بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کے وقت آئندہ قرض ملنے کی امید پر اصل رقم سے زائد دینے کا حکم

سوال

میں نے ایک جاننے والے سے متعین مدت کے لیے کچھ رقم بطورِ قرض لی۔ قرض دیتے وقت زائد رقم دینے کی کوئی شرط یا مطالبہ نہیں تھا، البتہ مدت پوری ہونے سے پہلے میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں اصل رقم سے کچھ زائد رقم واپس کروں، تاکہ آئندہ ضرورت کے وقت وہ مجھے قرض دینے پر آمادہ رہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس طرح اصل قرض سے زائد رقم واپس کرنا جائز ہے؟ یا یہ زائد رقم سود کے حکم میں ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے لین دین میں اصل قرض سے بڑھ کر زائد رقم کی ادائیگی کا پابند کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، البتہ قرض کی واپسی کے وقت اپنی خوشی سے کچھ زائد واپس کرنا مستحسن ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی یہی تھا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرض لیتے وقت زائد رقم کی واپسی کی شرط نہ لگائی گئی ہو اور قرض دینے والے نے اس کا مطالبہ بھی نہ کیا ہو، تو سائل کے لیے قرض واپس کرتے ہوئے اپنی مرضی سے اصل رقم کے ساتھ کچھ زائد رقم دینا جائز ہوگا، سائل کا یہ عمل سود کے حکم میں نہیں آئے گا، باقی دل میں یہ نیت نہ کرےکہ زائد رقم اس لیے دے رہا ہوں  تا کہ آئندہ ضرورت کے وقت وہ مجھے قرض دینے پر آمادہ رہے کیوں کہ اس صورت میں رشوت کا شبہ ہو سکتا ہے۔

البتہ اگر آگے چل کر آپ دونوں کے درمیان یہ طریقہ معروف ہو جائے کہ قرض کی واپسی پر زائد رقم ادا کی جائے گی اور قرض اسی توقع پر دیا جانے لگے، تو اس زیادتی کے لین دین سے احتراز کرنا ضروری ہوگا۔

صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان لرجل على النبي صلى الله عليه وسلم سن من الإبل، فجاءه يتقاضاه، فقال: أعطوه، فطلبوا سنه فلم يجدوا له إلا سنا فوقها، فقال: أعطوه، فقال: أوفيتني أوفى الله بك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن خياركم أحسنكم قضاء."

(کتاب الوکالة، باب وكالة الشاهد والغائب، رقم الحدیث: 2305، ج:3، ص:99، ط: السلطانیۃ)

ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک خاص عمر کا اونٹ واجب تھا۔ وہ اپنا حق مانگنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دے دو۔ صحابہ نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا تو اس سے بڑی عمر کا اونٹ ہی ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی دے دو۔ اس شخص نے کہا: آپ نے مجھے میرا حق پورا دیا، اللہ آپ کو پورا بدلہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہترین وہ لوگ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں۔

صحیح مسلم میں ہے:
"عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خيارا رباعيا، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاء."

(کتاب البیوع، باب من استسلف شيئا فقضى خيرا منه، ج:5، ص:54، ط: دار الطباعۃ العامرۃ)

ترجمہ:
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ قرض لیا۔ پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے ابو رافع کو حکم دیا کہ اس شخص کا جوان اونٹ ادا کر دیں۔ ابو رافع نے واپس آکر عرض کیا: مجھے ان میں صرف عمدہ رباعی اونٹ ہی ملا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی اسے دے دو، بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:
"قالوا: وإنما يحل ذلك عند عدم الشرط؛ إذا لم يكن فيه عرف ظاهر، أما إذا كان يعرف أنه فعل ذلك لأجل القرض فالتحرز عنه أولى؛ لأن المعروف كالمشروط."

وفیہ ایضاً:
"ولم يكن مشروطا، ولا مطلوبا."

(کتاب الصرف، باب القرض والصرف فيه، ج:14، ص:36، ط: دار المعرفة)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ... قلت: وحاصله أن القرض إذا جر نفعا مشروطا حرم، وإن لم يكن مشروطا فلا بأس به."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5، ص:166، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وفي المنتقى: أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى: أنه إذا أقرضه دراهم فقضاه أجود منها بغير شرط فلا بأس به، وإن كان بشرط فهو ربا."

(کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض، ج:3، ص:202، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101868
تاریخ11-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں