بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

احرام میں واجب صدقہ حرم کے علاوہ ادا کرنے کا حکم

سوال

احرام میں واجب صدقہ حدود حرم میں دینا ضروری ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں احرام کی حالت میں جو  صدقہ واجب هوجائے اسے  حدود حرم میں دینا لازم نہیں ہے ، بلکہ کسی اور جگہ بھی دے سکتے ہیں ، البتہ حرم کے فقراء کو دینا افضل ہے ۔

البحرا لرائق میں ہے :

"وأطلق في التصدق والصوم فأفاد أن له التصدق في غير الحرم، وفيه على غير أهله. قال: في المحيط والتصدق على فقراء مكة أفضل، وإنما لم يتقيد بالحرم لإطلاق النص بخلاف الذبح".

(کتاب الحج ،باب الجنایات فی الحج ،ج:3،ص:15، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804102026
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں