھیجنے کی اجرت لینا شرعاً جائز ہے بشرطیکہ وہ اجرت معلوم اور متعین ہو، اور وہ اجرت بھیجے جانے والی رقم کے علاوہ  ادا کی جائے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"ولو استأجر رجلا ينقد له الدراهم كل ألف بكذا أو استأجره على كل شهر بكذا ينقد له فهو جائز؛ لأن في الفصل الأول استأجره على عمل معلوم ببدل معلوم والاستئجار على ذلك متعارف بين الناس، وهو الأصل في عقد الإجارة، وفي الفصل الثاني عقد على منافع في مدة معلومة ببدل معلوم ليقيم بتلك المنافع عملا مقصودا."

(کتاب الشروط، ج:30، ص:204، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: للطحان) أي لمسألة قفيز الطحان، وهي كما في البزازية أن يستأجر رجلا ليحمل له طعاما أو يطحنه بقفيز منه فالإجارة فاسدة، ويجب أجر المثل لا يتجاوز به المسمى."

(کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب مسائل فی المقاصۃ، ج:5، ص: 280، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102145
تاریخ15-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں