بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1448ھ 03 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گرافک ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کے کام میں جان دار کی تصاویر بنانا اور پرنٹ کرنا کا حکم

سوال

 میں گرافک ڈیزائنر ہوں ( ایسا شخص جو کمپیوٹر کے ذریعے اشتہارات، پوسٹرز اور دیگر ڈیزائن تیار کرتا ہے)اور پرنٹنگ کا کام کرتا ہوں، جس میں فلیکس( ایک مخصوص قسم کا پلاسٹک نما پرنٹنگ میٹریل، جس پر عموماً بڑے سائز کے اشتہارات اور تشہیری مواد چھاپا جاتا ہے ) اور اشتہار وغیرہ شامل ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ پرنٹنگ کے کام میں تصاویر وغیرہ بھی ہوتی ہیں، خاص طور پر الیکشن پبلسٹی ( انتخابات کے موقع پر امیدواروں کی تشہیر کے لیے پوسٹرز اور اشتہارات تیار کرنا اور چھاپنا)کے لیے تو لازمی طور پر تصاویر کی پرنٹنگ کا کام آتا ہے۔ ابھی ہم نے ارادہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی تصویر پرنٹ نہ کی جائے، لیکن اس سے ایک تو کام کا بڑا حصہ جاتا ہے(بالخصوص الیکشن پبلسٹی کا)، دوسرا کچھ قریبی ساتھی اصرار کرتے ہیں اور دلیل کے طور پر یہ بات بھی کرتے ہیں کہ محافل والے بھی تو تصاویر پرنٹ کرتے ہیں، جیسے اسلامی جماعتیں بھی تصاویر پرنٹ کرتے ہیں، اور ان   کی بھی تشہیری مہمیں چلتی رہتی ہیں۔

براہ کرم  مسئلہ کاحکم بتائیں۔ نیزتصویر کا کیا حکم ہے اور گر بڑے بڑے علماء پرنٹ کروا رہے ہیں تو کس حجت کی بنا پر پرنٹ کروا رہے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی تصویر سازی اور تصویر کشی کی ممانعت وارد ہوئی ہے اور اس پر وعیدات بھی آئی ہیں۔ لہٰذا جان دار کی تصویر بنانا، بنوانا اور پرنٹ کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ 

صورتِ مسئولہ میں گرافک ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کے کام میں جان دار کی تصاویر بنانا اور پرنٹ کرنا شرعاً جائز نہیں، خواہ یہ کام انتخابی تشہیر کے لیے ہو یا کسی دینی محفل، جماعت یا عالم کی تشہیر کے لیے۔ نیز کسی شخص یا جماعت کا یہ کام کروانا، یا بڑےاور معروف علماء کا اس میں شریک ہونا، بذاتِ خود شرعی جواز کی دلیل نہیں؛ بلکہ ہر عمل کا حکم شرعی دلائل کی روشنی میں متعین کیا جاتاہے۔ لہٰذا سائل کے لیے جان دار کی تصاویر پرنٹ کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

 البتہ غیر جان دار اشیاء کی تصاویر اور دیگر جائز تشہیری مواد کی ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کرنا جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی جائز ہے۔ لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اپنے کاروبار میں جائز ڈیزائننگ اور پرنٹنگ کے کام کو فروغ دے اور حرام کام سے اجتناب کرے۔

مسلم شریف کی  احادیث صحیحہ ملاحظہ ہوں:

1- "عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن أبيه ، أنه سمع عائشة ، تقول:‏‏‏‏ دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سترت سهوةً لي بقرام فيه تماثيل، ‏‏‏‏‏‏فلما رآه هتكه وتلون وجهه، ‏‏‏‏‏‏وقال: يا عائشة:‏‏‏‏ " أشد الناس عذاباً عند الله يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله "، ‏‏‏‏‏‏قالت عائشة:‏‏‏‏ فقطعناه، ‏‏‏‏‏‏فجعلنا منه وسادةً أو وسادتين."

ترجمہ:”  ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں نے ایک طاق یا مچان کو اپنے ایک پردے سے ڈھانکا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی شکل بناتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم  نے اس کو کاٹ کر ایک تکیہ بنایا یا دو تکیے بنائے۔“

2- "عن نافع ، أن ابن عمر أخبره، ‏‏‏‏‏‏أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم"." 

ترجمہ:”  سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ مورتیں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا جلاؤ  ان کو جن کو تم نے بنایا۔“

3- "عن مسروق ، عن عبد الله ، قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " إن أشد الناس عذاباً يوم القيامة المصورون"."

ترجمہ:”  سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت میں تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔“

4- "عن سعيد بن أبي الحسن ، قال:‏‏‏‏ جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال:‏‏‏‏ إني رجل أصور هذه الصور فأفتني فيها؟ فقال له:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا منه، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " كل مصور في النار يجعل له بكل صورة صورها نفساً فتعذبه في جهنم "، ‏‏‏‏‏‏وقال:‏‏‏‏ إن كنت لا بد فاعلاً فاصنع الشجر، ‏‏‏‏‏‏وما لا نفس له"."

ترجمہ: ” سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تصویر بنانے والا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے بیان کیجیے مجھ سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے قریب ہو، وہ ہوگیا، پھر انہوں نے کہا: قریب ہوجاؤ، چناں چہ وہ اور نزدیک ہوگیا یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور کہا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ایک جان دار بنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے بنانا ہی ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔“

5- "عن النضر بن أنس بن مالك ، قال:‏‏‏‏ كنت جالساً عند ابن عباس، ‏‏‏‏‏‏فجعل يفتي، ‏‏‏‏‏‏لايقول:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى سأله رجل، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني رجل أصور هذه الصور، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابن عباس:‏‏‏‏ ادنه فدنا الرجل، ‏‏‏‏‏‏فقال ابن عباس : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " من صور صورة في الدنيا كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة، ‏‏‏‏‏‏وليس بنافخ "."

ترجمہ:”  سیدنا نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ فتویٰ دیتے تھے اور حدیث نہیں بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا: میں مصور ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ، وہ پاس آیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص دنیا میں تصویر بنائے اس کو قیامت میں تکلیف دی جائے گی اس میں جان ڈالنے کی اور وہ جان نہ ڈال سکے گا۔“ 

فتاویٰ شامی  میں ہے :

"هذا كله في اقتناء الصورة، وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج :1، ص: 650، ط : سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102134
تاریخ03-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں