ضیمل نام رکھنے کا حکم
سوال
کیا ضیمل نام رکھنا درست ہے؟ اس کا معنی کیا ہے؟
جواب
لفظ "ضیمل" کا معنی ہمیں نہیں مل سکا۔
ناموں کے سلسلے میں بہتر اور پسندیدہ یہ ہے کہ بچوں کےنام انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور صلحاء کے نام پر ، اور بچیوں کے نام صحابیات رضی اللہ عنہن اور برگزیدہ خواتین کے ناموں پر رکھے جائیں، یا کم از کم ایسےنام رکھے جائیں جوعربی معنی کے لحاظ سے واضح اور درست ہوں۔
نیز ہماری ویب سائٹ پر ناموں کی فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے موجود ہے، اس سے بھی استفادہ کیاجاسکتا ہے، اس کا لنک درج ذیل ہے :
مشکاۃ المصابیح میں ہے :
"عن أبي وهب الجشمي رضی اللہ عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تسموا أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن وأصدقها حارث وهمام أقبحها حرب ومرة» . رواه أبو داود"
(باب الأسامی، رقم الحديث: 4782، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 409، ط: قدیمی)
ترجمہ :"حضرت ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انبیاء کے ناموں پر نام رکھو۔ اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ ناموں میں سے "عبداللہ" اور "عبدالرحمٰن" ہے، اور مصداق کے اعتبار سے سب سے سچے نام "حارث" اور "ہمام" ہیں۔ اور سب سے برے نام "حرب" اور "مرہ" ہیں۔ "
لسان العرب میں ہے:
"ثم تركت همزته لكثرة الاستعمال فقيل ملك، فلما جمعوه ردوها إليه فقالوا ملائكة وملائك أيضا"
(حرف الکاف، فصل المیم، ج: 10، ص: 496، ط: دار صادر)
حسن التنبہ لما ورد في التشبہ میں ہے:
"ينبغي التسمية بأسماء الصالحين تفاؤلاً، وتحسين التسمية بتغيير الاسم القبيح؛ فالاسم الحسن سنة معروفة روى الإمام أحمد، وابن أبي شيبة، ومسلم، والترمذي عن المغيرة ابن شعبة رضي الله تعالى عنه قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى نجران، فقالوا: إنكم تقرؤون: يا اخت هارون وبين موسى وعيسى ما شاء الله من السنين، فلم أدر ما أجيبهم به حتى رجعت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنهم كانوا يسمون بأنبيائهم، والصالحين قبلهم. وروى ابن عساكر عن علي رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من قوم يكون فيهم رجل صالح فيموت فيخلف فيهم مولود فيسمونه باسمه إلا خلفهم الله تعالى بالحسنى. وعن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اطلبوا الخير عند حسان الوجوه، وتسموا بخياركم، وإذا أتاكم كريم قوم فأكرموه."
(القسم الأول، باب التشبه بالصالحين رضي الله عنهم، ج: 2 ، ص: 566 ، ط : دار النوادر)
رد المحتار میں ہے:
"[تتمة] التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل"
(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 417، ط: سعيد)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

