طلاق کے بعد رشتہ داروں سے میل جول ختم کرنے پر مجبور کرنے کا شرعی حکم
سوال
میرے بھائی نے اپنی بیٹی (یعنی: میری بھتیجی) کی شادی ہمارے سگے ماموں زاد سے کی تھی، تنازعات کی وجہ سے شادی نہ چل سکی اور طلاق ہو گئی، بھتیجی باہر پڑھنے چلی گئی، اب میرے بھائی اور اس کے گھر والے ہمیں اور باقی بہن بھائیوں کو پابند کر رہے ہیں کہ ماموں کے گھر والوں سے میل ملاپ اور سلام دعا نہ رکھو، بصورت دیگر وہ ہم سے تعلق ختم کر دیں گے اس صورت میں شریعت کیا کہتی ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ماموں زاد سے ہوئی تھی، پھر باہمی تنازعات کی وجہ سے طلاق ہوگئی، تو اس بناء پر آپ کے بھائی اور ان کے گھر والوں کاآپ کو اور دیگر بہن بھائیوں کو ماموں کے گھر والوں سے تعلقات ختم کرنے پر مجبور کرنا، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں خود تعلق ختم کرنے کی دھمکی دینا شرعاً درست نہیں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قرابت دار کو اس کا حق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور حدیث شریف میں وعید آئی ہے کہ قطع تعلق کرنے والا جنت میں داخل ہونے سے محروم ہوگا۔
لہٰذا آپ اپنے بھائی کو ادب و احترام اور حکمت سے سمجھائیں، اور ماموں کے گھر والوں کے ساتھ حسبِ استطاعت سلام دعا اور حسنِ سلوک کا تعلق قائم رکھیں۔
جامع البيان(تفسیرطبری) میں ہے:
"الْقَوْلُ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ} [الروم: 38] يَقُولُ تَعَالَى ذِكْرُهُ لِنَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِ يَا مُحَمَّدُ ذَا الْقَرَابَةِ مِنْكَ حَقَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الصِّلَةِ وَالْبِرِّ، وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ، مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُمَا فِي ذَلِكَ."
(الْقَوْلُ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ}، ج:18، ص:502، ط:دارهجر للطباعة والنشر)
صحیح مسلم میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الرحم معلقة بالعرش تقول: من وصلني وصله اللہ ومن قطعني قطعه اللہ."
(باب صلةالرحم، وتحريم قطيعتھا من کتاب البر والصلة والآداب، ج:1، ش:1981، ط: دار إحياء الکتب العربية)
ترجمه:" میدانِ محشر میں رحم (جو رشتہ داری کی بنیاد ہے) عرشِ خداوندی پکڑکر یہ کہے گا کہ جس نے مجھے (دُنیا میں) جوڑے رکھا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے جوڑے گا (یعنی اُس کے ساتھ انعام وکرم کا معاملہ ہوگا) اور جس نے مجھے (دُنیا میں) کاٹا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے کاٹ کر رکھ دے گا (یعنی اُس کو عذاب ہوگا)"۔
مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف."
(كتاب الإمارة والقضاء، الفصل الأول، ج: 6، ص: 1086، ط: دار الفكر، بيروت)
”حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاگناہ کے کام میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو صرف نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہے۔ “
صحیح البخاری میں ہے:
"أن محمد بن جبير بن مطعم قال: إن جبير بن مطعم أخبره: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (لا يدخل الجنة قاطع)."
(کتاب الأدب، باب إثم القاطع، 5/ 2231/ 5638، ط: دارالیمامة، دمشق)
ترجمہ:"محمد بن جبیر بن مطعم نے فرمایا کہ مجھے اپنے والد نےخبر دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشتہ داری توڑنے والا جنت میں نہیں جائےگا۔"
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

