بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا بلاکسی وجہ کے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنا

سوال

اگر خاندان کی غلط فہمیوں کو مدِ نظر رکھ کر لڑکی اپنے والد یا والدہ کے اصرار پر خلع چاہے اور مرد طلاق نہ دینا چاہے، تو لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے شرعی حکم کیاہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  شوہر اپنی بیوی کے حقوق (نان، نفقہ اور رہائش وغیرہ) تو مکمل ادا کر رہا ہے، اس میں کوتاہی نہیں کرتا ہے، اس کے باوجود بیوی اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی  ، اور بلا کسی شرعی وجہ کے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ عورت  کا خلع کا  مطالبہ کرنا از روئے شرع ناجائز ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک   حدیث میں ہے: ”جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“

لہٰذا مذکورہ عورت  کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ کر اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے،  بلاوجہ  کسی شرعی وجہ کے طلاق یا خلع کا مطالبہ نہ کرے۔

نیز اس صورت میں شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے خلع کے مطالبے کی اصل وجہ معلوم کرے، یعنی جس بات کی وجہ سےخلع کی نوبت پیش آ رہی ہے، اس کو معلوم کر کے حل کرنے کی کوشش کرے، اگر شوہر کے لیے مسئلے کا حل ممکن نہیں تو خاندان کے بڑوں کو بھی مسئلے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے کہ وہ اس کی کوئی بہتر صورت نکال سکیں، اور طلاق یا خلع کی نوبت نہ آئے۔

نیز واضح رہے کہ ایسی صورت میں (جب کہ شوہر بیوی کے تمام حقوق ادا کر رہا ہو) اگر عورت یک طرفہ خلع حاصل کر لے، جس میں شوہر کی زبانی یا تحریری رضامندی شامل نہ ہو، تو شرعاً ایسا خلع معتبر نہیں ہوتا۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

''عن ثوبان قال:" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما ‌امرأة ‌سألت ‌زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي."

ترجمہ:'' حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا"جو عورت اپنے خاوند سے بلاضرورت طلاق مانگےاس پر جنت کی بو حرام ہوگی۔ "(مظاہر حق)

(كتاب النكاح ،باب الخلع والطلاق،ج:2،ص، 978،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

فقط واللہ علم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101858
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں