بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گود لیے ہوئے بچے کی نسبت حقیقی والد کی طرف کرنا لازمی ہے

سوال

میری شادی کو 8 سال ہو گئے ہیں اور اولاد کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹری اور روحانی علاج بھی کرا لیا ہے۔ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے، جس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

اب اس کے ہاں ایک اور بچے کی ولادت ہوئی ہے اور وہ اپنی خوشی سے وہ بچہ مجھے دینا چاہتا ہے، تو کیا اس کا لینا میرے لیے ٹھیک ہے یا نہیں؟

کیا سرکاری یا قانونی فارم میں ولدیت کے خانے میں اپنا نام درج کر سکتا ہوں؟

 قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی فرما دیں۔

جواب

وا ضح رہے کہ  قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بچوں کو ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کر کے پکارنے کا حکم دیا ہے اور احادیثِ مبارکہ میں حقیقی والد کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی طرف بچہ کو منسوب کرنے،  ولدیت تبدیل کرنے  پرممانعت وارد ہوئی ہے؛ اس لیے کسی بچے کی ولدیت تبدیل کرکے  حقیقی والد کے بجائے کسی اور کی طرف  اسے منسوب کرنا جائز نہیں ۔

لہذا  صورت مسئولہ میں بے اولادی کی وجہ سے نومولود بچے کو گود  لینا تو جائزہوگا،لیکن ولدیت میں اپنا نام لکھنا یا لکھوانا جائز نہیں ہوگا ،بلکہ حقیقی والد کانام لکھناضروری ہے،البتہ سرپرست کے خانے میں اپنا نام لکھوایا جاسکتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي ٱلسَّبِيلَ  ٱدْعُوهُمْ لِأٓبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخْطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا"

 (سورۃ الأحزاب: 4، 5)

ترجمہ:  اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا،یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے، اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے ،اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں ،اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس سےگناه ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔(از بيان القرآن)

تفسیر مظہری میں ہے:

"فلا يثبت بالتبني شىء من أحكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الآية رد لما كانت العرب تقول من أن اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالأم ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرم بالتبني ما يحرم بالنسب."

(الأحزاب، ج7، ص284، ط:  مكتبة الرشدية - الباكستان)

مشكوة المصابيح میں ہے:

"وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌ادعى ‌إلى ‌غير ‌أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام."

(باب اللعان، ج:2، ص: 287، ط: ط:قدیمی)

ترجمہ: حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابوبکرہ  رضی اللہ عنہمادونوں راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص اپنے آپ کو اپنے باپ کے بجائے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرے اور وہ یہ جانتا بھی ہو کہ یہ میرا باپ نہیں ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔

المبسوط للسرخسي   میں ہے:

"ولكنا نستدل بقوله صلى الله عليه وسلم «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب.» والمراد بقوله تعالى {من أصلابكم} [النساء: 23] بيان إباحة حليلة الابن من التبني فإن التبني انتسخ بقوله تعالى {ادعوهم لآبائهم} [الأحزاب: 5]، وكان «النبي صلى الله عليه وسلم تبنى زيد بن حارثةثم تزوج زينب بعد ما طلقها زيد فطعن المشركون وقالوا إنه تزوج حليلة ابنه»، وفيه نزل قوله تعالى {ما كان محمد أبا أحد من رجالكم} [الأحزاب: 40]

(كتاب النكاح، ج:4،ص: 200، ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102141
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں