بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھنووں کی معتاد بناوٹ کے علاوہ ماتھے پر اگ آنے والے زائد بالوں کو ویکس کے ذریعے ختم کروانے کا حکم

سوال

میری اصل بھنویں پہلے سے گھنی تھیں،مجھے اُن سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، مگر ہارمونز کی خرابی کی وجہ سے میرے سارے جسم پر مردوں کی طرح زائد بال ہیں، اور اسی طرح ایک دو سال سے میری  بھنووں کے اوپر اوپر اور  زائد بال اگے جا رہے ہیں ،میرے ماتھے اور بھنووں کے درمیان اور بھنووں کے کناروں والی سائڈ سےمحض آدھی انچ کا فاصلہ ہے،یہ بال بہت سیاہ ہیں جو کہ برے لگتےہیں ۔

 تو کیا میں ویکس سے صرف ماتھے کے زائد بال صاف کر سکتی ہوں،  جب کہ  میری بھنوؤں کی اصل شکل نہ خراب کریں؟

وضاحت:یہ بال ایک سال پہلے ہی آئے ہیں اور ان کی وجہ سے یہ عورتوں کی معتاد بھنوؤں کی طرح نہیں لگتے ،  نیز بھنووں کے اوپر اوپر بال آتے جارہے ہیں ، اس طرح کہ ماتھے اور بھنووں کے کناروں پر اتنے بال آچکے ہیں کہ  سر کی طرف سے پیشانی والے بالوں اور بھنووں کے اوپر اگنے والے بالوں کی وجہ سے  تفریق ختم ہونے کے قریب ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ  کی بھنووں سے اوپر اگ آنے والے وہ  زائد بال  جو کہ اصل  بھنووں کی عام بناوٹ سے  زائد ہیں اور دیکھنے میں بدنما معلوم ہوتے ہوں تو (ازالۂ عیب کے لیے ) ان کو  ویکس کے ذریعے ختم کر کے عام  بھنووں  کی ساخت کے  مطابق   معتدل کر سکتی ہیں۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء.  وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس/ج:6/ صفحه:373/ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101906
تاریخ13-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں