بینک یا اس کے ریجنل آفس میں ملازمت کرنے اور اس پر تنخواہ لینے کا حکم
سوال
بینک یا بینک کے ریجنل آفس میں ملازمت اور اس پر ملنے والی تنخواہ کا کیا حکم ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ بینک کا بنیادی کام سودی لین دین کا ہے۔ ہر وہ شخص جو سودی لین دین سے وابستہ ہے، نبی کریم ﷺ نے اس پر لعنت فرمائی ہے، چونکہ بینک کے ملازمین سودی نظام کو چلانے میں براہِ راست معاون بنتے ہیں، اس لیے بینک میں کسی بھی قسم کی ملازمت کرنا جائز نہیں، اور اس کی تنخواہ بھی حلال نہیں؛ اس لیے کہ بینک اپنے ملازمین کو جو تنخواہ دیتا ہے وہ اسی حرام آمدنی سے تنخواہ دیتا ہے۔لہٰذا ملازمین حلال ذریعۂ معاش تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہیں، اور جب کوئی متبادل حلال ذریعۂ معاش مل جائے تو بینک کی ملازمت چھوڑ دیں۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ." [سورة البقرة: 275]
ترجمہ: ۔ "حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کر دیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہو چکا ہے وہ اس کا رہا اور (باطنی ) معاملہ اس کا خدا کے حوالے رہا اور جو شخص پھر عود کر لے تو یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔"
(مظاہر حق، سورۃ البقرۃ، آیت: 275، ج: 1، ص: 198، ط: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
"وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ." [سورة المائدة: 2]
ترجمہ: "اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو بلا شبہ اللہ تعالی سخت سزا دینے والے ہیں۔"
(تفسير بيان القرآن، سورة المائدة: 2، ج: 1، ص: 444، ط: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
تیسری جگہ ارشاد ہے:
"وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً. وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً ." [سورة الطلاق: 2-3]
ترجمہ: "اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ( مضرتوں سے ) نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ تعالی اس ( کی اصلاح مہمات ) کے لئے کافی ہے اللہ تعالیٰ اپنا کام ( جس طرح چاہے ) پورا کر کے رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر شے کا ایک اندازہ اپنے علم میں مقرر کر رکھا ہے ۔"
(تفسیر بیان القرآن، سورة الطلاق: 2-3، ج: 3، ص: 563، ط: مکتبہ رحمانیہ لاہور)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم."
(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ج: 2، ص: 855، ط: المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے پر اور اس کےگواہوں پر سب ہی پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سب (اصل گناہ میں) برابر ہیں (اگرچہ مقدار کے اعتبار سے مختلف ہوں)۔ (مسلم)"
(خرید و فروخت کا بیان، سود كا بيان، ج: 3، ص: 66-67، ط: دار الاشاعت کراچی)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
."ثم بين شدة الحرمة في الربا بقوله: الآخذ والمعطي والكاتب والشاهد فيه سواء أي في المأثم، وهو نظير ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم «لعن الله في الخمر عشرة»، وقال صلى الله عليه وسلم «الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم» والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2]."
(كتاب الصرف، ج: 14، ص: 8، ط: دار المعرفة بيروت)
مجمع الانہر في شرح ملتقى الابحر میں ہے:
"لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء، والنوح، والملاهي) ؛ لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه. "
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج: 2، ص: 384، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

