شوہر، ایک بیٹے اور بیٹی میں ترکے کی تقسیم کا طریقہ
سوال
میری والدہ کا انتقال ہوا، ان کے وارثوں میں شوہر، ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، مرحومہ کے والدین کا انتقال ان سے پہلے ہی ہو گیا تھا، سوال یہ ہے کہ مرحومہ کی میراث مذکورہ وارثوں میں کیسے تقسیم ہوگی؟ نیز کیا میراث میں ہر چیز تقسیم ہوگی؟ جیسے سونے کے زیورات وغیرہ یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں آپ کی والدہ کی میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اگر ان کے ذمے کوئی قرضہ ہو تو سب سے پہلے اس کو ادا کیا جائے، پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکے میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد کل ترکے کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد شوہر کو ایک حصہ، بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
مرحومہ والدہ 4
| شوہر | بیٹا | بیٹی |
| 1 | 2 | 1 |
یعنی: فیصد کے اعتبار سے 25 فیصدشوہرکو، 50فیصد بیٹے کو اور 25 فیصد بیٹی کو ملے گا۔
آپ کی والدہ مرحومہ کی ملکیت میں جتنی بھی اشیاء ہیں وہ ساری اشیاءمیراث میں تقسیم ہوں گی، خواہ وہ سونا چاندی کی شکل میں ہو یا کسی دوسری شکل میں۔
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

