بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار سال سے شوہر سے جدا عورت پر عدت کا حکم اور عدت میں رشتہ کرنا

سوال

جو عورت چار سال سے شوہر سے الگ ہو، اس دوران شوہر کی وفات ہوجاتی ہے تو کیا اس عورت پر عدت گزارنا لازم ہے؟ مزید یہ کہ کیا اس دوران کسی دوسری جگہ اس کے نئے رشتے کی بات چل سکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر طلاق، خلع ہوئے بغیر  مذکورہ خاتون شوہر سے الگ رہتی تھی، توشوہر کے انتقال کے بعد عدت گزارنا لازم ہوگا، جس کی مدت چار ماہ دس دن یعنی 130 دن ہے، عدت کے دوران مذکورہ خاتون کے رشتہ طے کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص اس عورت سے نکاح کی خواہش رکھتا ہو تو بند الفاظ میں اس کے اظہار کی اجازت ہوگی، جسے قرآن مجید میں ”تعریض“ سے تعبیر کیا ہے ، لیکن نکاح کا پیغام یا رشتہ بھیجنے کی اجازت  عدت مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگی۔

سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہے:
"وَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ ‌خِطْبَةِ ‌النِّساءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلكِنْ لا تُواعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَاّ أَنْ تَقُولُوا قَوْلاً مَعْرُوفاً وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ (235)".

ترجمہ:  اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا جو اِن مذکورہ عورتوں کو (جو کہ عدتِ وفات میں ہیں)  پیغام (نکاح) دینے کے بارے میں کوئی بات اشارةً کہو یا اپنے دل میں (آئندہ  نکاح کرلینے کے ارادہ کو) پوشیدہ رکھو اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا (ضرور) ذکرِ مذکور کرو گے لیکن ان سے (صاف لفظوں میں) نکاح کا وعدہ ( اور گفتگو) مت کرو مگر یہ کہ کوئی بات قاعدے کے موافق کہو اور تم تعلق نکاح کا (فی الحال) ارادہ بھی مت کرو یہاں تک کہ عدتِ مقررہ اپنی ختم کو پہنچ جاوے اور یقین رکھو اس کا کہ اللہ تعالیٰ کو اطلاع ہے تمہارے دلوں کی بات کی سو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور(یہ بھی)  یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ معاف بھی کرنے والے ہیں حلیم بھی ہیں۔ (از بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"وقال ابن عباس التعريض بالخطبة أن يقول لها إني أريد أن أتزوج امرأة من أمرها وأمرها يعرض لها بالقول وقال الحسن هو أن يقول لها إني بك لمعجب وإني فيك لراغب ولا تفوتينا نفسك

وقال النبي صلى الله عليه وسلم لفاطمة بنت قيس وهي في العدة لا تفوتينا نفسك ثم خطبها بعد انقضاء العدة على أسامة بن زيد... فكان التعريض أن يتكلم بكلام يدل فحواه على رغبته فيها ولا يخطبها بصريح القول".

(‌‌‌‌أحكام سورة البقرة، باب التعريض بالخطبة في العدة، 2/ 128، ط: دار إحياء التراث العربي)

الدر المختار میں ہے:

"(والمعتدة) أي معتدة كانت عيني،...(تحرم خطبتها) بالكسر وتضم (وصح ‌التعريض) كأريد التزوج (لو معتدة الوفاة) لا المطلقة إجماعا لإفضائه إلى عداوة المطلق".

وفي الرد:

"(قوله: وصح التعريض) خلاف التصريح. قال القهستاني: والتحقيق أن التعريض هو أن يقصد من اللفظ معناه حقيقة، أو مجازا، أو كناية، ومن السياق معناه معرضا به، فالموضوع له والمعرض به كلاهما مقصودان لكن لم يستعمل اللفظ في المعرض به، كقول السائل جئتك لأسلم عليك، فيقصد من اللفظ السلام ومن السياق طلب شيء. (قوله: كأريد التزوج) وأخرج البيهقي عن سعيد بن جبير - إلا أن تقولوا قولا معروفا - قال: يقول: إني فيك لراغب، وإني لأرجو أن نجتمع، وليس في هذا تصريح بالتزويج والنكاح، ونحوه: إنك لجميلة، أو صالحة فتح.

وفيه رد على ما في البدائع من أنه لا يقول: أرجو أن نجتمع وإنك لجميلة إذ لا يحل لأحد أن يشافه أجنبية به اهـ ووجه الرد أن هذا تفسير مأثور وأقره مشايخ المذهب كصاحب الهداية وغيره. ووجهه أنه من التعريض المأذون فيه لإرادة التزوج، ومنعه هو الممنوع فإنه لو خاطب أجنبية بصريح التزوج والنكاح على وجه الخطبة يجوز حيث لا مانع منه فالتعريض أولى

(‌‌كتاب الطلاق‌‌، باب العدة، فصل في الإحداد،3/ 533، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الذي يجب أصلا بنفسه فهو عدة الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234] ، وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها، سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها، وسواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض؛ لعموم قوله - عز وجل - {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234]".

(كتاب الطلاق، فصل:وأما عدة الأشهر، 3/ 192، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102090
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں