امانت کی رقم کو بطور قرض لینے نیز امانت کی رقم کو تبدیل کرنے کی صورت میں ضمان کا حکم۔
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کہ بارے میں ، کہ زید جو اپنے مالک کے کپڑوں کی دوکان میں کام کرتا ہے اور پیسوں کے سارے معاملات زید دیکھتا ہے اور مالک کی غیر موجودگی میں پیسے کا لین دین بھی کرتا ہے (یعنی کسی کو مال کے پیسے دینا یا مال کے پیسے وصول کرنا ) ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ زید کے پاس 1290400 رقم موجود تھی جو دکان بند کرنے کے وقت اس کے پاس تھی اور زید کے مالک نے زید سے کہا کہ یہ رقم جاکر بکر کو دے دو ( بکر خود ایک کپڑوں کی دوکان میں کام کرتا ہے ) ، زید نے جب رقم بکر کو دی تو اس وقت بکر کا مالک بھی دوکان میں موجود تھا ، بکر کے مالک نے رقم لیتے ہوئے کہا کے یہ رقم میں اپنے پاس بطور امانت نہیں رکھ رہا، بلکہ اس کو قرضاً لے رہا ہوں ، تاکہ اس کو استعمال میں لاسکوں ، تو زید نے بکر کے مالک کو کہا ، کہ آپ جانیں اور میرا مالک جانے ، پھر کل ( یعنی اگلے دن ) دوبارہ بکر کو 409600 روپے دئیے ، اور کچھ دن بعد 3 لاکھ روپے بکر کو دیئے ، یعنی پہلی مرتبہ پیسے دیتے وقت بکر کے ساتھ مالک موجود تھا ، باقی دو دفعہ میں صرف بکر تھا ۔
اور زید کا مالک پہلے بھی ، اس طرح پیسے بکر کو یا بکر کے مالک کو دیتا رہا ہے ، اور پھر کچھ وقت بعد جب بھی ضرورت ہوتی ، مانگ کر لے لیتا ۔
پھر کچھ وقت بعد بکر کے دوکان پر کسی وجہ سے چھاپا پڑا اور جس لوکر ( locker ) میں پیسے رکھے تھے ، وہ حکومت والے لے گئے ، اب جب زید کا مالک بکر سے پیسوں کا مطالبہ کرتا ہے ، تو بکر کا مالک کہتا ہے ، وہ میرے پاس امانت تھے ، اب اس مال کا ضمان مجھ پر شرعاً لازم نہیں ۔
پہلی مرتبہ رقم میں تو مالک خود موجود تھا ، لیکن دوسری تیسری مرتبہ میں مالک موجود نہیں تھا ، تو اب بکر کا مالک یہ کہتا ہے کہ میرے غیر موجودگی میں آپ نے میرے شاگرد بکر کو پیسے دیئے ہیں، مجھے ان کا پتہ نہیں تھا ، حالاں کہ پہلے بھی جب بکر کا مالک نہیں ہوتا ، تو سارے مالی معاملات بکر دیکھتا تھا ، دوسری بات یہ کہ بکر خود اپنے مالک کو سارے دن کے رزوانہ کا حساب روز بتاتا ہے ( کہ آج اتنی رقم آئی ہے اور اتنی رقم گئی ہے ) اور بکر کے لوکر ( locker ) میں جو پیسے ہوتے ہیں وہ روزانہ کہی نہ کہی استعمال میں آتے ہیں ، یعنی وہ رقم ایک دن کی دوسرے دن اکثر موجود نہیں رہتی ، کیونکہ زید کے اسکے علاوہ کچھ دوسرے کام بھی ہیں ، جس میں اس رقم کی ردبدل ہوتی رہتی ہے۔
کیا بکر کے مالک پر لازم ہے ، کے زید کے مالک کے پیسے واپس کریں؟کیا شرعا زید اپنی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے ؟
وضاحت: اس معاملے سے پہلے بھی زید کے مالک اور بکر کے مالک کے آپس میں اس طرح کے معاملات ہوتے رہتے تھے، جس میں رقم بکر کے مالک کے پاس رکھوائی جاتی تھی اور ضرورت پڑنے پر واپس لے لی جاتی تھی۔
البتہ اس معاملے میں بکر کے مالک کا کہنا یہ ہے کہ پہلے جب زید یا اس کا مالک بکر کے مالک کو رقم دیتے تھے، تو اس کو معلوم ہوتا تھا کہ میرے پاس زید کے مالک کی اتنی رقم آ چکی ہے، لیکن اس مرتبہ بکر کا مالک کہہ رہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کی رقم میرے پاس آئی ہوئی ہے، لیکن چھاپہ پڑنے سے دو گھنٹے پہلے زید نے بکر کے مالک کو کہا تھا کہ میں نے اتنی رقم بکر کو دی تھی، اور اس سے او کے بھی کروا لی ہے، او کے سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اب آپ کے ہاں ہماری اتنی رقم آ چکی ہے، آپ اس کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں، ہمیں جب(اندرون بیرون ملک) ضرورت ہو گی ہم آپ سے لے لیں گے۔
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی امانت کی رقم کو یہ کہہ کر لے کہ یہ مجھ پر قرض ہے، تاکہ میں اس کو استعال کر سکوں تو وہ رقم قرض ہونے کی وجہ سے واپس کرنا لازم ہوتی ہے، نیز اگر کوئی شخص امانت رکھوائی ہوئی رقم کو اپنے استعمال میں لا تا ہے، پھر جب اس کے پاس اپنی رقم آتی ہے، تو وہ اپنی رقم اس امانت کی جگہ پر رکھ دیتا ہے، تو اس صورت میں امانت کی رقم ضائع یا چوری ہونے کی صورت میں امین اس رقم کو ادا کرنے کا ضامن ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں بکر کے مالک نے زید سے 1290400 روپے کی رقم بطور قرض لے کر اپنے پاس رکھی تھی، تو اب چھاپہ پڑنے کی وجہ سے ضائع ہونے کے بعد بھی بکر کے مالک پر وہ رقم ادا کرنا لازم ہے۔
نیز چوں کہ بکر اپنے مالک کا وکیل ہے اور اسی کے سارے معاملات وہی دیکھتا ہے، جب کہ اس سے پہلے بھی زید بکر کے ساتھ اس طرح کے معاملات کرتا رہتا ہے، اس لیے دوسرے اور تیسرے دن جو رقم بکر کو دی گئی تھی، اور بکر کے مالک نے وہ رقم اپنے کسی کام میں استعمال کر لی تھی، اور اس کے پاس کہیں سے وہ رقم آنے پر دوبارہ وہ رقم امانت کے طور پر رکھ دی تھی، تو بکر کا مالک اس رقم کی ادائیگی کا بھی ضامن ہو گا۔
البتہ اگر دوسرے اور تیسرے دن والی رقم بکر کے مالک نے بطور قرض نہیں لی تھی، اور وہ رقم اس نے اپنے کسی کام میں استعمال بھی نہیں کی تھی، اور امانت کہہ کر لی تھی تو چھاپے کی وجہ سے دوسرے اور تیسرے دن والی جو رقم ضائع ہوئی بکر کا مالک اس کا ضامن نہیں ہو گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها: أنه إذا ضاعت في يد المودع بغير صنعه لا يضمن، لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: ليس على المستعير غير المغل الضمان ولا على المستودع غير المغل الضمان؛ ولأن يده يد المالك، فالهلاك في يده كالهلاك في يد المالك."
(کتاب الودیعۃ، فصل في بيان حال الوديعة، ج:8، ص:363، ط: دار الکتب)
المحیط البرہانی میں ہے:
"إذا كانت الوديعة دراهم، فاختلط بدراهم المودع على وجه تيسر التمييز لا يصير المخلوط مشتركا بينهما، فإن اختلطت على وجه تعذر التمييز صار المخلوط مشتركا بينهما."
(کتاب الودیعۃ، الفصل العاشر في المتفرقات، ج:5، ص:549، ط: دار الکتب)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
"(وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر (بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف مجتبى (ضمنها) لاستهلاكه بالخلط."
(کتاب الایداع، ج:5، ص:668، ط: سعید)
ردالمحتار میں ہے:
"(قوله لا تتميز) فلو كان يمكن الوصول إليه على وجه التيسير كخلط الجوز باللوز والدراهم السود بالبيض فإنه لا ينقطع حق المالك إجماعا، واستفيد منه أن المراد بعدم التمييز عدمه على وجه التيسير لا عدم إمكانه مطلقا."
(کتاب الایداع، ج:5، ص:669، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

