بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرکت میں سال کے دوران سرمایہ دار بدلیں تو نفع کی تقسیم کیسے کریں؟

سوال

آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے شراکت داری کے متعلق سوال کیا تھا، جس کا جواب فتوی نمبر144707101006 میں مجھے مل گیا تھا،تاہم ایک بات کے متعلق پوچھنا ہے کہ ہمارے اس معاملہ میں ہم سال کے آخر میں کل نفع کو بارہ مہینوں پر تقسیم کردیتے ہیں، جس سے ہر ایک ماہ کا نفع سامنے آجاتا ہے، پھر جس سرمایہ دار کا نفع جتنے دن کاروبار میں رہا ہوتا ہے اس کے حساب سے اس کو نفع دیا جاتا ہے۔اس طریقہ کو monthy average basis کا طریقہ کہتے ہیں۔ 
اس طریقہ میں یہ امکان موجود رہتا ہے کہ ایورج نفع کے مقابلہ میں اس ماہ کا نفع زیادہ ہو یا کم ہو یا سرے سے اس ماہ نفع ہی نہ ہوا ہو۔ مثلا سال میں 1200 روپے نفع ہوا تو یہ تصور کیا جائے گا کہ ہر ماہ 100 روپے نفع ہوا ہے۔ اب جن جن سرمائے دار کا پہلے 3 ماہ سرمایہ ہمارے پاس رہا ہوگا ان کو 300 روپے کے حساب سے نفع دیا جائے گا اور باقی 9 ماہ میں جن کا سرمایہ رہا ہوگا ان کو 900 روپے کے حساب سے۔ حالانکہ حقیقی نفع کے حساب سے اس 1200 میں سے 1000 روپے پہلے تین ماہ کا نفع ہے اور صرف 200 روپے باقی 9 ماہ کا نفع ہے۔کیا اس طرح کرنا درست ہے؟

جواب

اگر کاروبار میں تمام سرمایہ کار پورے سال مسلسل شریک نہ رہتے ہوں، بلکہ بعض کا سرمایہ ابتدائی مہینوں میں اور بعض کا بعد کے مہینوں میں شامل رہتا ہو اورساتھ ہی  مختلف مہینوں میں حاصل ہونے والا حقیقی نفع بھی یکساں نہ ہو، مثلاً پہلے تین ماہ میں 1000 روپے اور باقی نو ماہ میں صرف 200 روپے نفع ہو، تو ایسی صورت میں محض Monthly Average Basis (ماہانہ اوسط نفع) کے ذریعے نفع تقسیم کرنا شرعاً درست نہیں؛ کیونکہ اس سے بعض سرمایہ کاروں کو ان کے حقیقی استحقاق سے زیادہ نفع مل سکتا ہے اور بعد میں شامل ہونے والے سرمایہ کار کو ایسے نفع میں حصہ مل سکتا ہے جس کے حصول کے وقت اس کا سرمایہ کاروبار میں شامل نہیں تھا۔ اس طرح نفع کی تقسیم میں ناانصافی اور دوسروں کے مال کو ناحق طور پر لینے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا نفع کی تقسیم سرمایہ کی مدتِ شرکت اور اس دوران حاصل ہونے والے حقیقی نفع کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:

"(فما يستحقه أحدهما من الزيادة في مال صاحبه ربح ما لم يضمن) ش: وما لم يملك، وذلك لا يجوز۔"

(كتاب الشركة، ج: 7، ص: 389، ط: دار الكتب العلمية)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"يشترط أن تكون حصة الربح الذي سيقسم بين الشركاء جزءا شائعا۔۔۔۔وبتعبير آخر يجب أن لا يكون في تعيين الربح حال يقطع الشركة۔۔۔۔ثانيا: أن يكون شائعا، فلذلك إذا اتفق على أن يكون لأحد الشركاء كذا درهما مقطوعا كمائة درهم من الربح وأن يكون باقيه كاملا للآخر أو مشتركا تكون الشركة باطلة ويقسم الربح على الوجه المبين في المادة (1368) لأنه من الجائز أن يحصل ربح أكثر من الربح الذي عين مقطوعا ويحرم الشريك الآخر من الربح بالكلية فتنقطع الشركة في هذا الحال۔"

(كتاب العاشر الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل الثالث في بيان شروط الخاصة بشركتة الأموال، ج: 3، ص: 352، ط: دار الجيل)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144804101851
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں